"کیا کررہی ہو؟"

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
2,359
1,825
513


اس رات گیارہ بج کر پچپن منٹ پر بستر پر نیم دراز ہوتے ہمیشہ کی طرح عادتا میں نے اس کے نمبر پر ٹیکسٹ چھوڑا
"کیا کررہی ہو؟"
اس میں ایک بات ابھی بھی اچھی تھی وہ انتظار نہیں کرواتی تھی اس رات بھی سیکنڈ بدلنے سے پہلے اس نے مجھے رپلائے کیا
"صبح آٹھ بجے مری جانا ہے آوٹنگ پہ پیکنگ ہورہی ہے"
پھر دو تین ٹیکسٹ کے بعد رابطہ ہمیشہ کی طرح منقطع ہوگیا اور میں مری کے پوائنٹس گوگل پہ سرچ کرنے لگا، مری کا ذکر آتے ہی اچانک میرے ذہن میں ایک خیال سا کوندا، جس پر یقین کی مہر لگا کر میں روم لائٹ آف کرکے پرسکون سا سوگیا
صبح چار بجے میری آنکھ کھلی تو میں نے فریش ہونے کے بعد ایک ہینڈ بیگ تیار کیا، اور خود کی آئینے میں فائنل لک دیکھی، ڈارک بلیو جینز پر ریڈ شرٹ کیساتھ براون جیکٹ پہنے میں بلکل ریڈی تھا
جتنا وقت اسے اپنے شہر سے مری پہنچنے میں لگتا مجھے اپنے شہر سے اس وقت کا دوگنا زیادہ فاصلہ طے کرنا تھا، اسلئے میں نے چار بجے کا انتخاب کیا
مری جانے کیلئے میں نے اپنی بلیک پجارو کا انتخاب کیا،
جس وقت میں مری پہنچا دن کے ساڑھے دس بج رہے تھے، پجارو سے نکلا تو مجھے مری کی برف زار پہاڑیوں کیساتھ یخ بستہ ہواوں نے ویلکم کیا،
گو کہ میں جانتا تھا اب تک وہ مری پہنچ چکی ہوگی تصدیق کیلئے میں نے اس کے نمبر پر اپنا پیغام بھیجا
"اور، پہنچ گئے تسی مری؟"
وہی فورا سے رپلائے آیا
"الحمداللہ"
میں اسے بتا سکتا تھا کہ میں اسوقت مری اسے دیکھنے آیا ہوں، مگر میں نے سوچا اسے ڈھونڈ کر سرپرائز کروں گا اور پھر اسکی آنکھوں میں ان فیلنگز کو دیکھوں گا جسے وہ لفظوں سے کور کرلیتی تھی،
دو گھنٹے برف کی دبیز تہوں پر چلتے، اسے ڈھونڈتے ٹانگیں اب شل ہونے کو تھیں،
ایک چیز مس ہوئی مجھ سے میں اس سے یہ پوچھنا بھول گیا تھا کہ اس کا ظاہری حلیہ کیسا ہوگا؟
اب مجھے ندیدوں کی طرح ہر اس لڑکی کو دیکھنا تھا جو عبایا میں موجود تھی،ان دس سالوں میں اتنا تو میں جان گیا تھا، وہ مری آنے کیلئے بھی عبایا کا انتخاب ہی کرے گی
میں مزید کچھ گھنٹے اسے ڈھونڈنے میں لگا سکتا تھا مگر اگر یہ میں کر گزرتا تو بےوقوفی ہوتی میری، زندگی ہمیں بار بار موقع نہیں دیتی، کہ ہم اپنی سانسیں اکھٹی کرسکیں، میں نے اسے اچانک سے سرپرائز کرنے کے اپنے ارادوں پر مٹی ڈالی اور اس کے نمبر پر ٹیکسٹ کیا
"مجھے مری کی وہ لوکیشن سینڈ کرو جہاں تم اس وقت کھڑی ہو"
وہی جھٹ سے رپلائے آیا
"بس....کچھ گھنٹے ڈھونڈنے پہ تھک گئے ہو؟
میں چونکا مگر اگلا ٹیکسٹ مجھے برف کی طرح جما گیا
"ڈارک بلیو جینز پہ ریڈ شرٹ کیساتھ براون جیکٹ، تمہاری نمونوں جیسی ڈریسنگ بدلی نہیں"
اور میں پاگل ہی تو ہو اٹھا تھا،آخر کیا تھا اس لڑکی میں ہر بار اللہ کے سامنے مجھ سے پہلے پہنچ جاتی تھی
میں نے ڈولتی سانسوں کیساتھ گرتی برف کی اوٹ سے اپنے چاروں سمت دیوانوں کی طرح دیکھا، سفید برف پر رنگ برنگے انسانوں کے جھرمٹ ایسے جیسے کسی آرٹ گیلری میں لٹکی کوئی پینٹنگ
اس بھیڑ میں اسے کیسے تلاشتا میں، مگر اسی بھیڑ سے اس نے بھی تو مجھے ڈھونڈ لیا تھا، تو کیا میری چاہت ابھی بھی اس کی چاہت سے آگے نہیں بڑھ پائی تھی؟
سورج مری کے پہاڑوں پر آنے سے معذرت کرچکا تھا، ایک چاند تھا جو دھڑلے سے آ نکلتا تھا، اور مجھے بس چاند کے آنے کا ہی ڈر تھا، مجھے اس چاند کے آنے سے پہلے اسے ڈھونڈنا تھا، ورنہ ممکن تھا کالی رات کے سیاہ گھور اندھیرے میری قسمت میں لکھ دئیے جاتے
میں نے ہار مانی اور سیل فون پر پڑی برف کی بالز کو جھاڑ کر ٹیکسٹ ٹائپ کیا
میں نے آج بھی کئی بار کی طرح اسکی منت کی
" رحم کرو مجھ پر، مجھے دکھائی دو"
شاید وہ کھلکھلائی تھی جس کی گواہی آسمان سے گرتی بارش کی ننھی سی بوند نے دی تھی
"ارے دیکھو تو، شاہ زادہ، ایک فقیرن سے رحم کی التجاء کررہا ہے"
اس طنز پر اذیت کی چھری نے میرے وجود کو کاٹا تو میری آنکھوں میں نمی تیرنے لگی_
آنکھیں بند کرکے میں نے اس نمی کو حلق تک پہنچایا، اور اس بار اس کے سامنے برسوں پہلے جیسا رویہ اختیار کیا_
"نہیں بتانا تو مت بتاو مگر پھر اس کے بعد اسی برف تلے میری قبر بنا کر واپس جانا"
میری دھمکی کارگر تو ثابت ہوئی مگر بدگمانیاں اپنی جگہ موجود تھیں
"لاہور کے شاہی قلعے میں بنی میری محبت کی قبر کا یہ حق ہے کہ مری کی سفید برف بھی ایک قبر چاہتی ہے"
وہ بےرحم نہیں تھی اسے میں نے بنایا تھا
میں نے اس کے تلخ لفظوں کا اثر زائل کرنے کو آنکھیں بند کیں کہ اس خوشبو نے میری سانسوں پہ حملہ کیا، "Eternal Love"
مجھے یاد ہے اس نے بتایا تھا وہ یہ خوشبو استعمال کرتی ہے، اس نے کہا تھا
"پتا ہے شاہ پہلے میں "Eternal Love" استعمال کرتی تھی، اور آج میں تمہاری "Double Diamond" خرید کر لائی ہوں، میں ان دونوں خوشبووں کو ملا کر یوز کرونگی تاکہ میری اور تمہاری خوشبو ایک ہوسکے"
ابھی میں خوشبو سے نہیں نکل پایا تھا کہ اس کی آواز نے میری سماعت سے ٹکرائی
"محبت کے سچے تو خوشبووں کو محسوس کرلیتے ہیں شاہ، افسوس
تم محبت میں بھی سچے ثابت نا ہوسکے"
وہ میری محبت کا مذاق اڑارہی تھی، اسے حق تھا وہ وہی کررہی تھی جو میں نے اسکے ساتھ کیا تھا
خوشبو کے بعد آواز نے میری حسیات برف میں برف کی طرح جما دی تھیں، ہوش میں آتے ہی میں نے آواز کی سمت رخ کیا مگر
مگر وہ پھر ان رنگ برنگی پینٹنگز میں کھو گئی تھی، جتنا میں نے اسے تڑپایا تھا ، وہ آج سارے بدلے لے رہی تھی، جو بھی تھا بہت اذیت تھی
مجھے جب محسوس ہوا کہ میں ہار گیا ہوں تو میری ٹانگوں سے جان نکلتی گئی، گھٹنوں کے بل برف کی چادر پر سر جھکائے میں کچھ دیر اور اپنی ہارنے کا رنج کرتا سیل پر اسکے لکھے حروف نے مجھے زندگی کی نوید دی
"پیچھے پلٹ کر دیکھو..... ریلنگ پر جھکی واحد لڑکی وہی ہے جو کبھی تمہاری مبتظر ہوتی تھی جس کے تم آج منتظر ہو،"
میں جھٹ سے پلٹا، اور میری نظر رخ موڑے کھڑی لڑکی پر پڑی، میں اپنی ناہموار سانسوں کو ترتیب دیتا اس کی جانب بڑھا،جب اس نے ایک اور عنایت کی مجھ پر اب وہ رخ میری طرف کئے میری جانب چلتے برف پر پاوں بناتی جارہی تھی،
یخ بستہ ہوا آنکھوں میں دھندلاہٹ لانے لگی تھیں،
اس کے اور میرے بیچ چند قدموں کے فاصلے پر میں رکا اور اپنے ہاتھوں سے برف کی چادر کو چیر کر اس کیلئے دل بنایا ، اس سے پہلے کے وہ دل تک پہنچتی میں نے دل کے خانے میں "جان شاہ" لکھا، میں گھٹنوں کے بل دل کے قریب بیٹھا اس کی نظر کرم کا منتظر
وہ دل کے آغاز پر ٹھہری، مجھے لگا میری معافی کا وقت ہوا چاہتا ہے، مگر
پھر میں نے اس کے قدموں کو دل کے آغاز سے دل کے اختتام تک چلتے دیکھا، کاغذ پر لکھے جان شاہ کے حروف کو آنکھوں سے لگانے والی آج انہیں پیروں سے کچل گئی تھی، میری خوش فہمی اس طرح اڑی جیسے وقت مری کے آسمان پر برف کی گولیاں اڑ رہی تھیں،
وہ میرے ہاتھوں سے بنائے دل کو اپنے پیروں سے روند گئی تھی
میرے آنسو برف کی چادر پر برف بنتے گئے
میرا جرم اتنی آسانی سے معاف ہونے والا نہیں تھا، میں اٹھ بیٹھا تو مجھے محسوس ہوا وہ ابھی تک یہیں کھڑی ہے، میرا رخ مغرب کی جانب تھا اسکا رخ مشرق کی سمت
پھر اس نے بولنا شروع کیا
"تمہیں پتا ہے شاہ مجھے نفرت ہے ایسے لوگوں سے جو کسی کی خاموش محبت کو جھنجھوڑ کر ان سے اپنی محبت کے قصیدے پڑھواتے رہیں، پھر جب ان کی محبت کا تماشا دنیا دیکھ لیتی ہے تو محبت پر انکی تھوک دیا جاتا ہے"
تمہیں پتا ہے شاہ میں نے اللہ سے منت کی تھی کہ شاہ زادے کو فقیرن سے محبت نہیں عشق ہوجائے، اور جب وہ اس کے عشق میں فنا ہونے لگے تو اسے اسکی قبر کے سامنے لاکھڑا کرنا اور اسے وہ تختی دکھانا جس پر لکھا گیا تھا
"شاہ زادی! یہ تیرا حق تھا کہ تجھے شاہ ملے"
تم نے شاہ زادی سے اس کا حق چھینا، تو آج شاہ زادی تمہارے لئے نہیں رہی"
"شاہ میں کہتی تھی نا تمہاری بےپروائیاں میری شریانوں میں خون کیساتھ مکس ہونے لگیں ہیں؟"
اس نے میری ٹھنڈی ہتھیلی تھام کر کچھ پیپرز میرے ہاتھ پر رکھے اور کہنے لگیوہ سیاہ کاغذ رکھا ہے جو ساری عمر تمہیں میرے دکھ میں نڈھال رکھے گا"
"اور پتا ہے شاہ، میری آخری خواہش بھی یہی تھی کہ میں تمہیں کبھی اپنے لئے روتا دیکھوں، اور آج میں دیکھ رہی ہوں"
نقاب سے جھانکتی اسکی پتھر آنکھیں بےحسی کے دہانے پر تھیں
"شاہ زادہ، فقیرن کیلئے باقی کی ساری عمر روئے گا مگر بےس ."
اس نے نقاب اتارا اب وہ مسکرا رہی تھی، مسکراتے مسکراتے پھر وہ رونے لگی، وہ سسکیاں جو میں فون پر سن کر اکتا جاتا تھا آج ایسے میں مجھے اسکی سسکیاں اذیت بن کر ڈسنے لگی تھیں
اس نے اپنے ٹھنڈے کپکپاتے ہاتھوں سے میرے ہاتھ کو تھاما اور ان سے اپنے گالوں پر بہے آنسو پونچھے اور کہنے لگی
"میں چاہتی تھی کہ میرے آنسو تمہاری ہتھیلی میں جذب ہوں"
پھر اچانک اس نے میری جیکٹ کو کالر سے گرا کر اپنی پیشانی میری شرٹ پر دل کی جگہ پر رکھ دی، میں سن ہوچکا تھا، اب میری شرٹ اس کے آنسووں سے بھیگنے لگی روتے روتے ہی وہ بولی
"تم جانتے تھے نا شاہ میری خواہش تمہارے کرتے میں اپنے آنسو جذب کرنے کی تھی؟
مجھ سے دور ہٹ کر مجھے کہنے لگی، تم نے تو مجھے ساری زندگی خالی ہاتھ ہی رکھا مگر شاہ میں تمہیں اتنا کچھ دے کر جارہی ہوں کہ تمہیں کسی شے کی خواہش نہیں رہے گی"
الٹے قدموں پیچھے پلٹتے ساکت آنکھوں پر جمے آنسووں کیساتھ وہ کہے گئی
"ہاں وہ ایسا ہی تھا کہ اسے دیکھ کر آج بھی قافلے راہ بھول جاتے تھے،
وہ بھی راہ بھول گئی تھی"
میں اسے روکنا چاہتا تھا مگر قدموں کیساتھ میری آواز بھی جم سی گئی تھی، میری نظروں نے اسے گاڑی تک بیٹھ کر گیٹ لاک ہوجانے تک دیکھا
میں نے ہاتھ میں پڑے لفافے کو کھولنا چاہا تو اس میں سے سیاہ دھاگہ جھانکتا نظر آیا
اب اس کی گاڑی حرکت میں آچکی تھی جبکہ اسکی نظریں ابھی بھی مجھ پر جمی تھیں
سیاہ دھاگے کو مٹھی میں بند کرکے میں نے لفافہ پر لکھی تحریر پڑھنی شروع کی
لیکن یہ تحریر کسی ہاسپٹل کی فائنل رپورٹس تھیں،
میرے ہاتھ میں کاغذ لرزا، اور پھر زمین پر جاگرا
اسکے بلڈ کینسر کی آخری زندگی کے اٹھارہ دن باقی تھے
میں پاگلوں کی طرح اس کی گاڑی کے پیچھے بھاگا، میرے ہاتھوں نے گاڑی کی ہیڈ لائٹ کو چھوا
میرے قدم گاڑی کی اسپیڈ کا مقابلہ نا کرسکے، میں لڑکھڑاتے ہوئے مری کے ٹھنڈے فرش پر گرا
مری کے پہاڑوں سے لیکر برف زاروں کے چپے چپے نے سنا تھا، شاہ زادہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کے رویا تھا
مری میں تفریح کے غرض سے آئے لوگوں نے ایک مرد کو ایک عورت کیلئے روتے دیکھا تھا، اپنی جاگتی آنکھوں سے،
وہ ان کمیاب مردوں میں سے تھا جو کسی عورت کیلئے رویا
تھا
قبر پر روتے رہنے سے سکھ پاو گے
تم نے کتنی دیر لگا دی شہزادے۔
 
  • Like
Reactions: WHITEPEARL
Top
Forgot your password?