مجھے اردو سے پیار ہے

Seemab_khan

ღ ƮɨƮŁɨɨɨ ღ
UpComing Staff
“A Nation is Dumb without a National Language”

میرے لیے وہ دن حیرت کا تھا جب ایک سکول کی تقریب انعامات میں مہمان تھا ایک اور مہمان شخصیت نے جو کے پروفیسر تھے، اپنی گفتگو میں کہا:
“آج ہم اس لیے ترقی نہیں کر رہے کہ ہمیں انگلش نہیں آتی، جس دن قوم نے انگلش سیکھ لی اس دن سے قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔
اب اردو کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے گھروں میں انگلش بولنا چاہیے، تا کہ ہمارے بچے انگلش سیکھ سکیں اور ہم جلد از جلد ترقی کر سکیں۔”

اردو کی اب ضرورت نہیں رہی ناکارہ ہو گئ ہے
ویسے تو اس بزم میں گفتگو کے لیے میرا نام شامل نہیں تھا لیکن انہونی یہ کہ میرا نام پکارا گیا۔ خیر اٹھا اور بچوں سے گفتگو کی تو میں نے کہا میں پروفیسر صاحب کی بات سے مکمل اتفاق نہیں کرتا البتہ یوں ہے کہ
مقابلہ کے لیے انگلش ضروری ہے۔
اور
ترقی کے لیے اپنی ہی زبان اردو
اور
اگر پروفیسر صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کروں کہ اردو کی اب ضرورت نہیں رہی ناکارہ ہو گئ ہے تو یقینا اس کی جگہ انگلش کو دے دینی چاہیے۔ میری اس بات پر پروفیسر صاحب نے آنکھوں آنکھوں میں مجھے سراہا۔


اگلے ہی لمحے میں نے کہا تو آج سے ہم اردو کو خیر آبا کرتے ہیں اگر آپ لوگ اتفاق کرتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ کرنا ہو گا کہ اپنا اپنا نام بدلیں۔

پروفیسر صاحب کی صحت کے حساب سے ان کا نام ٹونی
ذرا پانچ منٹ کے لیے آپ سب بھی سوچیں کے آپ کا کیا کیا نام ہونا چاہیے
عبد اللہ چینج ان ٹو
عبد الحمید چینج ان ٹو
اسلم چینج ان ٹو



چلیں شاباش سوچیں اردو بہت بری ہے تو بدلیں اپنا اپنا نام
میری اس بات پرلوگ چونک گٸے مجھے یہ شرارت کرنا پڑی کیونکہ غلامانہ افکار کی ترویج کے لیے استعمال ہونے والے اسٹیج پر میرا یہ بولنا جہاد سے کم نہ تھا۔

حکومتی سطح پر تراجم ٹیم ہونی چاہیئے
میرے دل میں تکلیف تھی کہ ہمارے معلم ہی ہماری نٸی پود اور نسل کو احساس کم تری میں مبتلا کریں گے تو ترقی کی فکر اور سوچ کہاں سے لاٸی جا سکے گی؟
پیر محمد کرم شاہ الازہری فرمایا کرتے تھے:
“آئندہ جنگیں میدان جنگ میں نہیں۔ کلاس رومز میں لڑی جائیں گی”


یہ بزم اس کی ایک اہم مثال تھی ۔ زبان کسی قوم کی پہچان ہوا کرتی ہے، زبان کا تعلق نہ صرف ظاہری شخصیت سے ہوتا ہے بلکہ ثقافت کا اظہار بھی زبان سے ہوتا ہے۔
مجھے بتاٸیں کہ ابن حیان، ابن سینا، البرونی، ابن الہیشم اور دیگر بہت سے ایسے نام ہیں، کیا ان لوگوں نے انگلش میں کام کیا؟


بغداد مرکز علم تھا، پوری دنیا کے ساٸنسدانوں میں 60% حصہ مسلمانوں کا ہے، اس وقت سے جب کہ انگلش کا وجود تک نہیں تھا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کوٸی پڑھا لکھا شخص زبان کی تبدیلی کو ترقی کا راز قرار دے یا سبب قرار دے۔ آپ اپنے بچوں کویہ بتاٸیں اور مکمل اعتماد سے بتاٸیں کہ مسلمانوں نے یونان سے ساٸنس سیکھی، پھر یورپ والوں نے مسلمانوں سے یہ علوم سیکھے۔


یہ انگریز تو صاف رہنا نہیں جانتا تھا، تاریخ کی سچائی دیکھیں اور انسان کی فطرت بھی کہ انسان اپنی مادری زبان میں کوٸی بھی بات سنے تو جلد سمجھ لیتا ہے اگر اس کا تعلق پریکٹیکل سے ہے تو جلد عمل میں لا سکتا ہے لیکن جب ایک بات ہے ہی دوسری زبان کی تو پہلے اس کا سننا پھر سمجھنا پھر ترجمہ سوچنا مفہوم نکالنا نصف صلاحیت تو یہاں استعمال ہو جاتی ہے۔ ساری قوم کو پاگلوں کی طرح بیس بیس سال انگلش سیکھنے پر ضاٸع کروائے جاتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ دوسری زبان مقابلے کے لیے سیکھی جا سکتی ہے۔ جیسے انگریزوں نے عربی سیکھی، فارسی سیکھی علوم کو اپنی زبانوں میں منتقل کیا ایسے حکومتی سطح پر ٹیم بناٸی جائے اور تراجم کروائے جاٸیں۔ مختلف قوموں کے اہم علوم سمجھ کر ترجمہ کراویا جائے اور یہ کام 100 یا 1000 یا ایک لاکھ لوگوں کی ٹیم بآسانی کر سکتی ہے۔

ہماری قوم کو ایسا ٹیکہ لگایا گیا ہے کہ نگلش فوبیہ ہو گیا
ہم نے ساری قوم کو زبان کی تبدیلی کا ایسا ٹیکہ لگایا ہے کہ فوبیہ ہو گیا ہمارے بچوں نے اگر شوخی بھی کرنی ہے تو انگلش بول کر۔ حال یہ کہ ثقافت ہی بدلی جا رہی ہے، آپ، جناب، حضور کی بجائے you ،you کے الفاظ نے باپ، بیٹا، بڑا، چھوٹا سب کی تمیز ختم کر دی۔ قوم کی سیکھنے والی قابلیت دوسری قوم کی زبان سیکھنے میں گزر جاتی ہے جب بچہ کسی کام کا ہوتا ہے، نا جانے اس زبان کا کیا جادو ہوتا ہے نکما ہونے کے باوجود وہ خود کو پڑھا لکھا سمجھدار سمجھنے لگتا ہے اور جن کو انگلش نہیں آتی ان کو جاہل۔

میں ایک پلازہ میں کھڑا تھا کہ دو لڑکیاں موباٸل لینے آٸی اور دکاندار کے سامنے اس کے خلاف آپس میں انگلش میں بات کررہی تھی اور مسکرا رہی تھی کہ انگلش کا فاٸدہ یہ ہے کہ اس جاہل کو کچھ نہیں پتہ خیر میں نے ان سے ان کی یونیورسٹی پوچھی اور کہا کہ آپ زبان کی تبدیلی سے خوب فاٸدہ اٹھانا جانتی ہیں مگر افسوس یہ طریقہ ہماری ثقافت کا حصہ نہیں۔ ہمارے بزرگوں کا سکھایا ادب و آداب نہیں، آپ چاہتی تو تھوڑا ہٹ کر اپنے معاملات پر بات کر سکتی تھی یہ آپ کاحق تھا لیکن آپ کی باتیں سن کر افسوس ہوا۔ لہذا میری یہ بات یاد رکھیں زبان کی تبدیلی نے آپ کو ایجوکیٹ نہیں کیا بس کوے والی چالاکی دی ہے۔

جی ہاں ہمارے ہاں یہ رویہ عام ہے عربی اور فارسی انبیا اور اولیا کی زبان رہی ہے الہامی اثرات اور ثقافت سے بھرپور ہیں ان سے اردو کا تخلیق پانا اردو میں پیار محبت ادب اخلاص کی خوشبو ہے۔

بہرحال میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کسی دوسری زبان کو خود پر سوار کرکے احساس کم تری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اپنی زبان میں آپ اپنی ضروریات باآسانی پوری کر سکتے ہیں۔

آٸیں اردو سے پیار کریں، اس کو عام کریں۔

ہم اپنی ذات میں پاکستان ہیں اور اردو ہماری پہچان ہے

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی ڈائری سے بعنوان “میں اور میری زبان”


 
Top