ٹرینوں کے مہلک ترین حادثے

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
ٹرینوں کے مہلک ترین حادثے
1564527094322.jpeg


اخذوترجمہ: رضوان عطا

ٹرینیں بہت لمبی، بھاری اور تیز رفتار ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر یہ ٹکرا جائیں یا پٹڑی سے اتر جائیں تو بہت زیادہ نقصان کا احتمال ہوتا ہے۔ دھاتوں سے بنا ان کا اپنا وجود نہ صرف تباہ و برباد ہو جاتا ہے بلکہ سفر کرنے والوں کی بھی جان چلی جاتی ہے۔ دوسری طرف انسان نے انہی حادثوں سے سبق سیکھے اور ٹرینوں کے نظام کو زیادہ بہتر اور محفوظ بنایا۔ اگرچہ ریلوے حادثات کبھی کبھارہوتے رہتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ نظام زیادہ محفوظ اور آرام دہ خیال کیا جاتا ہے۔ آئیے دنیا کے دس مہلک ترین ٹرین حادثات کے بارے میں جانیں۔ العیاط ٹرین تباہی، مصر 20 فروری 2002ء کو رات کے دو بجے مصر کی ایک ٹرین کے پانچویں ڈبے میں گیس کا ایک سلنڈر پھٹا اور آگ لگ گئی۔ آگ جلد دوسرے ڈبوں میں پھیل گئی۔ البتہ ٹرین اپنی پوری رفتار کے ساتھ چلتی رہی اور ڈرائیور کو حادثے کا احساس دو گھنٹے بعد ہوا۔ اس وقت تک سات ڈبے خاکستر ہو چکے تھے اور تقریباً 400 افراد زندگی کی بازی ہار چکے تھے۔ بہت ساروں کی پہچان تک مشکل ہو چکی تھی۔ ٹرین میں گنجائش سے زیادہ مسافر تھے۔ بہت سے مسافر چلتی ہوئی ٹرین سے چھلانگ لگانے کے سبب جان سے گئے۔ سرکاری طور پر 383 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں ایک ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔ اواش ریل حادثہ، ایتھوپیا اسے افریقہ کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے جو 14 جنوری 1985ء کو اواش نامی قصبے کے قریب ہوا۔ ٹرین قصبے کے قریب تھی جب مڑتی ہوئی پل پر سے گزرتے ہوئے ڈرائیور اس کی رفتار کم نہ کر پایا اور وہ گہری کھائی میں جا گری۔ ٹرین میں اندازاً ایک ہزار افراد سوار تھے۔ 428 موت کے منہ میں چلے گئے اور باقی بچ جانے والے شدید زخمی ہوئے۔ ٹورے ڈل بیرزو ریل حادثہ، سپین اس حادثے میں ایک ٹنل میں تین ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ تین جنوری 1944ء کو سپین کے ایک گاؤں ٹورے ڈل بیرزو کے قریب ایک بے قابو مال گاڑی ٹنل نمبر 20 میں داخل ہوئی۔ سامنے ایک انجن تین بوگیوں کے ساتھ جا رہا تھا۔ ان میں سے دو ابھی ٹنل کے اندر تھیں کہ مال گاڑی جا لگی۔ مخالف سمت سے کوئلے کی ٹرین آ رہی تھی جس کی 27 بوگیوں میں مال لدا ہوا تھا۔ وہ بھی ٹکرا گئی۔ اس کے نتیجے میں دو دن تک وہاں آگ بھڑکتی رہی چونکہ اس ٹرین میں ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے والے بہت سے لوگ تھے اور وہ بری طرح جل گئے تھے اس لیے مرنے والوں کی درست تعداد معلوم نہ ہو سکی۔ بچ جانے والوں نے بتایا کہ کرسمس میلے کے سلسلے میں بہت سے لوگ سفر کر رہے تھے اور ٹرین لوگوں سے اٹی ہوئی تھی۔ اندازاً اس حادثے میں دو سو سے پانچ سو کے درمیان لوگوں کی جان گئی۔ بالوانو ٹرین تباہی، اٹلی دوسری عالمی جنگ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قلت نے بلیک مارکیٹ کو بڑھا دیا تھا۔ 1944ء میں موقع پرست اور نئے کاروباری مال گاڑیوں میں چھپ کر سپلائی کے فارمز تک جاتے۔ اس دور میں اچھے معیار کے کوئلے کی بھی قلت تھی۔ غیر معیاری ایندھن کے استعمال سے بے بو کاربن مانو آکسائیڈ بہت مقدار میں پیدا ہوتی تھی۔ دو مارچ 1944ء کو ایک اوورلوڈ گاڑی، جس کا نمبر 8017 تھا، ایک ٹنل میں رک گئی۔ اس کا عملہ اور مسافر، جن میں بہت سے چھپ کر سفر کر رہے تھے، دھویں کی زد میں آ گئے۔ صرف وہی بچ پائے جو کھلی فضا والی بوگیوں میں تھے۔ اس حادثے میں 521 سے 600 افراد کی جان گئی۔ اوفا ٹرین ہلاکتیں، روس یہ سوویت یونین کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز ریلوے حادثہ تھا اور چار جون 1989ء کو پیش آیا۔ پائپ لائن لیک ہونے سے ایل پی جی بڑی مقدار میں باہر نکلی اور پروپین گیس آشا اور اوفا نامی قصبوں کے درمیان گھاٹی میں جمع ہو گئی۔ جب انجینئرز کو پائپ کے دباؤ میں کمی کا پتا چلا تو انہوں نے نقص تلاش کرنے کے بجائے سپلائی بڑھا دی۔ تقریباً سوا دو بجے، 1200 مسافروں کو لے کر جانے والی دو ٹرینیں، جن میں زیادہ تر بچے تھے، ایک دوسرے کے پاس سے گزریں۔ اس دوران کسی مسافر کی جلائی گئی چنگاری سے آگ کا گولہ نمودار ہوا اور پھر دھماکہ ہوا۔ اس کا مشاہدہ 95 کلومیٹر کے فاصلے سے بھی کیا جا سکتا تھا۔ آگ کے گولے نے ایک میل کے علاقے کو لپیٹ میں لیا اور 2.4 میل تک درختوں کو جلا دیا۔ اس نے دونوں ٹرینیں تباہ و برباد کر دیں۔ حادثے میں 575 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ گواڈالاجارا ٹرین بربادی، میکسیکو 1915ء میں میکسیکو میں انقلاب زوروں پر تھا۔ صدر وینو ستیانو کارانزو نے حکم دیا کہ اس کی سپاہ کے خاندان گواڈالاجارا منتقل ہو جائیں۔ اس علاقے پر انہوں نے حال ہی میں قبضہ کر کے مکمل کنٹرول حاصل کیا تھا۔ 22 جنوری 1915ء کو ایک خصوصی ٹرین تیار کی گئی جو کومیلا سے روانہ ہوئی۔ اس میں مسافر بری طرح گھسیڑے گئے تھے۔ ایک ڈھلوان پر ڈرائیور نے ٹرین کا کنٹرول کھو دیا۔ ٹرین کی رفتار بڑھی گئی اور بالآخر وہ ایک کھائی میں جا گری۔ اس حادثے میں 600 سے زائد مسافر مارے گئے۔ بہار ٹرین حادثہ، انڈیا چھ جولائی 1981 کو بھارت میں مون سون سیزن چل رہا تھا، ایک ٹرین تقریباً ایک ہزار مسافروں کو لے جا رہی تھی کہ وہ بھاگ متی دریا میں جا گری۔ اس دن بارش ہوتی رہی اور ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ دریا میںطغیانی تھی۔ جب ٹرین پل کے قریب پہنچی اس وقت ایک گائے پٹڑی سے گزر رہی تھی۔ گائے کو بچانے کے لیے ڈرائیور نے بہت جلدی میں بریک لگائی۔ تَر ٹریک سے ٹرین پھسلی اور پانی میں جا گری۔ امدادی کام کئی گھنٹوں بعد شروع ہوا۔ تین سو سے زائد لاشوں کا پتا نہ چلا۔ مرنے والوں کی تعداد چھ سو سے زائد تھی۔ سیوریا ٹرین تباہی، رومانیہ یہ بدقسمت ٹرین پہلی عالمی جنگ کے دوران اترائی کے دوران بے قابو ہوئی۔ اس میں جرمنوں کے حملوں سے جان بچا کر نکلنے والے سپاہی اور لوگ سوار تھے۔ اگرچہ ڈرائیور نے رفتار کم کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ زیادہ رفتار کے ساتھ ٹرین پٹڑی سے اتر گئی اور اس نے آگ پکڑ لی۔ حادثے میں چھ سو سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ حادثہ 1917ء میں پیش آیا۔ سینٹ مشل ڈی ماورینے ڈی ریلمنٹ، فرانس 12 دسمبر 1917ء کو تقریباً ایک ہزار فرانسیسی سپاہی کرسمس کے لیے گھر لوٹ رہے تھے۔ ملک بھر میں نقل و حمل کے ذرائع کم پڑ گئے تھے۔ اس لیے دو ٹرینوں کو ایک انجن سے کھینچا جا رہا تھا۔ ٹرین کی 19 بوگیوں میں سے صرف تین میں خود کار بریکیں تھیں۔ دوسروں میں ہیندل والی بریکیں تھیں یا نہ تھیں۔ الپس سلسلہ کوہ کی ایک وادی میں اترتے ہوئے ڈرائیور نے بریکیں لگائیں لیکن گاڑی رفتار پکڑتی گئی۔ جب بریکیں زیادہ گرم ہو گئیں تو آگ لگ گئی۔ چار میل کے بعد پہلی بوگی پٹڑی سے اتری اور باقی بھی اس کے ساتھ۔ سب میں آگ لگ گئی۔ ایک ہزار کے قریب مسافر ہلاک ہوئے جن میں سے 425 کے جسد خاکی کو پہچانا گیا۔ سونامی ٹرین حادثہ، سری لنکا 26 دسمبر 2004ء کو سماٹرا کے شمال مغرب میں سمندر کی تہ میں زلزلہ آیا اور اس سے بہت بڑی سونامی پیدا ہوئی۔ اس کی وجہ سے پونے تین لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ اس بدقسمت دن ’’کوئین آف سی‘‘ نامی ٹرین بہت سے مسافروں کو لے کر جا رہی تھی۔ ٹرین ساحل سمندر سے صرف 217 گز کے فاصلے پر تھی کہ سمندر کی پہلی بڑی لہر نے اسے آ لیا۔ مقامی لوگوں نے سمجھا کہ ٹرین محفوظ مقام ہے اس لیے وہ اس کے اوپر چڑھ گئے یا اس کے پیچھے چھپ گئے۔ دوسری لہر کہیں بڑی تھی۔ اس نے ٹرین کو اس کی پٹڑی سے اکھاڑ دیا اور وہ قلابازیاں کھاتی ہوئی دور جا گری۔ کچھ لوگ کچلے گئے اور کچھ بوگیوں کے اندر پانی جمع ہونے سے اس میں ڈوب گئے۔ صرف آدھے مسافر بچ پائے۔ مقامی لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ کل ہلاکتیں 1700سے زائد تھیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,921
1,884
213
توبہ تمام واقعات میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے زائد افراد ہیں
اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
توبہ تمام واقعات میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے زائد افراد ہیں
اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
گاڑیوں کی رفتار اور حادثات کی نوعیت دیکھیں ۔۔۔۔
رائے کا شکریہ
 
Top
Forgot your password?