ملک میں72واں یوم آزادی بطوریوم یکجہتی کشمیر منایا گیا

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,141
1,313
Lahore,Pakistan
ملک میں72واں یوم آزادی بطوریوم یکجہتی کشمیر منایا گیا
115190


ملک بھر میں 72 واں یوم آزادی بطور یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و خروش سے منایا گیا، ملک کے مختلف شہروں میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پرچم کشائی کی مرکزی تقریب اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں ہوئی جس میں صدر مملکت عارف علوی نے پرچم لہرایا جبکہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سمیت پارلیمنٹ کے دیگر اراکین، ملک کی سول اور اعلی فوجی قیادت جبکہ غیر ملکی سفیر اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت پر یوم آزادی کی مناسبت سے سبز ہلالی پرچم لہرا گیا، پرچم کشائی کی تقریب میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور دیگر معزز ججز شریک تھے۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اس ملک میں قانون کی بالادستی نہ ہوئی تو دشمن ہمیں للکارتے رہیں گے، ہم اپنے اپنے گھروں کو درست کریں اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کریں۔


گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیراعلی سردار عثمان بزدار نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی جبکہ دونوں عہدیداروں نے مفکر پاکستان علامہ اقبال کے مزار پر حاضری بھی دی۔ گورنر اور وزیراعلی پنجاب نے علامہ اقبال کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔


لاہور ہائی کورٹ میں یوم آزادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے دیگر ججز کے ہمراہ عدالت عالیہ کی عمارت پر پرچم لہرایا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم خان کا کہنا تھا کہ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ آزادی ایک نعمت ہے اور ہم اس نعمت کیلئے اپنے رب ذوالجلال کے سامنے سربسجود ہیں اور اس آزاد ریاست کیلئے جدوجہد کرنے پر ہم بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، ان کے ہم عصروں اور اس ساری جدوجہد میں قربانیاں دینے والے اپنے بزرگوں کو سلام پیش کر تے ہیں۔


اس کے علاوہ وہاڑی، سرگودھا، منڈی بہاوالدین اور دیگر شہروں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں جس میں ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں۔


ادھر پشاور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات نے پرچم لہرایا اور اس موقع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔


کوئٹہ میں پرچم کشائی کی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے پرچم لہرایا۔


دریں اثناء بھارت کے شہر نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن میں یوم آزادی کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ مذکورہ تقریب کا انعقاد کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور انکے حق خودارادیت سے متعلق پاکستان کے فیصلے کے مطابق ہوا۔ نئی دہلی میں تعینات مقام ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے پاکستان کا پرچم لہرایا اور تقریب کے شرکا کو یوم آزادی کے حوالے سے مبارک باد پیش کی۔


انہوں نے اس موقع پر صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کا پیغام پڑھ کر سنایا جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن اسکول کے بچوں نے ملی نغمے گائے اور ٹیبلو پیش کیے۔علاوہ ازیں دنیا کے دیگر ممالک میں قائم سفارت خانوں اور قونصلیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں۔


ملک کے دیگر علاقوں کی طرح آزاد کشمیر میں بھی جشن آزادی مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔


آزاد کشمیر میں یوم آزادی کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد خصوصی دعاؤں سے کیا گیا، مرکزی تقریب ایوان صدر مظفرآباد میں منعقد کی گئی، تقریب میں سیکرٹریز، سربراہان محکمہ جات جامعات کے وائس چانسلرز طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے پرچم کشائی کی، پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور بچوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لئے ملی نغمے پیش کئے۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، زرائع ابلاغ پر پابندیاں اور خوراک کی قلت تاریخی قتل عام کے بھارتی منصوبے کا حصہ ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری کا دوہرا معیار ہندوستانی افواج کو سازگار ماحول فراہم کررہا ہے۔


یوم آزادی کے موقع پر آزادکشمیر کے دیگر شہروں میں بھی سرکاری اور نجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تقریبات سمیت ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔


نارووال میں 14 اگست کا کیک بابا گرو نانک کے گردوارے پر سکھ کمیونٹی نے کاٹا۔ کیک پر پاکستان کا پرچم اور کرتار پور صاحب لکھ ہوا تھا، سکھ یاتریوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے دعا کی۔


گوجرانوالہ میں تحریک انصاف کے سینئرراہنما یونس انصاری کی قیادت میں آزادی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں تحریک انصاف کے کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی میں پاکستانی و کشمیری پرچموں کی بہار دیکھی گئی اور شہریوں نے کشمیربنے گا پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔


فیصل آباد کے نواحی علاقے پیرمحل میں 14اگست کو منانے کے لئے موٹروے پولیس ایم تھری بھی پر جوش نظر آئی۔ موٹر وے پولیس کی جانب سے ایم تھری کے مختلف ٹول پلازوں پر تحائف کی تقسیم کیے گئے۔ موٹروے پر تحائف کے ساتھ پھولوں کے گلدستے قومی پرچم اور کشمیری پرچم بھی تقسیم کیے گئے۔ تحائف اور پرچم ایس ایس پی موٹروے ایاز سلیم کی طرف سے دیئے جا رہے ہیں۔


کراچی میں پیپلزپارٹی نے یوم آزادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیئے ریلی نکالی۔ ریلی وزیر اعلی سندھ کی سربراہی پیپلز سیکریٹریٹ سے ایمپریس مارکیٹ تک نکالی گئی۔ پیپلز سیکریٹریٹ پر پیپلزپارٹی کے رہنما اور کارکنوں کی بڑی جمع تھی۔


اُدھر اے این پی رہنما شاہی سید کی سربراہی میں وفد پیپلز سیکریٹریٹ آیا، ریلی کے باعث پیپلزسیکریٹریٹ چورنگی پر بدترین ٹریفک جام رہا۔


مزید برآں پاکستان ہائی کمیشن لندن میں پرچم کشائی کی تقریب کی گئی۔ ہائی کمشنر آف پاکستان نفیس ذکریا نے پاکستانی پرچم بلند کیا۔ بری، بحری و فضائی افواج کے افسران بھی پرچم کشائی کی تقریب میں شریک ہوئے ۔ اوورسیز کمیونٹی کی بڑی تعداد نے یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی۔ پاکستان سمیت کشمیر زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔


ننکانہ صاحب میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی کشمیر بنے گا پاکستان، مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار کے نعرے لگائ،ے۔


ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 5 اگست کے ایکشن سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک کو مزید تقویت ملے گی۔ عید کے روز بھی ہمارے بھائیوں پر ظلم ڈھائے گئے۔ مساجد کو تالے لگا دیے گئے۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی سامنے آئی ہیں۔ جسے دیکھنے کی مجھ میں سکت نہیں، یوم پاکستان کے موقع پر کشمیری بھائیوں کو یاد رکھیں۔

115191

خیبر پختونخوا کے ضلع لنڈی کوتل میں دنیا کے سب سے بڑے اور طویل قومی پرچم کی رونمائی کی گئی ہے۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے پرچم کو سروں پر بلند کر کے مارچ کیا۔ یہ قومی پرچم 3 ہزار 600 فٹ طویل ہے،جب کہ اس کی چوڑائی 34 فٹ اور وزن 24 من ہے۔


اس طویل ترین قومی پرچم کی تیاری پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی ہے، جھنڈے کو خیبر سے میچنی پوسٹ تک لے جانے کے لیے ایک ہزار رضاکاروں نے حصہ لیا۔ رضا کاروں کا تعلق اسکولوں اور کالجز سے تھا، طلبہ کے ساتھ مقامی افراد نے بھی اس میں حصہ لیا، یہ پرچم مقامی شہری نے تیار کرایا۔

 
Top
Forgot your password?