کراچی کا قدیم سنیما کلچر

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,905
1,829
1,313
Lahore,Pakistan
کراچی کا قدیم سنیما کلچر

سعید جاوید

کراچی میں سن پچاس کی دہائی میں کوئی ایک سو کے لگ بھگ سنیما گھر ہوا کرتے تھے ۔جب تماشائیوںکی تعداد بڑھی تو کوئی تیس چالیس نئے سنیما گھر اور بن گئے۔ان میں سے اکثر کراچی کے گردونواح میں واقع نئی بستیوں میں قائم ہوئے تھے۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری بھی جوبن پر تھی، جو ہر ہفتے دو تین نئی فلمیں مارکیٹ میں بھیج دیتی تھی۔ نئی فلم ہمیشہ جمعہ کے دن ہی لگتی تھی۔ ایک روایتی سنیما میں بڑا سا ایک ہال ہوتا تھا جس کے داخلی دروازوں کو باہر سے کچھ سجا بنا کر اندر دکھائے جانے والی فلم کے دیو قامت پوسٹر عمارت پر لگا دیئے جاتے تھے۔ اسی طرح باقاعدگی سے سنیما دیکھنے والوں کے لیے فلموں کے بھی پوسٹر لگا دیئے جاتے تھے ،ان دیدہ زیب پوسٹروں کی بہت قدر ہوتی تھی۔ انہی کو دیکھ کر لوگ فلم کی طرف کھنچے چلے آتے تھے ۔تمام سنیما والوں نے پیشہ ور مصوروں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں ۔ تاہم اپنا معاوضہ وہ ماہانہ بنیاد پر نہیں بلکہ کام کے حجم اور اپنی مہارت کے بل بوتے پر ہی طے کیا کرتے تھے ۔ جب معاملات طے پا جاتے تو ان کو اگلے ہفتے لگنے والی فلم کے فنکاروں اور کرداروں کی چیدہ چیدہ تصاویر تھما دی جاتی تھیںجنہیں وہ دیوقامت رنگین پوسٹر کے روپ میں ڈھال دیتے، اور یہ ان ہی مصوروں کا کمال ہوتا تھا۔بعض اوقات تو یہ پوسٹر بس ایک دو دن کی مہلت پر ہی تیار کرنے ہوتے تھے، جس کے لیے وہ سنیما کے عقب میں یا قریب ہی کسی گلی میں مصروف کار ہو جاتے ۔ ویسے فلم کے پوسٹر بنانے کا سب سے بڑا مرکز مارسٹن روڈ پر تھا۔ یہ اتنے شاندار اور پائے کے مصور ہوتے تھے کہ معمولی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان میں سے کچھ بعد ازاںپاکستان کے نامور صورت گرقرار پائے ۔ فلم کے لگتے ہی اس کے گانوں کی کاپیاں بھی چھپ کر اسی سنیما کے باہرخوانچوں پر بکنا شروع ہو جاتی تھیںجن کی قیمت ایک آنہ ہوتی تھی ۔ ان میں سے اکثر گانے چونکہ پہلے ریڈیو پر نشر ہو چکے ہوتے تھے ا س لیے ان کو ایک جگہ اکٹھا کرکے چھا پنے میں کوئی ایسا لمبا چوڑاتردد نہیںکرنا پڑتا تھا ۔ ویسے بھی اس وقت کی فلموں میں عموماً دس گانے ہوتے تھے، جو آٹھ چھوٹے صفحات پر چھاپ کر ان کا کتابچہ بنا لیا جاتا تھا ۔جب فلم کاپہلا شو چلتا تھا تو فلم کے تماشائیوں میں ہی کہیں شارٹ ہینڈ تحریر کے ماہر لوگ بھی بیٹھ جاتے جو فلم کی ساری کہانی اور مکامے سن کر انتہائی سرعت کے ساتھ تحریر کرتے رہتے اور باہر نکلتے ہی فوراً اس کی کتابت کروا کر چھپوا لیتے تھے۔فلمی کہانی اور نغموں پر مشتمل یہ کتابچہ بھی اگلے دن چار آنے میںباہر خوانچے والوں سے مل جاتا ،جسے عموماً تماشائی فلم ختم ہونے کے بعد ہی خریدتے تھے تاکہ فلم کی حسین یادیں اور خوب صورت مکالمے ان کے پاس جمع ہو جائیں۔ بعض لوگوںکو تو اتنا جنون ہوتا تھا کہ ان کے پاس درجنوںفلموں کی کہانیوں اور گانوں کے کتابچے جمع ہوتے تھے۔ سنیما کا ادنیٰ درجے کاٹکٹ چھ آنے اور زیادہ سے زیادہ گیلری کا ایک ڈیڑھ روپے کا ہوتا تھا ، باقی سارے درجات ان دونوں کے بیچ میں ہی کہیںگم ہو جاتے تھے۔ سنیما کے اندر داخل ہوتے تو سامنے اسکرین پر بوری سے ذرا بہتر کپڑے کا گہرے رنگ یعنی سرخ ، قرمزی یا نیلے رنگ کا پردہ لٹک رہا ہوتا تھا۔پردے کے پاس ہی سٹیج پر ایک مدقوق سا ملازم اسٹول ڈالے بیٹھا اونگھتا رہتا تھا۔ وہ بلا شبہ اس وقت وہاں کا سب سے معتبر اور خاص انسان ہوتا تھا جس کو آپریٹر کے بعد سب سے پہلے فلم کے شروع ہونے کی خبر ہوتی تھی ۔ وہ جسم کا کوئی حصہ کھجلانے کے لیے ہاتھ بھی ہلاتا تو ہال میں یکدم سناٹا چھا جاتا تھا کہ اب شاید یہ اٹھ کر پردہ ہٹا دے گا اور فلم شروع ہو جائے گی ۔ جب شو اسٹارٹ ہونا ہوتا تھا تو اوپر پروجیکشن روم میں کھڑا آپریٹر انگلیاں منہ میں گھسیڑکر بلند آواز میں سیٹی بجاتا تھا ، یا پھر یکدم سارے ہال میں گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں جن کو سن کریہ شخص ہڑ بڑا کر اٹھتا اور دوڑ کر پہلے پردے کے ایک طرف جاتا اور وہاں سے ڈوری کھینچ کر پردہ ایک طرف کوہٹاتا اور پھر دوسری طرف بھاگتا ہوا جاتا اور یہی عمل وہاں بھی کرتا تھا۔ پردہ ہٹتے ہی دودھ کی طرح کا چٹا سفید سکرین سامنے آجاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہال کی بتیاں گل ہو جاتیں اور سامنے اسکرین پر قائد اعظمؒ کی تصویر آجاتی ، جس کو دیکھ کر لوگ خوشی سے نہال ہو جاتے اور کھڑے ہو کر بے تحاشا تالیاں پیٹنے لگتے تھے ۔ فلم کے ختم ہونے کے فوراً بعد قومی ترانہ سنایا جاتا تھا جس کے احترام میں خاموش اور با ادب کھڑا ہونا ہر فردپر لازم تھا ۔ شو ٹوٹتے ہی لوگ باہر نکلتے ، کچھ تو کھانے پینے اور پان بیڑی کے اسٹال کی طرف دوڑتے اور کچھ تازہ تازہ دیکھی ہوئی فلم کے گانوں اورکہانیوں کے کتابچوں کو خریدنے لگتے۔کچھ لوگ فلم پر اونچی آواز میں تبصرہ کرتے ہو ئے چلتے ۔ کچھ شوقین مزاج نئے سنے ہوئے گانوں کو اپنی بھدی آوازوں میں گنگنانے لگتے ۔بعض لوگوں کو شدید بے چینی ہوتی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر اپنے دوستوں کو اس فلم کے بارے میں کچھ بتا سکیں ۔(کتاب ’’ایسا تھا میرا کراچی‘‘ سے منقبس)
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
721
627
93
کراچی کا قدیم سنیما کلچر

سعید جاوید

کراچی میں سن پچاس کی دہائی میں کوئی ایک سو کے لگ بھگ سنیما گھر ہوا کرتے تھے ۔جب تماشائیوںکی تعداد بڑھی تو کوئی تیس چالیس نئے سنیما گھر اور بن گئے۔ان میں سے اکثر کراچی کے گردونواح میں واقع نئی بستیوں میں قائم ہوئے تھے۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری بھی جوبن پر تھی، جو ہر ہفتے دو تین نئی فلمیں مارکیٹ میں بھیج دیتی تھی۔ نئی فلم ہمیشہ جمعہ کے دن ہی لگتی تھی۔ ایک روایتی سنیما میں بڑا سا ایک ہال ہوتا تھا جس کے داخلی دروازوں کو باہر سے کچھ سجا بنا کر اندر دکھائے جانے والی فلم کے دیو قامت پوسٹر عمارت پر لگا دیئے جاتے تھے۔ اسی طرح باقاعدگی سے سنیما دیکھنے والوں کے لیے فلموں کے بھی پوسٹر لگا دیئے جاتے تھے ،ان دیدہ زیب پوسٹروں کی بہت قدر ہوتی تھی۔ انہی کو دیکھ کر لوگ فلم کی طرف کھنچے چلے آتے تھے ۔تمام سنیما والوں نے پیشہ ور مصوروں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں ۔ تاہم اپنا معاوضہ وہ ماہانہ بنیاد پر نہیں بلکہ کام کے حجم اور اپنی مہارت کے بل بوتے پر ہی طے کیا کرتے تھے ۔ جب معاملات طے پا جاتے تو ان کو اگلے ہفتے لگنے والی فلم کے فنکاروں اور کرداروں کی چیدہ چیدہ تصاویر تھما دی جاتی تھیںجنہیں وہ دیوقامت رنگین پوسٹر کے روپ میں ڈھال دیتے، اور یہ ان ہی مصوروں کا کمال ہوتا تھا۔بعض اوقات تو یہ پوسٹر بس ایک دو دن کی مہلت پر ہی تیار کرنے ہوتے تھے، جس کے لیے وہ سنیما کے عقب میں یا قریب ہی کسی گلی میں مصروف کار ہو جاتے ۔ ویسے فلم کے پوسٹر بنانے کا سب سے بڑا مرکز مارسٹن روڈ پر تھا۔ یہ اتنے شاندار اور پائے کے مصور ہوتے تھے کہ معمولی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان میں سے کچھ بعد ازاںپاکستان کے نامور صورت گرقرار پائے ۔ فلم کے لگتے ہی اس کے گانوں کی کاپیاں بھی چھپ کر اسی سنیما کے باہرخوانچوں پر بکنا شروع ہو جاتی تھیںجن کی قیمت ایک آنہ ہوتی تھی ۔ ان میں سے اکثر گانے چونکہ پہلے ریڈیو پر نشر ہو چکے ہوتے تھے ا س لیے ان کو ایک جگہ اکٹھا کرکے چھا پنے میں کوئی ایسا لمبا چوڑاتردد نہیںکرنا پڑتا تھا ۔ ویسے بھی اس وقت کی فلموں میں عموماً دس گانے ہوتے تھے، جو آٹھ چھوٹے صفحات پر چھاپ کر ان کا کتابچہ بنا لیا جاتا تھا ۔جب فلم کاپہلا شو چلتا تھا تو فلم کے تماشائیوں میں ہی کہیں شارٹ ہینڈ تحریر کے ماہر لوگ بھی بیٹھ جاتے جو فلم کی ساری کہانی اور مکامے سن کر انتہائی سرعت کے ساتھ تحریر کرتے رہتے اور باہر نکلتے ہی فوراً اس کی کتابت کروا کر چھپوا لیتے تھے۔فلمی کہانی اور نغموں پر مشتمل یہ کتابچہ بھی اگلے دن چار آنے میںباہر خوانچے والوں سے مل جاتا ،جسے عموماً تماشائی فلم ختم ہونے کے بعد ہی خریدتے تھے تاکہ فلم کی حسین یادیں اور خوب صورت مکالمے ان کے پاس جمع ہو جائیں۔ بعض لوگوںکو تو اتنا جنون ہوتا تھا کہ ان کے پاس درجنوںفلموں کی کہانیوں اور گانوں کے کتابچے جمع ہوتے تھے۔ سنیما کا ادنیٰ درجے کاٹکٹ چھ آنے اور زیادہ سے زیادہ گیلری کا ایک ڈیڑھ روپے کا ہوتا تھا ، باقی سارے درجات ان دونوں کے بیچ میں ہی کہیںگم ہو جاتے تھے۔ سنیما کے اندر داخل ہوتے تو سامنے اسکرین پر بوری سے ذرا بہتر کپڑے کا گہرے رنگ یعنی سرخ ، قرمزی یا نیلے رنگ کا پردہ لٹک رہا ہوتا تھا۔پردے کے پاس ہی سٹیج پر ایک مدقوق سا ملازم اسٹول ڈالے بیٹھا اونگھتا رہتا تھا۔ وہ بلا شبہ اس وقت وہاں کا سب سے معتبر اور خاص انسان ہوتا تھا جس کو آپریٹر کے بعد سب سے پہلے فلم کے شروع ہونے کی خبر ہوتی تھی ۔ وہ جسم کا کوئی حصہ کھجلانے کے لیے ہاتھ بھی ہلاتا تو ہال میں یکدم سناٹا چھا جاتا تھا کہ اب شاید یہ اٹھ کر پردہ ہٹا دے گا اور فلم شروع ہو جائے گی ۔ جب شو اسٹارٹ ہونا ہوتا تھا تو اوپر پروجیکشن روم میں کھڑا آپریٹر انگلیاں منہ میں گھسیڑکر بلند آواز میں سیٹی بجاتا تھا ، یا پھر یکدم سارے ہال میں گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں جن کو سن کریہ شخص ہڑ بڑا کر اٹھتا اور دوڑ کر پہلے پردے کے ایک طرف جاتا اور وہاں سے ڈوری کھینچ کر پردہ ایک طرف کوہٹاتا اور پھر دوسری طرف بھاگتا ہوا جاتا اور یہی عمل وہاں بھی کرتا تھا۔ پردہ ہٹتے ہی دودھ کی طرح کا چٹا سفید سکرین سامنے آجاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہال کی بتیاں گل ہو جاتیں اور سامنے اسکرین پر قائد اعظمؒ کی تصویر آجاتی ، جس کو دیکھ کر لوگ خوشی سے نہال ہو جاتے اور کھڑے ہو کر بے تحاشا تالیاں پیٹنے لگتے تھے ۔ فلم کے ختم ہونے کے فوراً بعد قومی ترانہ سنایا جاتا تھا جس کے احترام میں خاموش اور با ادب کھڑا ہونا ہر فردپر لازم تھا ۔ شو ٹوٹتے ہی لوگ باہر نکلتے ، کچھ تو کھانے پینے اور پان بیڑی کے اسٹال کی طرف دوڑتے اور کچھ تازہ تازہ دیکھی ہوئی فلم کے گانوں اورکہانیوں کے کتابچوں کو خریدنے لگتے۔کچھ لوگ فلم پر اونچی آواز میں تبصرہ کرتے ہو ئے چلتے ۔ کچھ شوقین مزاج نئے سنے ہوئے گانوں کو اپنی بھدی آوازوں میں گنگنانے لگتے ۔بعض لوگوں کو شدید بے چینی ہوتی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر اپنے دوستوں کو اس فلم کے بارے میں کچھ بتا سکیں ۔(کتاب ’’ایسا تھا میرا کراچی‘‘ سے منقبس)

Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?