مصر کے اہم قدیم آثار

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
مصر کے اہم قدیم آثار
114811


عرفان حبیب

مصر اور مشرق کے دوسرے علاقوں میں یونان کے عہدِ قدیم (ہیلینی دور) سے متعلق واحد شہر جس کے باقیات میں کھدائی باضابطہ طور پر عمل میں آئی وہ دور دور ایورپس (Dura Europos) ہے۔ وسطی فرات کے کنارے واقع یہ مقام ایک لشکر گاہ تھا۔ اس کی تعمیر میں معمولی قسم کے پتھر، روڑے اور کچی اینٹیں استعمال ہوئیں۔ ہیلینی دور (سکندرِ اعظم کی وفات سے سلطنت روم کے آغاز تک کا دور) میں یہ کوئی اہم مقام نہیں تھا۔ اس کا نقشہ ہپوڈامی طرز کا ہے اور وسط شہر میں مستطیل شکل کے بازار کے آثار ہیں۔ غالباً اس علاقے کا قدیم شہر لاوڈیسیہ (Laodicea) ، لتاکیہ (Latakia) جنوبی ترکی کا انطاکیہ (Antioch)، بغداد کے قریب دریائے دجلہ پر واقع سیلوسیہ (Euleus) اور خزستان (ایران) میں ایولیس (Seleucia) اور شوش (Susa) جیسے بڑے بڑے شہر بھی اسی طرح کے تھے۔ یہی نقشہ مصر کے مشہور شہر سکندریہ میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ شہر دریائے نیل کے ڈیلٹا کے مغرب میں ساحل پر ایسی جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں ایک جزیرے اور اس تک پہنچنے والے سنگ بستہ راستے کی وجہ سے دہری بندرگاہ بن گئی تھی۔ اس جزیرے پر روشنی کا ایک مینار یا لائٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا تھا۔ شہر لمبائی میں بسا ہوا تھا۔ اس کی چوڑائی بہت کم تھی۔ اس میں یونانی، مصری اور یہودی باشندوں کے مکانات تھے اور ایک قصر شاہی بھی تھا جہاں اب میوزیم اور کتب خانہ ہے۔ شہر کے جنوبی حصے میں پامبے مینار نامی مقام پر سیراپیوم (Serapeum) یا سیراپس (Serapis) دیوتا کے مندر کے آثار بھی برآمد ہوئے جس کے صرف تہ خانے اور محراب باقی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹالمی اول نے اپنی یونانی اور مصری رعایا کے لیے بنوایا تھا لیکن کھدائی میں دریافت شدہ ایک زریں لوح سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مندر ٹالمی ثالث کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ مصر کے دوسرے مقامات پر ٹالمی خاندان کے حکمرانوں نے روایتی مصری طرز کے مندروں کی بھی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان میں ایک مندر بمقام ادفو (Edfu) ہے جو دست برد زمانہ سے تقریباً پوری طرح محفوظ رہ گیا ہے ۔ اس کی دیواروں پر مندر کی رسوم کی صراحت تصویری رسم الخط میں درج ہے ۔ یونان سے ترک وطن کر کے یہاں بسنے والوں کے لیے جو شہر اور دیہات بنائے گئے تھے ان کے آثار قاہرہ کے قریب نخلستان فایوم (Fayum) کے سوا کہیں اور نہیں ملے ہیں۔ اس مقام پر کئی ایسی آبادیوں کے نامکمل آثار برآمد ہوئے ہیں جن میں سنگی مندر بنے ہوئے تھے اور کچی اینٹ کے متعدد مکانات ایک دوسرے سے بہت ہی قریب اور بے ترتیب بنائے گئے تھے۔ مشرق میں یونان کے عہد قدیم (ہیلنی دور) سے متعلق معلومات زیادہ تر اس کے آثار قدیمہ سے حاصل ہوئی ہیں اور بڑی حد تک یہ معلومات چٹانوں پر کندہ کتبوں سے ملی ہیں۔ ان کتبوں میں شہروں کے قوانین اور احکام، بادشاہوں کے مکتوب، شاہی فرامین، عدالتی فیصلے اور ہر قسم کی سرکاری تحریریں اور اس کے علاوہ خانگی خطوط، بہی کھاتے معاہدات اور یادداشتیں درج ہیں۔ متعدد منتشر یونانی ادب پارے بھی گرم آب و ہوا کی وجہ سے محفوظ رہ گئے ہیں۔ ہیلینی حکمرانوں نے کثیر تعداد میں نہایت نفیس قسم کے چاندی کے سکے جاری کیے تھے جن سے بڑی تاریخی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ بعض سکوں اور خصوصاً باختر (Bactrian) کے بادشاہوں کے جاری کردہ سکوں پر حکمرانوں کی شبیہیں بڑی حسن کاری کے ساتھ بنائی گئی ہیں۔ اس دور کی کوزہ گری یا ظروف سازی میں کوئی خاص بات نہیں سوائے سرخ رنگ کے پیالوں کے، جن پر نقش کاری کے ذریعے طرح طرح کے عجیب و غریب مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ اسی زمانہ میں اسی ڈھب کا دھات کا کام بھی ہوتا تھا لیکن اس کے آثار بڑی حد تک ناپید ہیں۔ گوہر تراشی اور رنگارنگ زیورات سازی کو مقبولیت حاصل تھی۔ اس زمانہ میں بڑے پانچ گیلن کے لیے دو دستہ سفالی برتن اشیا کی مقدار کے پیمانے کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے جن کے دستے پر عام طور پر مقام اور تاریخ ساخت کی چھاپ ہوتی تھی۔ ان سے تجارت کی سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہیلینی دور میں شیشہ سازی کا آغاز ہو چکا تھا اور شام اور مصر میں اعلیٰ قسم کی بوتلیں اور پیالے کثیر تعداد میں بنتے تھے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?