ٹرمپ کا بڑھتا جنگی جنون: امریکا نے افغانستان پر سب سے بڑا غیر جوہری بم گرادیا

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
امریکی فوج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں پاکستانی سرحد کے قریب سب سے بڑا غیرجوہری بم ’جی بی یو 43‘ گرادیا۔

امریکی فوج کی جانب سے یہ بم 13 اپریل کو گرایا گیا، اس بم کو تمام بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔

ننگرہار صوبے میں گرائے گئے بم میں 21 ہزار 600 پاؤنڈ (قریبا 11 ٹن) دھماکہ خیز مواد تھا۔

اس بم کو ٹارگیٹڈ جگہ کو نشانہ بنانے اور دیگر نقصان کم سے کم کیے جانے کی منصوبہ بندی کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس بم کو عراق جنگ کے دوران بنایا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ سب سے بڑے غیر جوہری بم کو داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے نے امریکی ایئر فورس کے ترجمان کرنل پیٹ رائیڈر کے حوالے سے بتایا کہ 11 ٹن وزنی بم کو ایم سی 130 جہاز کے ذریعے گرایا گیا، جس کا انتظام امریکی فضائیہ کے اہلکاروں کے پاس تھا۔

غیر جوہری بم کو مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے ننگرہار کے ضلع اچین میں داعش کے ان ٹھکانوں پر گرایا گیا، جہاں سے وہ چھپ کر امریکی و اتحادی فوج سمیت افغان فورسز پر حملے کرتے تھے۔

غیر جوہری بم گرائے جانے کے بعد فوری طور پر نقصانات کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم خیال جا رہا ہے کہ داعش کے ٹھکانوں کو کافی نقصان پہنچا ہوگا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے صوبے ننگرہار کو داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں 600 سے 800 داعش کے جنگجوؤں کی موجودگی کا امکان ہے، امریکی و اتحادی فوج کو اسی صوبے میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سب سے بڑے جوہری بم کو گرائے جانے کے کاغذات پر افغانستان میں امریکا اور اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جان نکولسن نے دستخط کیے، جبکہ اس کی حتمی منظوری امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے لی گئی۔

دوسری جانب وائیٹ ہاؤس کے ترجمان شان اسپائسر نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں کہ سب سے بڑے غیر جوہری بم کو گرائے جانے کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی یا نہیں؟۔

ترجمان وائیٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکا داعش کے خلاف جنگ کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتی ہے، لازم تھا کہ داعش کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے، جہاں سے وہ بیٹھ کر امریکی و اتحادی افواج پر حملہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکا کی جانب سے کسی بھی ملک میں سب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا گیا۔

اس سے پہلے امریکا، افغانستان سمیت عراق جنگ میں دیگر روایتی ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ 16 سال سے افغانستان میں ٹینک اور فضائی کارروائی سمیت چھوٹے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ و بارود کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، جن میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

 

fawad DOT

Active Member


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


جہاں تک افغانستان میں حاليہ امريکی فضائ بمباری کی منطق اور اس کی قوت کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں واضح رہے کہ يہ کاروائ دہشت گردوں کے زير استعمال ان زير زمين سرنگوں پر کی گئ تھی جو ان کے ليے محفوظ ٹھکانے بن چکے تھے۔ اس حقيقت کو مقامی افغان اہلکاروں اور باشندوں نے بھی تسليم کيا ہے۔ اس فوجی کاروائ کا مقصد خطے ميں فعال داعش اور اس سے منسلک دہشت گرد عناصر کے گرد گھيرا تنگ کرنا تھا۔


اس بات کے واضح اشارے موجود ہيں کہ داعش کے جنگجو ان غاروں اور زيرزمين سرنگوں کو اپنی کاروائ کے ليے استعمال کر رہے تھے۔ ان گروہوں کو شکست دينے کے ليے يہ ضروری ہے کہ امريکہ، نيٹو اور افغان حکومت ان کی نقل وحرکت کے عمل کو ہر صورت ميں روکے۔


پينٹاگان کی جانب سے بھی اس فوجی کاروائ کے بعد يہ واضح کيا گيا کہ اس بمباری کا مقصد علاقے ميں موجود افغان شہريوں اور امريکی فوجيوں کے تحفظ کو يقینی بنانا اور داعش کے جنگجوؤں کے ليے زمين تنگ کرنا تھا۔


افغانستان ميں امريکی فوج کے کمانڈر جرنل جان ڈبليو نکلسن نے بھی واضح کيا ہے کہ داعش کے جنگجو افغانستان ميں اپنی حاليہ ناکاميوں کے بعد خود ساختہ بموں کے بے دريخ استعمال کے بعد ان زيرزمين سرنگوں کو اپنے فرار کے ليے استعمال کر رہے تھے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
امریکہ داعش کے نام پر افغانستان میں تجربات کر رہی ہے
کبھی آپ نے مجرمان کے علاوہ ان معصوموں کا سوچا ہے
جو افغانستان یا پاکستان میں امریکی حملوں میں شہید ہوئے
پجانوے فیصد معصوم بیگناہ مارے جاتے ہیں
کیا آپ پجانوے فیصد معصوم بیگناہوں کے ساتھ ۵ فیصد دہشت گرد مار کر اسے اپنی کامیابی کہتے ہیں


@Don @saviou @Shiraz-Khan @shehr-e-tanhayi @Hoorain
@RedRose64 @Aaylaaaaa @minaahil @Umm-e-ahmad @[email protected]!der
@khalid_khan @duaabatool @Armaghankhan @zaryaab-irtiza
@DiLkash @seemab_khan @Cyra @Kavi @rooja @Aaidah
@BeautyRose @Gaggan @SHB_Bhaiya @hasandawar @Hasii
@Masha @Bird-Of-Paradise @Besharam @shzd @hinakhan0
@Belahadi @Manahi007 @BeautyRose @ujalaa @*Sonu*
@Guriyaa_Ranee @Emaan_ @sonu-unique @Zunaira-Aqeel @shahijutt
@Shanzykhan @NXXXS
 

fawad DOT

Active Member
امریکہ داعش کے نام پر افغانستان میں تجربات کر رہی ہے




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




جب آپ افغانستان ميں طالبان کے جنگجوؤں کے خلاف آئ ايس آئ ايس کو تيار کرنے کے مبينہ امريکی ايجنڈے کے ضمن ميں اپنی راۓ پيش کرتے ہيں تو اس نظريے کے ضمن ميں کوئ ايسا طريقہ کار، اقدامات يا مضبوط شواہد پيش نہيں کرتے جس سے پڑھنے والے اس بات سے قائل ہو جائيں کہ ہم يقينی طور پر کچھ ايسے اقدامات اٹھا رہے ہيں جس سے آئ ايس آئ ايس اپنے اثرات کو وسيع کرنے يا اپنی مرضی مسلط کرنے کے ضمن ميں زيادہ فعال اور مضبوط ہو رہی ہے۔




يقینی طور پر يہ حقيقت کہ ہم آئ ايس آئ ايس کے ٹھکانوں پر روزانہ اپنے طياروں کے ذريعے فضائ بمباری کر رہے ہيں، اس تنظيم کے ليڈروں اور جنگجوؤں کو اس بات پر قائل نہيں کر سکتی ہے کہ وہ ہمارے ايماء پر لڑنا شروع کر ديں۔




اسی طرح آئ ايس آئ کے جنگجوؤں کے تعاقب اور ان کی صلاحيتوں کو کم کرنے کے ضمن ميں خطے ميں اپنے اتحاديوں کے ساتھ ہمارا تعاون، فوجی اور تکنيکی وسائل تک رسائ اور ہماری جاری حمايت ايسے عوامل ہرگز نہيں ہيں جو اس دہشت گرد تنظيم کو اس بات پر راضی کر سکيں کہ وہ افغانستان ميں ہمارے مبينہ ايجنڈے کے ليے اپنی جانيں ديں يا اپنی مہم جوئ کا رخ تبديل کريں۔




يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ اور خطے ميں ہماری موجودگی کی واحد وجہ اس بات کو يقينی بنانا ہے کہ دہشت گردی کا وہ عفريت جس نے 911 کو ہمارے شہروں کو نشانہ بنايا تھا، اسے ختم کيا جا سکے اور دنيا بھر ميں اپنے شہريوں کو تحفظ فراہم کيا جا سکے۔ آپ کے غلط دعوے کے مطابق اگر ہم آئ ايس آئ ايس کو افغانستان ميں پروان چڑھا رہے ہيں تو اس کا مطلب تو يہ ہوا کہ ہم افغانستان ميں دہشت گردی کے موجودہ عناصر کی جگہ پہلے سے بھی زيادہ خطرناک مجرموں کے گروہ کو لے آئيں گے۔ يہ حکمت علمی کس زاويے سے ہمارے واضح کردہ ايجنڈے کے ضمن ميں ہميں ہمارے مطلوبہ نتائج دلا سکتی ہے؟




کچھ راۓ دہندگان کی دليل يہ ہے کہ ہم افغانستان ميں اپنی شکست کا بدلہ لينے کے ليے طالبان کے مقابلے ميں آئ ايس آئ ايس کو مضبوط کر رہے ہيں۔ اس منطق کے تحت کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ايسی صورت حال جہاں افغانستان کا نظام حکومت آئ ايس آئ ايس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ميں ہو گا، کسی بھی طور عالمی برادری کے نزديک ہماری کاميابی تصور ہو گا؟






فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 

fawad DOT

Active Member

کبھی آپ نے مجرمان کے علاوہ ان معصوموں کا سوچا ہے
جو افغانستان یا پاکستان میں امریکی حملوں میں شہید ہوئے
پجانوے فیصد معصوم بیگناہ مارے جاتے ہیں
کیا آپ پجانوے فیصد معصوم بیگناہوں کے ساتھ ۵ فیصد دہشت گرد مار کر اسے اپنی کامیابی کہتے ہیں





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


امريکی حکومت نے کبھی بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ليے جاری عالمی کوششوں کے ضمن میں کبھی بھی کوئ بے گناہ شہری ہلاک نہيں ہوا ہے۔ کسی بھی مسلح تنازعے کے ضمن ميں جانی نقصان ايک تلخ حقيقت ہے اور اس تلخ حقيقت کا اطلاق تاريخ کی ہر جنگ پر ہوتا ہے۔ امريکی قيادت ميں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششيں بھی اس اصول سے مبرا نہيں ہيں۔


تاہم آپ کی راۓ سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ جيسے امريکی حکومت دانستہ اس طرح کے واقعات کے ليے ذمہ دار ہے۔


معاملے کو درست تناظر ميں سمجھنے کے لیے گزشتہ دو دہائيوں کے دوران عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران ان امريکی اور اتحادی فوجيوں کی ہلاکت کے حوالے سے ايک سرسری جائزہ پيش ہے جو مختلف "فرينڈلی فائر" واقعات ميں اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے۔



يقینی طور پر کوئ بھی يہ دعوی نہيں کر سکتا کہ امريکہ اپنے سب سے قيمتی اثاثوں يعنی کہ اپنے فوجيوں کو دانستہ نشانہ بنا کر انھيں ہلاک نہيں کرے گا۔


وہ بے رحم قاتل اور دہشت گرد جو دانستہ ايک پاليسی کے تحت نہ صرف يہ کہ معصوم لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہيں بلکہ انھيں ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرتے ہيں، وہ آپ کی مذمت کے اصل حقدار ہيں۔ کسی بھی تنازے ميں بے گناہ افراد کی ہلاکت يقینی طور پر ايک سانحہ ہے اور اس پر اظہار افسوس بھی لازمی ہے۔ امريکی فوج بے گناہ افراد کی جانوں کے تحفظ کے لیے تحت شدہ قواعد و ضوابط کو بھی ملحوظ رکھتی ہے اور اس ضمن ميں ہر ممکن احتياط بھی برتی جاتی ہے۔ جيسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ بے گناہ افراد کی ہلاکت کی صورت ميں امريکی، نيٹو اور پاکستانی افواج کو کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ اس کے برعکس دہشت گردوں کی حکمت عملی کا بنيادی نقطہ ہی يہ ہے کہ زيادہ سے زيادہ بے گناہ افراد کو ہلاک کيا جاۓ۔




چاہے وہ سلالہ کا واقعہ ہو يا کوئ بھی سانحہ جس ميں امريکی اقدامات کی وجہ سے انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہو، ہم نے ہميشہ اپنی ذمہ داری قبول بھی کی ہے، اظہار افسوس بھی کيا ہے اور ايسے اقدامات بھی اٹھاۓ ہيں جن سے مستقبل ميں ايسے سانحوں سے بچا جا سکے۔




اس کے برعکس کيا آپ نے ان دہشت گرد تنظيموں کے کسی ترجمان کی جانب سے کبھی کوئ ايسا بيان بھی سنا ہے جس ميں اپنی مبينہ مذہبی جنگ کی پاداش ميں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر اظہار افسوس يا پيشمانی کا اظہار کيا گيا ہو۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot



امريکی حکومت نے کبھی بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ليے جاری عالمی کوششوں کے ضمن میں کبھی بھی کوئ بے گناہ شہری ہلاک نہيں ہوا ہے۔ کسی بھی مسلح تنازعے کے ضمن ميں جانی نقصان ايک تلخ حقيقت ہے اور اس تلخ حقيقت کا اطلاق تاريخ کی ہر جنگ پر ہوتا ہے۔ امريکی قيادت ميں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششيں بھی اس اصول سے مبرا نہيں ہيں۔
تاہم آپ کی راۓ سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ جيسے امريکی حکومت دانستہ اس طرح کے واقعات کے ليے ذمہ دار ہے۔

ہمارے لئے ایک ایک پاکستانی کی جان امریکہ کے لاکھوں فوجیوں سے بھی قیمتی ہے
اور آپ کے اقرار سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسے معصوم پاکستانی کی موت کوئی بات ہی نہیں ہے
ہم جنگ نہیں امن اور اپنے پاکستانیوں کی زندگی چاہتے ہیں

 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
ٹرمپ کا جنگی جنون دیکھئے
امریکا کے حکومتی ذرائع کے مطابق افغانستان میں چار ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران کسی بھی ملک میں امریکی فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہو گی
۔​
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
امریکی کے یورپی اتحادی ممالک نیٹو کے افغان مشن میں مدد فراہم کرنے اور وہاں دوبارہ فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ممالک کے سامنے سوال یہ ہے کہ افغان جنگ ختم کب ہو گی اور اس حوالے سے امریکی حکمت عملی کیا ہے؟
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
چار ستمبر 2009ء کو طالبان نے تیل کے بھرے دو ٹینکروں کو اغوا کیا۔ کرنل گیورگ کلائن نے فضائی حملے کے احکامات جاری کر دیے
جس کے نتیجے میں تقریبا ایک سو عام شہری مارے گئے۔ یہ سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔ شدید تنقید کے بعد اس وقت کے وزیر دفاع کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔
بھلا ایسے جنگ کی حمایت کون کرےگا
 

fawad DOT

Active Member
ہمارے لئے ایک ایک پاکستانی کی جان امریکہ کے لاکھوں فوجیوں سے بھی قیمتی ہے
اور آپ کے اقرار سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسے معصوم پاکستانی کی موت کوئی بات ہی نہیں ہے
ہم جنگ نہیں امن اور اپنے پاکستانیوں کی زندگی چاہتے ہیں



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


اس ميں کوئ شک نہيں کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ہزاروں کی تعداد ميں معصوم پاکستانی شہری اور فوجی طالبان، القائدہ اور اس سے منسلک تنظيموں کی کاروائيوں کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہم نے ہر پليٹ فارم پر ان عظيم قربانيوں کو اجاگر بھی کيا ہے اور انھيں تسليم بھی کيا ہے۔ ہمارے اہم ترين عہديداروں اور سفارت کاروں کے بيانات اس ضمن ميں ريکارڈ کا حصہ ہيں۔ پاکستان کی افواج اور حکومت کے ساتھ ہماری مشترکہ کاوشيں اسی ضرورت اور خواہش کو مدنظر رکھ کر جاری ہيں کہ يہ قربانياں رائيگاں نا جائيں اور ہزاروں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے والے ذمہ داروں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ يقينی طور پر آپ ہم پر اس بنياد پر تنقيد نہيں کر سکتے کہ ہم انھی مجرموں کا تعاقب کر رہے ہيں جن کی جانب سے پھيلائ جانے والی تبائ کو آپ اجاگر کر رہے ہيں۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ









 

fawad DOT

Active Member
امریکی کے یورپی اتحادی ممالک نیٹو کے افغان مشن میں مدد فراہم کرنے اور وہاں دوبارہ فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ممالک کے سامنے سوال یہ ہے کہ افغان جنگ ختم کب ہو گی اور اس حوالے سے امریکی حکمت عملی کیا ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


افغانستان ميں ہماری موجودگی اور جاری مشترکہ عالمی کوششيں مقامی آباديوں کو کنٹرول کرنے يا علاقوں پر قبضہ جمانے کے ليے نہيں ہيں۔ يہ لڑائ طالبان، پشتون يا کسی بھی مخصوص قبيلے کے خلاف بھی ہرگز مختص نہيں ہيں۔ عالمی اتحاد ان گروہوں سے منسلک ان مجرمانہ عناصر کے خلاف لڑائ کر رہا ہے جو دہشت گردی اور پرتشدد کاروائيوں کے ذريعے روزانہ بے گناہ شہريوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ افغانستان ميں ايک وسيع حکمت عملی کے تحت ہم نے يقينی طور پر افغان حکومت کی حوصلہ افزائ کی ہے کہ مختلف سياسی دھڑوں اور حامی فريقين کو سياسی دھارے ميں لانے کے ليے آمادہ کيا جاۓ اور ان کی صفوں ميں موجود ان پرتشدد عناصر کو تنہا اور عليحدہ کيا جاۓ جو اپنے مذموم مقاصد اور مخصوص ايجنڈے کے سبب پرتشدد کاروائيوں کو ترک کرنے کے ليے کسی طور بھی آمادہ نہيں ہيں۔


اس وقت سب سے اہم ضرورت اور مقصد ايسی حکمت عملی ہے جسے افغان قيادت اور عوام ليڈ کريں۔


اس بات ميں کوئ شک نہيں ہونا چاہيے کہ ہم اس جدوجہد ميں تنہا ہرگز نہيں ہيں۔ ہميں دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کے ليے مقامی حکومتوں اور عالمی برادری کا مکمل تعاون اور ان کی حمايت حاصل ہے۔


ان دہشت گردگروہوں کے خلاف شکست کا آپشن ہمارے پاس ہے ہی نہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


اس ميں کوئ شک نہيں کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ہزاروں کی تعداد ميں معصوم پاکستانی شہری اور فوجی طالبان، القائدہ اور اس سے منسلک تنظيموں کی کاروائيوں کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہم نے ہر پليٹ فارم پر ان عظيم قربانيوں کو اجاگر بھی کيا ہے اور انھيں تسليم بھی کيا ہے۔ ہمارے اہم ترين عہديداروں اور سفارت کاروں کے بيانات اس ضمن ميں ريکارڈ کا حصہ ہيں۔ پاکستان کی افواج اور حکومت کے ساتھ ہماری مشترکہ کاوشيں اسی ضرورت اور خواہش کو مدنظر رکھ کر جاری ہيں کہ يہ قربانياں رائيگاں نا جائيں اور ہزاروں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے والے ذمہ داروں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ يقينی طور پر آپ ہم پر اس بنياد پر تنقيد نہيں کر سکتے کہ ہم انھی مجرموں کا تعاقب کر رہے ہيں جن کی جانب سے پھيلائ جانے والی تبائ کو آپ اجاگر کر رہے ہيں۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu


https://www.instagram.com/doturdu/





ہم اسے امریکہ کی ناکامی سمجھتے ہیں
کہ کئی سال گزرنے کے بعد ہزاروں بے گناہوں کی قربانیوں کے بعد
امریکی کی کٹپتلی حکومت کے بعد بھی
افغانستان سے افواج واپس جانے کی بجائے مزید افواج بھیج رہی ہیں
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


افغانستان ميں ہماری موجودگی اور جاری مشترکہ عالمی کوششيں مقامی آباديوں کو کنٹرول کرنے يا علاقوں پر قبضہ جمانے کے ليے نہيں ہيں۔ يہ لڑائ طالبان، پشتون يا کسی بھی مخصوص قبيلے کے خلاف بھی ہرگز مختص نہيں ہيں۔ عالمی اتحاد ان گروہوں سے منسلک ان مجرمانہ عناصر کے خلاف لڑائ کر رہا ہے جو دہشت گردی اور پرتشدد کاروائيوں کے ذريعے روزانہ بے گناہ شہريوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ افغانستان ميں ايک وسيع حکمت عملی کے تحت ہم نے يقينی طور پر افغان حکومت کی حوصلہ افزائ کی ہے کہ مختلف سياسی دھڑوں اور حامی فريقين کو سياسی دھارے ميں لانے کے ليے آمادہ کيا جاۓ اور ان کی صفوں ميں موجود ان پرتشدد عناصر کو تنہا اور عليحدہ کيا جاۓ جو اپنے مذموم مقاصد اور مخصوص ايجنڈے کے سبب پرتشدد کاروائيوں کو ترک کرنے کے ليے کسی طور بھی آمادہ نہيں ہيں۔


اس وقت سب سے اہم ضرورت اور مقصد ايسی حکمت عملی ہے جسے افغان قيادت اور عوام ليڈ کريں۔


اس بات ميں کوئ شک نہيں ہونا چاہيے کہ ہم اس جدوجہد ميں تنہا ہرگز نہيں ہيں۔ ہميں دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کے ليے مقامی حکومتوں اور عالمی برادری کا مکمل تعاون اور ان کی حمايت حاصل ہے۔


ان دہشت گردگروہوں کے خلاف شکست کا آپشن ہمارے پاس ہے ہی نہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu

عالمی برادری کی حمایت بھی اب ماند پڑ گئی ہے
میرا خیال ہے کہ شاید اب اس جنگ کا کوئی مقصد نہیں رہا
 

fawad DOT

Active Member
عالمی برادری کی حمایت بھی اب ماند پڑ گئی ہے
میرا خیال ہے کہ شاید اب اس جنگ کا کوئی مقصد نہیں رہا




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


امريکہ اور نيٹو افواج کی افغانستان ميں فوجی کاروائ کا مقصد ہميشہ سے دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ يہی رہا ہے کہ دنيا بھر ميں عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ بنايا جا سکے۔




اب بھی يہی مقصد ہماری افغانستان ميں موجودگی کا محرک ہے اور اس ضمن ميں ہميں اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ تمام عالمی برادری کی حمايت حاصل ہے۔




نيٹو افواج کی افغانستان ميں موجودگی کے ساتھ مقامی حکومتوں کی مکمل حمايت آّپ کی اس دليل کی نفی ہے کہ ہم خطے ميں اپنے مقاصد کے حصول کے ضمن ميں حمايت کھو رہے ہيں۔




ميں نہيں سمجھتا کہ يہ دعوی کرنا دانش مندی ہے کہ امريکہ سميت دنيا ميں کہيں بھی عوامی راۓ اس سوچ اور فلسفے کی تائيد ميں ہو سکتی ہے جو مذہب کے نام پر اور اپنی مخصوص سياسی سوچ کو مسلط کرنے کے ليے بے گناہ شہريوں کے قتل کی ترغيب کو جائز قرار ديتی ہے۔


حقيقت يہ ہے کہ عالمی سطح پر بے گناہ انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کی مشترکہ انسانی خواہش اور جانی مانی قدريں ہی ہمارے معاشرے ميں ان مہذب آوازوں کو اس بات کے ليے مجبور کرتی ہيں کہ کسی بھی بے گناہ انسان کی موت کی صورت ميں اپنے تحفظات کا اظہار اور مذمت کريں۔


اس ميں کوئ شک نہيں کہ انسانی تاريخ ميں رونما ہونے والے کسی بھی عسکری معرکے کی طرح افغانستان ميں بھی معصوم انسانی جانوں بشمول امريکی اور نيٹو افواج اور ہمارے اتحاديوں کو بھی جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ليکن يہ بات ياد رہنی چاہيے کہ ہزاروں ميل دور اپنے فوجی بھيجنے کا مقصد ابتدا ميں بھی اور اس وقت بھی بے گناہ شہريوں کی جان کی حفاظت ہے۔ اس ميں مسلمان اور غير مسلم دونوں شامل ہيں۔


عالمی سطح پر اس پھيلتے ہوۓ عفريت کو روکنے اور ان قدروں اور اصولوں کو قائم رکھنے کے ليے کی جانے والی کوششوں کے ليے موجود متفقہ حمايت تقويت پا رہی ہے جو ہماری مشترکہ انسانی خواہشات کی غمازی کرتی ہے۔ يہ تائيد اور حمايت تمام سياسی، سرحدی اور جغرافيائ حدوں اور اختلافات سے بالاتر ہے۔





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ








 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Jin mamalik ke pas atom bomb ya is qisam ke hathyaar hain un se insaani jano'N ko khatra ho sakta hai
mgr Afghanistan jesy bechary mulk ke pas to koi aisa hathyaar bhi nahi keh itne door se america akar unka muqabila kary

wesy america ko kuch to mil raha hai na Qudrati wasail se :p
 

Pakproperty

Newbie

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



امريکہ اور نيٹو افواج کی افغانستان ميں فوجی کاروائ کا مقصد ہميشہ سے دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ يہی رہا ہے کہ دنيا بھر ميں عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ بنايا جا سکے۔





اب بھی يہی مقصد ہماری افغانستان ميں موجودگی کا محرک ہے اور اس ضمن ميں ہميں اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ تمام عالمی برادری کی حمايت حاصل ہے۔





نيٹو افواج کی افغانستان ميں موجودگی کے ساتھ مقامی حکومتوں کی مکمل حمايت آّپ کی اس دليل کی نفی ہے کہ ہم خطے ميں اپنے مقاصد کے حصول کے ضمن ميں حمايت کھو رہے ہيں۔





ميں نہيں سمجھتا کہ يہ دعوی کرنا دانش مندی ہے کہ امريکہ سميت دنيا ميں کہيں بھی عوامی راۓ اس سوچ اور فلسفے کی تائيد ميں ہو سکتی ہے جو مذہب کے نام پر اور اپنی مخصوص سياسی سوچ کو مسلط کرنے کے ليے بے گناہ شہريوں کے قتل کی ترغيب کو جائز قرار ديتی ہے۔


حقيقت يہ ہے کہ عالمی سطح پر بے گناہ انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کی مشترکہ انسانی خواہش اور جانی مانی قدريں ہی ہمارے معاشرے ميں ان مہذب آوازوں کو اس بات کے ليے مجبور کرتی ہيں کہ کسی بھی بے گناہ انسان کی موت کی صورت ميں اپنے تحفظات کا اظہار اور مذمت کريں۔


اس ميں کوئ شک نہيں کہ انسانی تاريخ ميں رونما ہونے والے کسی بھی عسکری معرکے کی طرح افغانستان ميں بھی معصوم انسانی جانوں بشمول امريکی اور نيٹو افواج اور ہمارے اتحاديوں کو بھی جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ليکن يہ بات ياد رہنی چاہيے کہ ہزاروں ميل دور اپنے فوجی بھيجنے کا مقصد ابتدا ميں بھی اور اس وقت بھی بے گناہ شہريوں کی جان کی حفاظت ہے۔ اس ميں مسلمان اور غير مسلم دونوں شامل ہيں۔


عالمی سطح پر اس پھيلتے ہوۓ عفريت کو روکنے اور ان قدروں اور اصولوں کو قائم رکھنے کے ليے کی جانے والی کوششوں کے ليے موجود متفقہ حمايت تقويت پا رہی ہے جو ہماری مشترکہ انسانی خواہشات کی غمازی کرتی ہے۔ يہ تائيد اور حمايت تمام سياسی، سرحدی اور جغرافيائ حدوں اور اختلافات سے بالاتر ہے۔






فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu


https://www.instagram.com/doturdu/


https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/





کاش کے امریکہ کا مقصد امن کا قیام ہوتا، لیکن ایسا نہ تھا نہ ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ کمزور ممالک کو بزور شمشیر دباء کر انکے وسائل ہتھیانے کی کوشش کی ہے۔ عراق جنگ کا واحد مقصد تیل کے ذخائر پرقبضہ کرنا تھا۔ افعانستان پرحملے کا مقصد وسط ایشیائی ریاستوں کو کنٹرول کرنا اور چائینہ کا راستہ روکنا ہے۔ جس میں وہ فی الحال کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سی پیک کے قیام کو روکنے کی بھرپور کوششیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کو مقدم رکھا ہے چاہے اسکا نتیجہ دوسرے ممالک کی تباہی کیوں نہ ہو۔

______________________________________________________________________________________
I am an independent writter and owner of Property Portal in Pakistan, thats all what I have!!!
 
Top