ناک سے خون بہنا

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,003
3,961
1,313
Lahore,Pakistan
ناک سے خون بہنا

ڈاکٹر ایلین لو

ناک سے خون بہنا عام مسئلہ ہے۔ زیادہ تر یہ کسی خطرناک مرض کی علامت نہیں ہوتا۔ ناک میں خون کی بہت سی وریدیں ہوتی ہیں جو ناک کے سامنے والے اور پچھلے حصے میں بیرونی سطح کے قریب ہوتی ہیں۔ یہ کمزور ہوتی ہیں اور ان میں سے آسانی سے خون بہہ سکتا ہے۔ ناک سے خون بہنے کی دو اقسام ہیں۔ ایک میں ناک کے سامنے والے حصے کی خون کی وریدیں پھٹتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔ دوسری میں ناک کے اندرونی یا پچھلے حصے کی وریدوں سے خون بہتا ہے۔ چونکہ اندرونی حصے میں خون کا بہاؤ گلے میں جا سکتا ہے، اس لیے یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ وجوہات: ناک سے خون بہنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کبھی کبھار ناک سے خون آنا عموماً خطرناک نہیں ہوتا لیکن اگر ایسا مسلسل ہو تو کوئی سنجیدہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ خشک ہوا ناک سے خون بہنے کی سب سے عام وجہ ہے۔ اگر آپ خشک موسم میں ہیں یا سردی کی وجہ سے حدت پیدا کرنے کا کوئی سسٹم لگا رکھا ہے تو اس ماحول میں ناک کی اندرونی جھلی خشک ہو جاتی ہے۔ جب اسے تھوڑا سا کھرچا یا رگڑا جاتا ہے تو خون بہنے لگتا ہے۔ دیگر عام وجوہ میں شامل ہیں؛ کسی بیرونی شے کا پھنس جانا، کیمیکل سے سوزش، الرجی، ناک میں زخم، ناک میں انگلی ڈالنا، سرد ہوا، سانس کی نالی کے اوپری حصے میں انفیکشن، اسپرین کی زیادہ خوراک۔ بلند فشارِ خون، بلیڈنگ ڈس آرڈر، بلڈ کلاٹنگ ڈس آرڈر اور سرطان بھی سبب بن سکتے ہیں۔ چوٹ لگنے کی صورت میں یااگر ناک سے 20 منٹ تک خون نہ رکے تو طبی امداد لینی چاہیے۔ کیونکہ ایسی صورتوں میں زیادہ تر اندرونی حصوں سے خون آ رہا ہوتا ہے جو خطرناک ہو سکتا ہے۔ تشخیص: ناک سے خون بہنے کی صورت میں سبب جاننے کے لیے ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے۔ وہ کسی بیرونی شے کی موجودگی چیک کرتا ہے۔ وہ میڈیکل ہسٹری اور ادویات کے استعمال کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اگر کوئی اور علامت ہو تو وہ ڈاکٹر کو بتانی چاہیے۔ سبب کا پتا چلانے کے لیے مندرجہ ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؛ خون میں خرابی کا پتا چلانے والا کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ (سی بی سی)، خون جمنے کی صلاحیت کا پتا لگانے والا پارشل تھرومبوپلاسٹین ٹائم (پی ٹی ٹی)، ناک کی اینڈو سکوپی، ناک کا سی ٹی سکین، چہرے اور ناک کا ایکسرے۔ علاج: علاج کا انحصار ناک سے خون بہنے کی وجہ اور قسم پر ہوتا ہے۔ اگر ناک کے بیرونی حصے سے خون کا بہاؤ ہو تو ناک کے اگلے نرم حصے کو 10 منٹ دبا کر بند کریں، تھوڑا سا آگے جھکیں اور منہ سے سانس لیتے رہیں۔ خون کو روکنے کے بعد لیٹیں مت۔ اس سے خون معدے میں جا سکتا ہے۔ 10 منٹ بعد ناک چھوڑ کر دیکھیں کہ خون آنا بند ہوا ہے یا نہیں۔ ٹھنڈا کپڑا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناک کے اندرونی حصے سے آنے والا خون گلے میں بھی جا سکتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بچاؤ: اس مسئلے سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ اپنے گھر میں نمی کی مقدار برقرار رکھیں۔ ناک میں انگلی گھسیڑنے سے گریز کریں۔ ناک میں خشکی کی صورت میں خصوصی جیل یا سپرے استعمال کریں۔


 

saviou

Manager
Aug 23, 2009
41,204
24,144
1,313
ناک سے خون بہنا

ڈاکٹر ایلین لو

ناک سے خون بہنا عام مسئلہ ہے۔ زیادہ تر یہ کسی خطرناک مرض کی علامت نہیں ہوتا۔ ناک میں خون کی بہت سی وریدیں ہوتی ہیں جو ناک کے سامنے والے اور پچھلے حصے میں بیرونی سطح کے قریب ہوتی ہیں۔ یہ کمزور ہوتی ہیں اور ان میں سے آسانی سے خون بہہ سکتا ہے۔ ناک سے خون بہنے کی دو اقسام ہیں۔ ایک میں ناک کے سامنے والے حصے کی خون کی وریدیں پھٹتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔ دوسری میں ناک کے اندرونی یا پچھلے حصے کی وریدوں سے خون بہتا ہے۔ چونکہ اندرونی حصے میں خون کا بہاؤ گلے میں جا سکتا ہے، اس لیے یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ وجوہات: ناک سے خون بہنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کبھی کبھار ناک سے خون آنا عموماً خطرناک نہیں ہوتا لیکن اگر ایسا مسلسل ہو تو کوئی سنجیدہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ خشک ہوا ناک سے خون بہنے کی سب سے عام وجہ ہے۔ اگر آپ خشک موسم میں ہیں یا سردی کی وجہ سے حدت پیدا کرنے کا کوئی سسٹم لگا رکھا ہے تو اس ماحول میں ناک کی اندرونی جھلی خشک ہو جاتی ہے۔ جب اسے تھوڑا سا کھرچا یا رگڑا جاتا ہے تو خون بہنے لگتا ہے۔ دیگر عام وجوہ میں شامل ہیں؛ کسی بیرونی شے کا پھنس جانا، کیمیکل سے سوزش، الرجی، ناک میں زخم، ناک میں انگلی ڈالنا، سرد ہوا، سانس کی نالی کے اوپری حصے میں انفیکشن، اسپرین کی زیادہ خوراک۔ بلند فشارِ خون، بلیڈنگ ڈس آرڈر، بلڈ کلاٹنگ ڈس آرڈر اور سرطان بھی سبب بن سکتے ہیں۔ چوٹ لگنے کی صورت میں یااگر ناک سے 20 منٹ تک خون نہ رکے تو طبی امداد لینی چاہیے۔ کیونکہ ایسی صورتوں میں زیادہ تر اندرونی حصوں سے خون آ رہا ہوتا ہے جو خطرناک ہو سکتا ہے۔ تشخیص: ناک سے خون بہنے کی صورت میں سبب جاننے کے لیے ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے۔ وہ کسی بیرونی شے کی موجودگی چیک کرتا ہے۔ وہ میڈیکل ہسٹری اور ادویات کے استعمال کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اگر کوئی اور علامت ہو تو وہ ڈاکٹر کو بتانی چاہیے۔ سبب کا پتا چلانے کے لیے مندرجہ ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؛ خون میں خرابی کا پتا چلانے والا کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ (سی بی سی)، خون جمنے کی صلاحیت کا پتا لگانے والا پارشل تھرومبوپلاسٹین ٹائم (پی ٹی ٹی)، ناک کی اینڈو سکوپی، ناک کا سی ٹی سکین، چہرے اور ناک کا ایکسرے۔ علاج: علاج کا انحصار ناک سے خون بہنے کی وجہ اور قسم پر ہوتا ہے۔ اگر ناک کے بیرونی حصے سے خون کا بہاؤ ہو تو ناک کے اگلے نرم حصے کو 10 منٹ دبا کر بند کریں، تھوڑا سا آگے جھکیں اور منہ سے سانس لیتے رہیں۔ خون کو روکنے کے بعد لیٹیں مت۔ اس سے خون معدے میں جا سکتا ہے۔ 10 منٹ بعد ناک چھوڑ کر دیکھیں کہ خون آنا بند ہوا ہے یا نہیں۔ ٹھنڈا کپڑا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناک کے اندرونی حصے سے آنے والا خون گلے میں بھی جا سکتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بچاؤ: اس مسئلے سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ اپنے گھر میں نمی کی مقدار برقرار رکھیں۔ ناک میں انگلی گھسیڑنے سے گریز کریں۔ ناک میں خشکی کی صورت میں خصوصی جیل یا سپرے استعمال کریں۔


mufeed sharing
waise is marhale se kuch din pehle hi guzar chuke hain
garm hawa ki wajhe se infection ho gaya tha abhi theek hai Alhamdulillah
 
Top
Forgot your password?