مہم جوئی کی تاریخ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,624
5,633
1,313
Lahore,Pakistan
مہم جوئی کی تاریخ



پروفیسر احمد الدین

ہر دور میں مہم جوئی یا کھوج علم جغرافیہ کا خاص موضوع بحث رہا ہے۔ جغرافیائی کھوج دستاویزی تاریخ سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ابتدا میں اس کا مقصد مختلف مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور ان کو اپنے اہل ملک کے سامنے پیش کرنا تھا۔ جغرافیائی کھوج کی شروعات بحیرۂ روم سے شروع ہوتی ہے جبکہ مشرقی روم کے تینوں جانب واقع ساحلی علاقے کو یورپ، ایشیا اور افریقہ کے نام دیے گئے تھے لیکن بعد میں جب جغرافیائی معلومات میں اضافہ ہوا تو یہی نام دنیا کے تین بڑے براعظموں کو دیے گئے۔ چودہویں صدی قبل مسیح سے بہت پہلے اہل مصر نے اپنے ملک کے جنوبی حصے میں دریائے نیل کے بالائی حصے اور شمال مشرق میں اسیریا کی سرحدوں تک نہ صرف وسیع علاقوں کی چھان بین کر لی تھی بلکہ ان پر قابض بھی ہو گئے تھے۔ لیکن سمندر کو پار کرنے والے سب سے پہلے محققین فونیقی (Phoenicians) سمجھے جاتے ہیں جن کی جدوجہد سے 14سو قبل مسیح میں سیڈون تجارتی بندرگاہ بن گیا تھا اور ٹائر (Tyre) کو غیر معمولی شہرت حاصل ہو گئی تھی نیز ٹائر اور سیڈون کے تاجروں نے روم کے ساحل کی مکمل طور پر کھوج کر لی تھی۔ آٹھ سو قبل مسیح سے پہلے قرطاج کی بنیاد رکھ دی تھی۔ یہ اور جزیرہ نماآئبیریا کے باشندوں نے ٹِن کی تجارت کی غرض سے کارنوال کے شمال میں بحراوقیانوس کے ساحل کا سفر کیا تھا۔ اس کے علاوہ اہل مصر کی حمایت سے افریقہ کے ساحلی علاقہ اور بحیرہ احمر تک تجارت کو وسعت دی اور ایسے مقامات تک پہنچے جہاں انہیں سونا اور ہاتھی دانت دستیاب ہوئے تھے۔ غالباً یہ ملک عرب کا ساحل تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے راستے ہندوستان بھی پہنچے ہوں۔ مشہور مؤرخ اور جغرافیہ دان ہیروڈوٹس نے مصر میں یہ سنا تھا کہ چھ سو قبل مسیح میں بادشاہ نیکو کے عہد میں ایک فونیقی بحری جنگی بیڑا بحیرہ احمر سے جنوبی جانب ساحل افریقہ کو بھیجا گیا تھا ۔وہ ملک مصر ’’پِلرز آف ہرکولیس‘‘ کے راستے واپس ہوا۔ ہیروڈوٹس غالباً پہلا یونانی سیاح ہے جس نے ایران، مصر، کوہ قاف اور اٹلی کی سیاحت کا مکمل اور معتبر بیان دیا۔ پانچویں صدی قبل مسیح کے بعد فونیشیا کے مقابلے میں یونان کی شہری ریاستوں اور ان کی نو آبادیات کی بحری تجارت کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی۔ مسیلیا، جو موجودہ مارسیلز (فرانس) کے مقام پر واقع تھا، یونانیوں کی ایک نوآبادی تھی، جہاں سے فی تھیئز نے 330 ق م میں اپنا نہایت ہی اہم بحری سفر شروع کیا تھا۔ غالباً وہ پہلا جہاز ران تھا جس نے اپنے فلکیاتی مشاہدات سے مختلف مقامات کا محل وقوع متعین کیا تھا۔ اس نے برطانیہ کے شمال اور آرکٹک کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ بعد میں اس نے شمالی سمندر (نارتھ سی) کے مشرقی حصہ اور بالٹک کا سفر کیا۔ اسی زمانہ میں اہل یونان سکندراعظم کی فتوحات کے باعث ہندوستان کے حالات سے واقف ہوئے۔ سکندر کا ایک فوجی افسر دریائے سندھ سے خلیج فارس تک بحری جنگی بیڑا لے جانے میں کامیاب ہوا۔ حکومت روم کے عروج و توسیع سے بحیرہ روم کی سرحد پر واقع تمام علاقوں کے حالات جمع کرنے میں کئی بحری و بری سفروں کی ہمت افزائی ممکن ہو سکی۔ سلطنت روم کے زوال اور شمال سے بربری حملوں کے بعد عربوں نے ایشیائی اور افریقی صوبوں پر اپنا تسلط جمایا اور بڑی تیزی کے ساتھ وہ یورپ کے جزیرہ نما میں آگے بڑھ سکے۔ یونانیوں اور رومیوں کی جمع کردہ جغرافیائی معلومات جو سکندریہ میں موجود تھیں، عربوں کے ہاتھ آئیں اور انہوں نے انہیں استعمال کیا۔ اہل عرب نے ایک ہزار صدی سے قبل ہندوستان، چین اور افریقہ کے مشرقی ساحل پر تجارت کرتے ہوئے بحرہند اور افریقہ کے اندرونی علاقوں کی صحیح معلومات حاصل کر لی تھیں۔ اس دور کے مشہور و معروف جغرافیہ دانوں اور مصنفین میں ابوزید، مسعودی اور ادریسی کا شمار ہوتا ہے۔

 
Top
Forgot your password?