کہاں گئی انسانیت ، کشمیریت اور جمہوریت؟ تحریر : ڈاکٹر ایم اے صوفی

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
کہاں گئی انسانیت ، کشمیریت اور جمہوریت؟
تحریر : ڈاکٹر ایم اے صوفی

115146


115147


بھارتی مقبوضہ کشمیر 1947ء سے لے کر آج تک سلگ رہا ہے،چھ لاکھ فوج ہندوستان کی چھ لاکھ وحشی فوج کشمیر کے معصوم انسانوں کا خون بہارہی ہے اور ساری دُنیا کی آنکھیں بند ہیں یا سیاہ عینکیں لگا رکھی ہیں۔




بھارتی حکومت سب کو نکال کر وہاں نسل کشی کرنا چاہتی ہے:سید علی گیلانی

بھارت عالمی معاہدوں کو صرف کلبھوشن پر نافذکرنا چاہتا ہے ورنہ سو سے زائد ممالک کلسٹر بموں کو انسانیت سوز بم قرار دے چکے ہیں



بھارت کے کالے کرتوں میں ایک اوراضافہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نا ہے، بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔اب اسے دو حصوںمیں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔





گزشتہ چند ہفتوں میں مزید ایک لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر بھجوا دی گئی ہے،ان فوجی دستوں میں ’’ریپڈ ڈیپلائمنٹ ‘‘فوج بھی شامل ہے۔ان ایک سو کمپنیوں میں50کمپنیاں سی آر پی ایف کی تھیں جبکہ باقی فوج جدید ترین لڑائی کے لئے مخصوص ہے۔جس میں 30کمپنیاں شاترہ سیمابل (SSB)اوردس کمپنیاں ’’انڈو تبت بارڈر پولیس‘‘کی بھی شامل ہیں۔ یہ وہی فورس ہے جسے سابقہ مشرقی پاکستان میں دہشت گردی کا ’’فریضہ‘‘ سونپا گیا تھا۔اسی فورس نے مکتی باہنی کھڑی کرنے میں مدد دی تھی اور اسی کے جوان سابقہ مشرقی پاکستان میں گھس کر تخریب کاری میں مدد دیتے تھے۔ ابھی حال ہی میں ایک بھارتی مصنف نے اپنی کتاب میںسابقہ مشرقی پاکستان میںخفیہ جنگ اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے۔3اگست کوبی ایس ایف 1990کے بعد پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں داخل کر دی گئی۔پیر پنچل اور وادی چناب کے دلنشیں پہاڑوں میں بھاری بوٹوں کی چاپیں سنائی دینے لگیں۔نئے فوجی دستوں نے مقبوضہ کشمیر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا ہے، تما م اہم شاہراہوں پر بھاری تعداد میں فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ جو ہر کسی کو آنے جانے سے روک رہے ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر کوئی کشمیر میں داخل ہو سکتا ہے نہ نکل سکتا ہے۔ فوجی دستے ایک ایک کار کی تلاشی لے رہے ہیں۔ مختلف ریاستوں سے کئی لاکھ شہری مقبوضہ کشمیر میں عارضی ملازمتوں کے لئے جاتے ہیں ان کو بھی فوری طور پر نکال دیا گیا ہے ۔دوسری ریاستوں سے کشمیر میں زیر تعلیم طلباء بھی اپنی ریاستی حکومت کی مدد سے وہاں سے نکل گئے ہیں۔بھارتی حکومت نے تمام سیاحوں،مزدوروں اور طلبا ء کو نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔کہاں گئی انسانیت ، کشمیریت اور جمہوریت؟ برطانیہ، آسٹریلیا ،ہانگ کانگ سمیت کئی مغربی اور ایشیائی ممالک نے اپنے سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کا مشورہ دے دیا ہے۔بھارتی سکیورٹی فورسز نے سیاحوں اور ہندو یاتریوں کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کی صورتحال خطرناک ہے یاترا فوراًروک دی جائے۔انہوں نے کہاکہ انہیں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ امرناتھ یاترا پر دہشت گرد حملہ کریں گے۔دراصل اس یاتراکے پس منظر میں بھی ایک بڑی خفیہ کہانی پنہاں تھی۔ انڈین رہنمائوں نے تین لاکھ یاتریوں کی آڑ میںوہاں ترنگا لہرانے کا منصوبہ بنایا تھا،بھارتی حکومت یاتریوں سے ترنگا لہرانا چاہتی تھی۔ نریندر مودی کی یہ خواہش بھی تھی کہ اپنے یوم آزادی کے موقع پر دہلی میں یہ خبر بھی سنائیں کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک کو کمزور کر دیا ہے مگر وہ ایسا نہ کر سکے ۔اس بات کا اعتراف تین اگست کووشواہندو پریشد کے متنازعہ رہنماسادوھی پراچی (Sadhvi Prachi) نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ امر ناتھ یاترا کے موقع پر ترنگا لہرانے سے روک دیا گیا ہے۔انہوں نے بھی یہ اعتراف کیا کہ ’’نظر آ رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی اہم قدم اٹھایا جانے والا ہے کیونکہ گزشتہ کافی عرصے سے وہاںیوم آزادی کے موقع پر ترنگا لہرانے کی تیاریاں جاری تھیں اسے کسی خاص وجہ سے ہی منسوخ کیا گیا ہوگا‘‘ ۔


دراصل ترنگا(بھارتی پرچم) لہرانے کا خواب خوف میں بدل کر اپنی موت آپ مر گیا۔کیونکہ اسی کو لے کر مقبوضہ کشمیر میں آگ بھڑک اٹھی جس پر دہلی کے حکم پرسب کچھ منسوخ کر کے یاتریوں کو فوراََ نکالنے میں ہی عافیت جانی۔ چند سو سرکاری ٹیلی فون لائنوں کے سوا تمام ٹیلی فون خاموش ہیں، انٹر نیٹ سروس بند پڑی ہے ۔ پٹرول اور کھانے پینے کی اشیاء کی کمی واقع ہو گئی ہے، لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں۔اے ٹی ایم پر رش لگ گیا جس سے ان مشینوں میں کیش ختم ہو گیا یا رکھا نہیں گیا جس سے کولوگوں کے لئے ضروریات زندگی کی خریداری مشکل ہو گئی ہے۔کشمیری رہنما مسلسل بھارتی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ا یسا کچھ کرنے سے گریز کرے جس سے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہو جائے اور پھر صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔ایسے پیغامات مسلسل بھیجے جا رہے ہیں لیکن بھارتی حکومت کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہے۔ وہ دہشت گردی کی آڑ میں لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی لگا چکی ہے، کئی علاقوں میں کرفیو لگا کر لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔گھر گھر تلاشی کا عمل جاری ہے۔اس کے باوجود گورنر ستیہ پال کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں کچھ بھی نہیں ہونے والا عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔ لوگ ان سے سوال کر رہے ہیں کہ اگر کچھ بھی نہیں ہونے والاتو پھریہ کہہ کر امرناتھ یاترا کیوں منسوخ کی گئی کہ سکیورٹی کی حالت اچھی نہیں ،کوئی حملہ ہو سکتا ہے؟۔گورنر نے دراصل دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ ہی عرصے قبل پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ پیش کش دوبارہ بھی دہرائی۔ مگر بھارت نے دونوں مرتبہ مسترد کر دی ہے۔


ہراسمنٹ پیدا کرنے کا مقصد حاصل ہو گیا ہے،کشمیر کا تمام عالمی ممالک سے رابطہ کٹ چکا ہے ۔ اب بھارت وہاں سیاہ کرے یا سفید ،دنیا بے خبر رہے گی۔اب مقبوضہ کشمیر تنہا ہے،وہاں جو کچھ بھی ہو گا اس کی کسی کو خبر نہیں ہو گی۔اس کا ہلکا سا اشارہ سید علی گیلانی نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ بھارتی حکومت وہاں نسل کشی کرنے والی ہے۔اب وہاں کی ڈیوموگرافی تبدیل ہو گی۔بڑے پیمانے پر قتل عام سے پہلے مقبوضہ کشمیر دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔


ان سرگرمیوں کا آغازچند ہفتے قبل تمام مساجد سے سکیورٹی کی واپسی کے بعد ہوا۔ بھارتی حکومت نے سب سے پہلے عبادت گاہوںاور دینی مراکز کی سکیورٹی کے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیئے۔خاص طور پر جنوبی علاقے میں قائم عدالتوں کی سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔ان تما م جوانوں کو پولیس لائن میں رپورٹ کرنے کا حکم ملا ۔اس سے مقبوضہ کشمیر میں سلامتی کی صورتحال خوفناک ہو گئی ۔عدالتیں بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں۔کٹھ پتلی حکومت نے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی نظر بند کر دیا ہے ، انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت کچھ ’’بہت بڑا‘‘ کرنے والی ہے۔انہوں نے تمام اختلافات کو بھلا کر آل پارٹی کانفرنس بلائی تھی جس کی صدارت فاروق عبداللہ نے کی ۔ اس کانفرنس نے بھی مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی بھارتی مہم جوئی کو مستقبل کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے آئین میں کسی قسم کی ترمیم کو بھی مسترد کردیا۔کشمیری رہنمائوں نے تمام علاقائی جماعتوں سے بھی اختلافات بھلا کر کشمیر کاز کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔جس پر عمل ہو رہا ہے۔


ان اقدامات کے بعد یہ بات شدت سے کہی جا رہی کہ بھارتی حکومت اپنے آئین کے آرٹیکل35اے یا 370میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔آرٹیکل 35اے اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ یہ کشمیریوں کو ان کی زمین کا حق دیتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے علاوہ نہ کوئی زمین خرید سکتا ہے اور نہ ہی مستقل نوکری کر سکتا ہے۔اس کے تحت کشمیریوں کووظائف اور قرضوں کے حصول میں بھی فوقیت حاصل ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ ان سہولتوں کا فائدہ چند طاقتور لوگ اٹھا رہے ہیں ۔لیکن ایسا نہیں ہے۔ بھارت دراصل وہاں یہ حق ختم کر کے بڑے پیمانے پر پنڈتوں کو آباد کر کے وہاں کی ڈیموگرافی بدلنا چاہتا ہے۔جیسا کہ وہ بھارتی پنجاب کے ساتھ کرچکا ہے ۔جس کے حصے بخرے کر کے اس نے خالصتان تحریک کو ہی کمزور کر دیا۔اب یہی تجربہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھی کرنا چاہتا ہے۔کہا جاتا تھا کہ اس آئینی شق کے خاتمے کے اعلان کے لیے 15اگست کی تاریخ طے ہے ، نریندر مودی اپنے یوم آزادی کے خطاب میں اس شق کی تنسیخ یا اس میں رد و بدل کا اعلان کریں گے لیکن یہ کر دیا گیا۔


ایک اور بھی منصوبہ منظرعام پر آیا ، کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں نئی انتظامی حد بندیاں اسی لئے کی گئی تھیں کی اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ بھارت آئینی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے پر بھی غور کر رہا تھا اب اسے دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ مگر ان میں سے کسی ایک ترمیم کا فیصلہ بھی بھارتی حکومت نہیں کر سکتی یہ کام صرف کشمیر اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔


مسئلہ کشمیر کی وجوہات


کشمیرکی وجہ سے بھارت کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں ہو چکی ہیں۔چوتھی کے لئے بھارت پر تول رہا ہے۔آزاد کشمیر میں کلسٹربم چلاکر اس نے اپنی بوکھلاہٹ کا ثبوت دیا ہے ۔وہ کلبھوشن جیسے بڑے حاضر سروس جاسوس کے لئے تو جنیوا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگ رہا ہے مگر وہ یہ بھول گیا ہے کہ جنیوا میں ہی ہونے والے ایک بڑے معاہدہ کے تحت کلسٹر بم غیر انسانی قرار دے کران کا استعمال بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔یکم اگست 2010کو نافذ ہونے والے (The Convention on Cluster Munitions (CCM))کے تحت ان بموں کا ستعمال روک دیا گیا ہے ۔ سو سے زائد ممالک ان بموں کو انسانیت سوز بم قرار دے چکے ہیں۔


کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اورشہ رگ کے بغیرزندگی میسّرنہیں ہوتی۔ اس وقت ہندوستان کی پولیس،سول انتظامیہ سمیت سب شعبے کشمیر کے مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہندو سازش اور انگریز کی مکاری کا آپ اندازہ لگا لیں۔ جنرل گریسی کمانڈر انچیف آف پاکستان آرمی نے قائدِاعظم ؒکا حکم کشمیر میں پاکستانی فوج کے بھیجنے کا نہ مانا کیوںکہ ہندو اور انگریز کا خفیہ فیصلہ یہ تھا کہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنا ہے اور جھوٹے طریقے سے قبضہ کرنا ہے۔ اب بھارت کی آبادی اِتنی بڑھ گئی ہے کہ دُنیا کی آبادی کا1/6 حصہ بھارت میںہے۔ اس کا رقبہ 3.29 ملین مربع کلو میٹر ہے مگر اس میں 160 ملین مسلمان اور نچلی ذات کے لوگ بے انصافی کاشکار ہیں۔ بھارت کے برہمن اورصاحبِ اقتدار طبقے نے صدیوں سے کم ذات والوں کو برابر کا درجہ نہیں دیا۔ اب ان کو ہریجن کہتے ہیں۔یہ خطاب ایک گجراتی بھگت ناراشیما مہتہ نے دیا تھا جو بعد میں گاندھی نے قبول کِیا۔ ہریجن ہو یا مسلمان ہو وہ کمتر ہیں، برہمن کے مقابلہ میں نہیں آسکتے۔ یہ دونوں گروہ برہمن کے قریب کسی صورت میں نہیں ہوسکتے۔ برہمن رہنما ہو سکتا ہے، بادشاہ بن سکتا ہے،مگر چھوٹی ذات والا یہ خطاب حاصل نہیں کرسکتا۔ نکولس نے اپنی کتاب’’ہندوستان کا فیصلہ‘‘(Verdict of India) میں تحریرکِیا کہ ہندوستان کی ذات پات اتنی قدیم ہے جتنے کہ پہاڑ۔ چھوٹی ذات والے کو مارنا، ان کا گھر جلانا، ان کی مذہبی عبادت گاہ مسمارکرنا، زیارتیں اور مقدس مقامات ختم کرنا، مسلمانوں کے بیوی بچے جلانا، جان سے مارنا اور ان کی عورتوں کی بے حرمتی سب برہمن کے لیے جائز ہے۔ اسی وجہ سے قائدِاعظمؒ نے کہا تھا کہ ہم ایک علیحدہ قوم ہیں، ہمارا ایک خدا ہے، سب مسلمان برابر ہیں اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس کو پاکستان میں شامل ہونا ہے ہم اس بات پر عمل کریں گے۔ ہم کشمیر کے مسلمانوں کو ہندوئوں کی غلامی سے نجات دلوائیں گے۔

 

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
ہری سنگھ کیا چاہتا تھا اور بھارت نے کیا کیا؟


بھارت کی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کے لیے ریاست کے ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کی طرف سے الحاق کی درخواست کو بہانہ بنایا گیا، حالانکہ ڈوگرہ ہری سنگھ الحاق نہیں کرنا چاہتاتھا مگر کانگریس نے کشمیر پر قبضے کا منصوبہ شروع ہی سے بنا رکھا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے شیخ عبداللہ کو جون1939ء میں تیّار کِیا کہ وہ مسلم کانفرنس کے بجائے نیشنل کانفرنس کا قیام عمل میں لائے چناںچہ کشمیری نیشنلزم،سیکولرازم کی بنیاد پر ہندوئوں کے تعاون سے نیشنل کانفرنس کی بنیاد پڑی اور اس وقت سے مسلم قومیت کے علمبرداروں اور اسلام پسند لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کشمیر کے مسلمان جن کا تعلق اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ سے ہے، لڑ رہے ہیں۔ ہزاروں ہجرت کر کے پاکستان اور آزاد کشمیر میں پناہ گزین ہوئے ہیں،بے شمار قتل ہوئے۔ اس طرح آہستہ آہستہ کشمیرکی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔حالانکہ ریاست جموںو کشمیر کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 19جولائی1947ء کو پاکستان کے ساتھ ریاست کے غیر مشروط الحاق کی قرار داد منظور کی تھی اور اس طرح مہاراجا ہری سنگھ اور بھارت پر واضح کر دیا تھاکہ جموں و کشمیر کے ریاستی عوام کیا چاہتے ہیں۔ ہری سنگھ کو معلوم ہے کہ لوگوں کے جذبات کیاہیں؟لیکن ڈوگرہ راج نے مصنوعی طور پر اپنا الحاق بھارت سے کر دیا۔ بھارت نے گورداسپور کے راستہ فوجیں کشمیر روانہ کر دیں۔ ادھر مجاہدین اور کشمیر کے لوگوں نے آزادی کی خاطرقدم بڑھانے شروع کردِیے اور مجاہدین اورآزاد کشمیر کی آرمی نے کافی حصہ آزاد کروا لیا۔





ہری سنگھ اور بھارت کے معاہدے کے بارے میں نیا انکشاف


جموں و کشمیر کے پہلے گورنر کرن سنگھ ، ہری سنگھ اور بھارتی حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے کے بارے میں بہت زیادہ جانتے ہیں۔ ہری سنگھ کی اولاد ہونے کے ناطے انسٹومنٹ آف ایکسیشن کے بارے میں ان سے زیادہ کوئی واقف نہیں۔


کرن سنگھ 30مارچ 1965ء کو جموں و کشمیر کے گورنر بنے اور تقریباً دوسال بعد 15مئی 1967کو فارغ کر دئیے گئے۔ گزشتہ دنوں ان کے بارے میں غیر ملکی میڈیا نے ایک تفصیلی مضمون میں زبردست انکشافات کیے۔ مضمون کا عنوان تھا ’’کرن سنگھ ،وہ شخص جو کشمیر کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے‘‘ ان کے والد ہری سنگھ انہیں ٹائیگر کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ وہ 20جون 1949ء سے جموں وکشمیر میں ویجنٹ کے عہدے پربھی تعینات تھے اور پھر 17نومبر 1952ء سے 30مارچ 1965ء تک جموں و کشمیر اسمبلی کے منتخب سربراہ تھے اور 30مارچ کو وہ گورنر بنے۔ کرن سنگھ فیوڈل اور بھارتی نام نہاد جمہوریت کے مابین آخری نشانی اور معاہدے کے بارے میں ایک ایک لفظ سے واقف ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے باپ ہری سنگھ کے پلان کوبھی اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہری سنگھ نے اپنی دستاویزات کے تحت مقبوضہ کشمیر کو کبھی بھی بھارت کے تسلط میں نہیں دیا تھا۔ کچھ معاملات کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے تھا اس لیے انہوں نے الحاق کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ تاہم اس کا مقصد سیاسی آئینی معاملات کا تحفظ کرنا تھا۔ کرن سنگھ کے مطابق ان کے باپ نے مقبوضہ کشمیر میں دفاع ، خارجہ امور اور مواصلات بھارت کے حوالے کیے تھے اور پھر اس بات کی یقین دہانی بھی حاصل کی تھی کہ اس کاحتمی فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ہی کر ے گی۔ اس بارے میں مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا گیا تھا ، پنڈت نہرو اور شاستری بھی جموں و کشمیر کے معاملات میں دلچسپی لے رہے تھے۔ میرے دستخطوں سے 26فروری 1957ء کو کچھ قوانین نافذ ہوئے۔ اور اب آرٹیکل 370اور 35Aکو جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ اسمبلی تو اب ہے نہیں اسی لیے یہ معاملہ ایسے ہی رہے گا۔


انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے باپ مہاراجہ ہری سنگھ مقبوضہ کشمیر میں موروثی سلطنت کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔ دستاویزات الحاق میں ایسی شق بھی موجود تھی، جس کے تحت کشمیری نظام حکومت کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک منفرد ریاست ہے اور یہ قیام پاکستان کے وقت فرانس سے بھی بڑی ریاست تھی۔ اب جموں و کشمیر اور لداخ کے نام سے تین یونٹ قائم ہیں لیکن اختیارات کے حوالے سے تینوں میں ایک جیسی صورتحال نہیں ۔ کشمیری عوام کے غموں اور دکھوں کا ذمہ دار کون ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نہرو کی موت کے بعد سیٹلمنٹ کے مندرجات سے کوئی بھارتی حکمران واقف نہ تھا۔ آنے والے حکمرانوں نے غلط معاہدے کیے۔ حتیٰ کہ انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کو بھی غلط اقدامات کرنے کاذمہ داری ٹھہریا۔


خوف و ہراس کیسے پیدا ہوا


بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں یکم جولائی کو امر ناتھ یاترا کیلئے 3لاکھ یاتریوں کو تیار کیا۔ جن کا مقصد یاترا سے زیادہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنتا پارٹی کے موقف کوزندہ کرنا اور کشمیر میں جگہ جگہ ترنگا (بھارتی پرچم) لہرانا تھا۔ مذہب کی آڑ میں یہ گھنائونی سیاست کرنا چاہتا تھا مگر بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ کشمیری نوجوانوں کو اس کی بھنک پڑ گئی کہ امر ناتھ یاترا کے نام پر دو کام ہوں گے اول یہ کہ شاید یہ یاتری واپس نہ جائیں وہیں بس جائیں کیونکہ ان کی یاترا تقریباً تین ماہ جاری رہنا تھی اس مدت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 35-Aمیں ترمیم کر کے انہیں جائیدادیں خریدنے کا حق دے دیتے ۔ نوکریاں بھی مل جاتیں اور مکانات بھی خرید لیتے جس سے کشمیر کی ڈیمو گرافک پوزیشن تبدیل ہو جاتی ۔ بھارت ماضی میں بھی ایسا کرتا رہا ہے اور ان پر اسی لیے ماضی میں بھی متعدد حملے ہوئے۔ درجنوں مارے گئے اور اس سے بھی کہیں زیادہ اس برفانی چوٹی تک پہنچنے میں وہی کہیں دفن ہو گئے۔ ان کی موت کی ذمہ داری بھی کشمیری نوجوانوں پر ڈال کر ان کا قتل عام کیا گیا ۔


اسی استثنیٰ میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکوں کی افواہ اڑا دی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سیکرٹری داخلہ Shaleen Kabraنے یاتریوں کو فوری طور پر وادی سے نکلنے کا حکم دیا۔ ’’جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائو ، تازہ ترین خفیہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے حملے ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ 45روزہ یاترا کو معطل کرتے ہوئے سبھی بوریا بستر سمیٹ کر کشمیر سے بھاگ نکلے اور ان کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔ وادی میں خوف و ہراس پیدا کرنا دراصل مودی سرکاری کی دانستہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو خوف زدہ کر کے ان کے انخلاء کو یقینی بنانا اور مقبوضہ کشمیر میں ہندو توا پرعملددرآمد اسی صورت میں ممکن ہے کہ کشمیری وہاں سے نکل جائیں اور ان کی جگہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو آباد کر دیا جائے ۔ رام مندر کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ ایودھیہ میں مسلمانوں کی عظیم الشان بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے بھی اسی طرح کی افواہیں پھیلائی گئی تھیں اور پھر رام مندر آرڈیننس کے اجراء سے پہلے بھی افواہوں کا بازار گرم کیا گیا تھا۔ ورنہ یہاں ماضی میں دوسری ریاستوں کے شہریوں ، سیاحوں اور مزدوروں کو اس طرح سے نکلنے کی کبھی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ مودی سرکاری کو یہا ں ووٹ بینک کی کوئی پروا نہیں کیونکہ ایک بھی کشمیری ان کے ساتھ نہیں۔ یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ اس مرتبہ نریندر مودی لال قلعہ کی بجائے سری نگر میں خطاب کریں گے اور یہ سارا شورو غوغا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔


خوبصورت وادی میں ظلم کی داستانیں


بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے سر سبز و شاداب وادیوں میں جدید ترین ہتھیار ، کلسٹر بم، سنائپر رائفلیں، بارودی سرنگیں سارا کچھ بھجوا دیا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق وادی میں امریکی ساختہ جدید ترین ہتھیار بھی ملے ہیں یوں بھارتی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حالات کی خرابی میں ان امریکی ساختہ ہتھیاروں کا بھی کر دار ہے جو پاکستان نے کبھی نہیں خریدے۔ اس اقدام سے بھارت بھر میں خوف و ہراس پیدا ہو گا۔ انہی دنوں میں پہلے 10ہزار اور پھر 20ہزار فوجی مزید بھیج دئیے گئے۔ یہ ہر قسم کی تربیت سے بہرہ مند تھے یعنی انہیں زیر زمین سرگرمیوں کی بھی تربیت حاصل تھی۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سابق مشرقی پاکستان جیسی تخریب کاری کرنا چاہتا ہے اس نے خوبصورت وادی کو خون سے سرخ کر دیا ، بہتے پانیوں اور چشموں میں سکیورٹی کے نام پر ناکہ بندیاں اور گرفتاریاں جاری ہیں ، گھر گھر تلاشی جاری ہے۔ متعدد گھروں کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔ صرف اس لیے کہ یہ کشمیری پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ خوف زدہ بھارت وہاں اپنا جھنڈا لہرانے میں بھی ناکام رہا۔ ہمالیہ کی وادیوںمیں فوجی بوٹوں تلے ہونے والے ظلم کی داستانیں آہوں اور سسکیوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ زیادہ تر کشمیری بھارتی جبر کیخلاف ہیں اور وہ ہر قیمت پر بھارت سے علیحدگی اور پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ ہو یا کوئی اور ادارہ ان کی سننے والا کوئی نہیں۔ اب وہاں 7لاکھ بھارتی فوجوں نے سری نگر کو ملانے والی ہر سڑک پر قبضہ کر لیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے کئی حصوں میں مکمل کرفیو نافذ ہے۔ آئے روز مسلمان تاجروں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ٹیرر فنانسنگ کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں کاروبار کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دہشت گرد کا نام لے کر کسی کو بھی گولی مار دی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جھوٹ اور دھوکے کا کاروبا رجاری ہے۔ بظاہر پاکستان پر الزام دھرا جارہا ہے لیکن بھارت اپنی کوتاہیوں پر کوئی نظر نہیں رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ امر ناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے 4جوانوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔کیونکہ بھارتی فوج نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی دراندازی نہیں ہو رہی جبکہ بھارت مسلسل پاکستان پر گولے برسا رہا ہے۔ 3اگست تک مودی سرکاری کے پیدا کردہ خوف و ہراس نے کشمیری عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے اور اب تو بھارت میں کلسٹر بم کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے ۔ بھارت دراصل یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ہندو خطرے میں ہیں اور ہندوئوں کی نسلوں کو بچانے کیلئے مودی اور امیت شاہ سامنے آئے ہیں یہ ان کے نجات دہندہ ہیں اور یہی ریاست کشمیر کے حصے بخرے کر دیں گے آئین کے آرٹیکل 35Aاور 370کی دھجیاں اڑا دیں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 35Aاور 370میں ترامیم ممکن نہیں۔ اس کیلئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دوتہائی اکثریت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ مودی کو اتنی اکثریت حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ ان کے ساتھی ارکان بھی اس جنگجوانہ تصور کے حامی نہیں۔بھارتی میڈیا نے یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دانستہ طور پر نفرت انگیز اقدامات کر رہاہے۔





بھارتی حکومت افواہیں پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے


ایک منصوبہ یہ سامنے آیا کہ مودی سرکار جموں کو ایک الگ ریاست کا درجہ دینا چاہتی ہے جبکہ کشمیر اور لداخ یونین کو بھی الگ سے ریاست کی شکل دے دی جائے گی۔ یوں ان تینوں ریاستوں کو براہ راست دہلی کے کنٹرول میں دے دیا جائے اور ان تینوں ریاستوں کو مستقل طور پر گورنر کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی اس قسم کے پیغامات گردش میں رہے۔ اس قسم کی خبروں کی تردید کرنے والوں نے بھی کسی حد تک تصدیق بھی کی۔ ایک رائے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مستقل گورنر راج کے ذریعے براہ راست حکومت کی جائے گی۔ ا س کی تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر Amazing Koshurکے پیج پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ بھارتی حکومت اس قسم کی باتوں کی تردید کی بجائے مزید افواہوں کو جنم دینے والی حرکتیں کر رہی ہے۔





مقبوضہ کشمیر میں معاشی انحطاط


جموں و کشمیر بینک کی اطلاعات کے مطابق کشمیر میں معاشی صورتحال دگر گوں ہے۔منافع بڑھنے کی بجائے کم ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اس میں 58فیصد کمی ہوئی اور یہ محض 22کروڑ روپے رہ گیا جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 53کروڑ روپے کا منافع ہوا تھا۔ کشمیری بینک کا منافع سوا دو ارب روپے رہ گیا ہے۔ جبکہ نان پرفارمنگ لون میں بھی اضافہ کا اندیشہ ہے۔ شاید یہ 30کروڑ تک پہنچ جائیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 30کروڑ کے لگ بھگ تھے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,921
1,884
213
ایک منصوبہ یہ سامنے آیا کہ مودی سرکار جموں کو ایک الگ ریاست کا درجہ دینا چاہتی ہے جبکہ کشمیر اور لداخ یونین کو بھی الگ سے ریاست کی شکل دے دی جائے گی۔ یوں ان تینوں ریاستوں کو براہ راست دہلی کے کنٹرول میں دے دیا جائے اور ان تینوں ریاستوں کو مستقل طور پر گورنر کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی اس قسم کے پیغامات گردش میں رہے۔ اس قسم کی خبروں کی تردید کرنے والوں نے بھی کسی حد تک تصدیق بھی کی۔ ایک رائے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مستقل گورنر راج کے ذریعے براہ راست حکومت کی جائے گی۔ ا س کی تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر Amazing Koshurکے پیج پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ بھارتی حکومت اس قسم کی باتوں کی تردید کی بجائے مزید افواہوں کو جنم دینے والی حرکتیں کر رہی ہے۔





مقبوضہ کشمیر میں معاشی انحطاط


جموں و کشمیر بینک کی اطلاعات کے مطابق کشمیر میں معاشی صورتحال دگر گوں ہے۔منافع بڑھنے کی بجائے کم ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اس میں 58فیصد کمی ہوئی اور یہ محض 22کروڑ روپے رہ گیا جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 53کروڑ روپے کا منافع ہوا تھا۔ کشمیری بینک کا منافع سوا دو ارب روپے رہ گیا ہے۔ جبکہ نان پرفارمنگ لون میں بھی اضافہ کا اندیشہ ہے۔ شاید یہ 30کروڑ تک پہنچ جائیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 30کروڑ کے لگ بھگ تھے۔
 
Top
Forgot your password?