کیوں نکالا گیا

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
3,784
2,478
513


کیوں نکالا گیا

تُو پوچھتا ہے تجھے ایسے کیوں نکالا گیا
تمہارا جرم فضاؤں میں کیوں اچھالا گیا
ترا غرور عدالت میں کیسے ٹالا گیا
تمہارے جھوٹ کے سینے میں کس کا بھالا گیا

بتا دوں تجھ کو درندے تمہارے دانتوں سے
مرے غریب کسانوں کا خوں ٹپکتا ہے
تمہارا دستِ ستم تاڑ تاڑ کر ظالم
مرے بچے کھچے گھر بار پر جھپٹتا ہے

مرے اثاثوں کو جس طرح تُو نے لوٹا ہے
تجھے پتہ ہے کہ دل کتنی بار ٹوٹا ہے
میں خود کشی کے عوض تم سے روٹی مانگتا تھا
دھواں شکم کا مری بے بسی سے پھوٹا ہے

تمہارے پنجوں میں مزدور کا جگر تڑپا
کہیں پہ بیٹا کہیں باپ بے اثر تڑپا

بتاؤں کس طرح تُو نے ہمارے بچوں سے
نوالے چھین کے کتوں کے منہ میں ڈالے ہیں
تمہارے مکر ہوس انتشار کے باعث
ہمارے ہونٹوں پہ تالے دلوں پہ چھالے ہیں

ہماری بھوک کا باعث تمہارا معدہ ہے
کہ جو نگر کا نگر ٹھونس کے نہیں بھرتا
تو سازشوں سے لیے اقتدار کی خاطر
غضب خدا کا کسی کفر سے نہیں ڈرتا

تمہارا راج مری مفلسی کا باعث ہے
تمہارا سایہ نحوست کا کوئی سایہ ہے

تو پوچھتا ہے تجھے ایسے کیوں نکالا ہے

تجھے نکالا گیا اس لیے کہ اک تُو نے
تمام قوم کو مقروض کر کے مارا ہے
کمیشنوں کی غلاظت ہڑپ کری تُو نے
وطن کے سینے میں نیزا سدا اتارا ہے

تُو میرے ملک کے غدار سے جڑا ہوا ہے
تُو میرے دشمنِ خونخوار سے جڑا ہوا ہے
جو بے ضمیروں کے ٹولوں کو پال رکھتا ہے
تُو ایسے ٹی وی سے اخبار سے جڑا ہوا ہے

جو ارد گرد ترے غول ہیں درندوں کے
یہ میری دھرتی کے ہر اک چمن پہ قابض ہیں
یہ بھیڑیے مرے سارے وطن پہ قابض ہیں

ہے کھا گیا مری سب بیٹیوں کا داج بھی تُو
نگل گیا ہے مرا کل بھی میرا آج بھی تُو

صحافیوں کو لفافوں پہ ڈالنے والے
بریف کیسوں کا تُو نے رواج ڈالا ہے
ترے شعور پہ کرسی کا ہے فتور فقط
دل و دماغ پہ بس ڈالروں کا جالا ہے
تمہارے بچے پلیں لطفِ عیش و عشرت میں
اور ہم نے درد بڑی مشکلوں سے پالا ہے

تُو اب بھی پوچھتا ہے تجھ کو کیوں نکالا ہے


فرحت عباس شاہ

 

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
3,713
4,103
213
~Dasht e Tanhaayi~


کیوں نکالا گیا

تُو پوچھتا ہے تجھے ایسے کیوں نکالا گیا
تمہارا جرم فضاؤں میں کیوں اچھالا گیا
ترا غرور عدالت میں کیسے ٹالا گیا
تمہارے جھوٹ کے سینے میں کس کا بھالا گیا

بتا دوں تجھ کو درندے تمہارے دانتوں سے
مرے غریب کسانوں کا خوں ٹپکتا ہے
تمہارا دستِ ستم تاڑ تاڑ کر ظالم
مرے بچے کھچے گھر بار پر جھپٹتا ہے

مرے اثاثوں کو جس طرح تُو نے لوٹا ہے
تجھے پتہ ہے کہ دل کتنی بار ٹوٹا ہے
میں خود کشی کے عوض تم سے روٹی مانگتا تھا
دھواں شکم کا مری بے بسی سے پھوٹا ہے

تمہارے پنجوں میں مزدور کا جگر تڑپا
کہیں پہ بیٹا کہیں باپ بے اثر تڑپا

بتاؤں کس طرح تُو نے ہمارے بچوں سے
نوالے چھین کے کتوں کے منہ میں ڈالے ہیں
تمہارے مکر ہوس انتشار کے باعث
ہمارے ہونٹوں پہ تالے دلوں پہ چھالے ہیں

ہماری بھوک کا باعث تمہارا معدہ ہے
کہ جو نگر کا نگر ٹھونس کے نہیں بھرتا
تو سازشوں سے لیے اقتدار کی خاطر
غضب خدا کا کسی کفر سے نہیں ڈرتا

تمہارا راج مری مفلسی کا باعث ہے
تمہارا سایہ نحوست کا کوئی سایہ ہے

تو پوچھتا ہے تجھے ایسے کیوں نکالا ہے

تجھے نکالا گیا اس لیے کہ اک تُو نے
تمام قوم کو مقروض کر کے مارا ہے
کمیشنوں کی غلاظت ہڑپ کری تُو نے
وطن کے سینے میں نیزا سدا اتارا ہے

تُو میرے ملک کے غدار سے جڑا ہوا ہے
تُو میرے دشمنِ خونخوار سے جڑا ہوا ہے
جو بے ضمیروں کے ٹولوں کو پال رکھتا ہے
تُو ایسے ٹی وی سے اخبار سے جڑا ہوا ہے

جو ارد گرد ترے غول ہیں درندوں کے
یہ میری دھرتی کے ہر اک چمن پہ قابض ہیں
یہ بھیڑیے مرے سارے وطن پہ قابض ہیں

ہے کھا گیا مری سب بیٹیوں کا داج بھی تُو
نگل گیا ہے مرا کل بھی میرا آج بھی تُو

صحافیوں کو لفافوں پہ ڈالنے والے
بریف کیسوں کا تُو نے رواج ڈالا ہے
ترے شعور پہ کرسی کا ہے فتور فقط
دل و دماغ پہ بس ڈالروں کا جالا ہے
تمہارے بچے پلیں لطفِ عیش و عشرت میں
اور ہم نے درد بڑی مشکلوں سے پالا ہے

تُو اب بھی پوچھتا ہے تجھ کو کیوں نکالا ہے


فرحت عباس شاہ

hmaarey dil ki bt..:(
khoob share kijiye isey..
 
  • Like
Reactions: ROHAAN
Top
Forgot your password?