پاکستان کے بھولے بسرے ٹیسٹ کرکٹرز ، تحریر : عبدالحفیظ ظفر

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,295
7,277
1,313
Lahore,Pakistan
پاکستان کے بھولے بسرے ٹیسٹ کرکٹرز ، تحریر : عبدالحفیظ ظفر

ہم اپنے قارئین کو اس مضمون میں پاکستان کرکٹ کے ان سابق کھلاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے جو بھولے بسرے ہو چکے ہیں۔ یہ سارے ذہین لوگ تھے اور خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔کسی نے زیادہ کرکٹ کھیلی اور کسی نے کم۔ کسی پر قسمت کی دیوی بہت مہربان ہوئی اور کسی پر کم۔ بہرحال ان میں سے ہر کسی نے پاکستان کرکٹ کی خدمت کی جس کی توصیف کرنا چاہیے۔ ذیل میں ان کرکٹرز کا ذکر کیا جا رہا ہے
۔-1 توصیف احمد

.۔1979-80 میں پاکستان بھارت کے دورے پر گیا اور چھ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی۔ پاکستان یہ سیریز ہار گیا۔ جب ٹیم واپس آئی تو پاکستانی عوام سخت غصے میں تھی۔ گریک چیپل کی قیادت میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آ چکی تھی۔ پہلے ٹیسٹ میچ سے ایک دن قبل اچانک یہ اعلان ہوا کہ کراچی کے ایک نوجوان توصیف احمد کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سب کو حیرت ہوئی۔ مگر اس آف سپنر نے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کر لیں جن میں گریک چیپل کی وکٹ بھی شامل تھی۔ توصیف ایک اچھے آف سپنر تو تھے ہی لیکن تھوڑی بہت بلے بازی بھی کر لیتے تھے، انہوں نے 34ٹیسٹ میچ اور 70ایک روزہ میچ کھیلے۔ انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 31.7 رنز کی اوسط سے 93وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 55تھی۔ ان کا یادگار میچ بنگلور ٹیسٹ (1987)تھا جس میں انہوں نے اقبال قاسم کے ساتھ مل کر پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کی نوجوان نسل انہیں بہت کم جانتی ہے۔
۔-2 قاسم عمر

کینیا میں پیدا ہونے والایہ بلے باز جب پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تو ایسے لگا جیسے کوئی ویسٹ انڈیز کا کھلاڑی آ گیا ہے۔ وہ بڑے جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے۔ انہوں نے 26 ٹیسٹ اور 31ایک روزہ میچ کھیلے۔ وہ پاکستان کی طرف سے 1983سے 1987 تک کھیلتے رہے۔ ان کا سٹروک پلے بڑا دلکش ہوتا تھا۔ انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں ایک ڈبل سنچری بھی بنائی۔ جو بھارت کے خلاف تھی۔ لیکن لوگ اب انہیں بھول چکے ہیں۔

۔-3 احتشام الدین

احتشام الدین نے 1979 سے 1982 تک پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔ وہ ایک میڈم فاسٹ باؤلر تھے جن کی لائن اور لینتھ بڑی اعلیٰ تھی۔ 1979-80 میں بھارت کے دورے پر انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے مجموعی طورپر پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے اور 23.4 رنز کی اوسط سے 16وکٹیں کیں۔ انہوں نے کوئی ایک روزہ میچ نہیں کھیلا۔ پھر وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ اب شاید ہی کسی کو ان کا نام یاد ہو۔

۔-4 نذیر جونیئر

کیا عمدہ آف سپنر تھے نذیر جونیر۔ وہ ریلوے میں ملازم تھے۔ انہیں کافی عرصہ تک نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ان کا اصل نام محمد نذیر ہے۔ انہوں نے 1969 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 99رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 14ٹیسٹ اور چار ایک روزہ میچ کھیلے۔ انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 34جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں 3وکٹیں حاصل کیں۔ وہ بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ویوین رچرڈز کو چار بار آؤٹ کیا۔ نذیر جونیئر نے مختصر عرصہ کیلئے ایمپائرنگ بھی کی۔ اب وہ بھی قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

۔-5 انیل دلپت

یہ وکٹ کیپر بلے باز 80کی دہائی میں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے جب عمران خان ٹیم کے کپتا ن تھے۔ وہ پہلے ہندو کرکٹر تھے جو قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلے۔ انہیں وسیم باری کے زخمی ہونے پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ انیل دلپت نے بہت عرصہ تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ سابق لیگ سپنر دانش کنیریا ان کے کزن ہیں۔ انہوں نے 9ٹیسٹ اور 15ایک روزہ میچ کھیلے۔ وکٹ کیپنگ کے شعبے میں ناقص کارکردگی پر انہیں ٹیم سے الگ کر دیا گیا۔ اب وہ ایک بھولی ہوئی داستان ہیں۔

۔-6 شاہد نذیر

وہ ایک اچھے میڈیم فاسٹ باؤلر تھے لیکن انہیں مناسب مواقع نہیں مل سکے۔ 1996 میں انہوں نے شیخوپورہ میں زمبابوے کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ انہوں نے 15 ٹیسٹ کھیلے جبکہ 17ایک روزہ میچوں میں قومی ٹیم کا حصہ بنے۔ ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 36تھی جبکہ ایک روزہ میچوں پر وہ 17وکٹیں حاصل کر سکے۔ ان کے فسٹ کلاس میچوں کی تعداد 130ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ فیصل آباد کا یہ کرکٹر بھی ماضی کا حصہ بن گیا۔

۔-7 وجاہت اللہ واسطی

یہ افتتاحی بلے باز 1999کے ورلڈ کپ کے فوری بعد منظر سے غائب ہو گیا۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی نے 6ٹیسٹ اور 15ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ ٹیسٹ میں ان کی اوسط 36.55 رنز تھی۔ انہوں نے دو ٹیسٹ سنچریاں بھی بنائیں۔ 1999کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انہوں نے سعید انور کے ساتھ مل کر شاندار بلے بازی کی اور افتتاحی بلے باز کی حیثیت سے 84 رنز بنائے جبکہ پہلی وکٹ کیلئے انہوں نے سعید انور کے ساتھ مل کر 194رنز بنائے۔ ٹیسٹ میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 133ہے۔ وجاہت اللہ واسطی بھی ایک بھولا بسرا کردار بن چکے ہیں۔

۔-8آصف مجتبیٰ

کراچی سے تعلق رکھنے والے یہ کرکٹر بہت خوبیوں کے مالک تھے۔ انہوں نے 25ٹیسٹ میچ کھیلے اور 66ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1994-95میں انہوں نے سلیم ملک کے ساتھ وائس کپتان کے فرائض سرانجام دیئے۔ ٹیسٹ میں انہوں نے 8نصف سنچریاں بنائیں۔ جبکہ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے زیادہ سے زیادہ 113رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ انہوں نے 291 فسٹ کلاس میچ کھیلے۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے اس بلے باز نے کئی بار اپنی ٹیم کے لیے بہت اچھا کھیل پیش کیا۔ 1986-87 کے بینسن اینڈ ہیجز کپ میں آسٹریلیا کے خلاف واکا سٹیڈیم میں زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ اسی طرح 1992-93 کی ورلڈ سیریز میں آصف مجتبیٰ نے آخری گیند پر چھکا لگا کے آسٹریلیا کے خلاف میچ برابر کر دیا۔ یہ ان کی یادگار اننگز تھیں۔ لیکن اس کھلاڑی کو بھی ہم فراموش کر چکے ہیں۔

۔-9 عطا الرحمان

90کی دہائی میں یہ باؤلر منظر عام پر آیا۔ ان کی سب سے اچھی کارکردگی 1996کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میچ میں سامنے آئی۔ یہ میچ بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلا گیا۔ انہوں نے 13ٹیسٹ اور 30ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ وہ میڈیم پیسر تھے اور ان کی لائن اور لینتھ عمدہ تھی۔ انہوں نے 31ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 27تھی۔ وہ 1992سے 1996تک کھیلتے رہے، پھر ایک دم منظر سے غائب ہو گئے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ لندن میں رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے وہاں شادی کر لی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وہ آج کل لندن میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔

۔-10اعجاز فقیہہ

وہ ایک باصلاحیت آل راؤنڈر تھے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ اور 27 ایک روزہ میچز کھیلے۔ ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 26.14رنز کی اوسط سے 183رنز بنائے جبکہ ایک سنچری بھی بنائی۔ یہ سنچری انہوں نے بھارت کے خلاف 1986-87میں احمد آباد میں بنائی۔ ایک روزہ میچوں میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 42ناٹ آؤٹ تھا۔ اعجاز فقیہہ نے 142 فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ وہ ایک عمدہ آف سپن باؤلر بھی تھے اور جب بھی انہیں باؤلنگ کیلئے بلوایا گیا انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ ا ب وہ ایک طویل عرصے سے منظر سے غائب ہیں۔ بھول گئے سب لوگ۔

۔-11 طاہر نقاش

80کی دہائی میں ایک نوجوان فاسٹ باؤلر طاہر نقاش نے اپنی معیاری باؤلنگ سے کرکٹ کے پنڈتوں کو خاصا متاثر کیا۔ موقع ملنے پر وہ جارحانہ انداز میں بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ انہوں نے 1980 سے 1985 تک 15ٹیسٹ اور 40ایک روزہ میچز کھیلے۔ وہ عمران خان کی کپتانی میں کھیلے۔ انہوں نے 34ٹیسٹ وکٹیں اوراتنی ہی ایک روزہ میچوں میں وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے دو بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ طاہر نقاش نے ٹیسٹ میچوں میں 300اور ایک روزہ میچوں میں 210رنز بنائے۔ ان کا کرکٹ کیریئر خلافِ توقع جلد ہی ختم ہو گیا۔ بہرحال بہت سے دوسرے کئی کرکٹرز کی طرح وہ بھی اب ایک بھولی ہوئی داستان بن چکے ہیں۔

۔-12 محسن کمال

محسن کمال 1984 سے 1994تک پاکستان کی طرف سے کھیلتے رہے۔ انہوں نے 9ٹیسٹ اور 19ایک روزہ میچز کھیلے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی کوچنگ بھی کی۔ انہوں نے 24ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 21تھی۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اس کرکٹر سے شائقین کرکٹ کو بہت سی توقعات تھیں لیکن وہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ بہرحال اب وہ ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

۔-13 عظیم حفیظ

1982-83 میں بھارت کے خلاف کرکٹ سیریز جیتنے کے بعد کپتان عمران خان زخمی ہو گئے تھے اور انہوں نے کافی عرصہ تک باؤلنگ نہیں کی تھی لیکن وہ کپتانی کے ساتھ بلے بازی کے جوہر دکھاتے رہے۔ ان کی غیر موجودگی میں بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرنے والے ایک میڈیم پیسر عظیم حفیظ منظر عام پر آئے۔ انہوں نے 1983اور 1985کے درمیان 18ٹیسٹ میچز کھیلے۔ پیدائشی طور پر ان کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں نہیں تھیں۔ وہ بائیں ہاتھ سے میڈم پیس باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 18ٹیسٹ اور 15ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 63وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 15تھی۔ وہ ایک اچھے باؤلر تھے بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے متاثر کن باؤلنگ کی۔ وہ بھی طویل عرصے سے غائب ہیں اور کرکٹ کا ایک بھولا بسرا کردار بن چکے ہیں۔

۔-14 منظور الٰہی

80کی دہائی میں انہوں نے بڑی جارحانہ کرکٹ کھیلی۔ وہ ایک دلیر اور نڈر مڈل آرڈر بلے باز تھے۔ انہیں زیادہ تر ایک روزہ میچوں میں کھلایا جاتا تھا۔ انہوں نے چھ ٹیسٹ اور 54ایک روزہ میچز کھیلے۔ وہ 1984سے 1995تک کھیلتے رہے۔ منظور الٰہی ایک دلکش سٹروک پلیئر تھے اور کرکٹ شائقین ان کے جارحانہ کھیل کی وجہ سے انہیں بہت پسند کرتے تھے۔انہوں نے 1986میں شارجہ میں بھارت کے خلاف سلیم یوسف کے ساتھ مل کر قومی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا جبکہ وہ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ ان کے بھائی سلیم ا لٰہی اور ظہور الٰہی بھی پاکستان کی طرف سے کھیلتے رہے۔ منظور الٰہی میڈم پیس باؤلنگ بھی کرتے تھے۔ بہرکیف اب تینوں بھائی پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔

مذکورہ بالا کرکٹرز کے علاوہ ارشد خان، زاہد فضل، محمد زاہد، تسلیم عارف، آصف مسعود، عامر ملک، عامر نذیر اور علی نقوی وہ کرکٹرز ہیں جنہیں ہم فراموش کر چکے ہیں۔ لیکن انہیں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے صفحات سے نہیں نکالا جا سکتا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?