تن بہ تقدیر

intelligent086

Active Member


تن بہ تقدیر



اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم

جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

'تن بہ تقدیر' ہے آج ان کے عمل کا انداز

تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

تھا جو 'ناخوب، بتدریج وہی ' خوب' ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
 
Top