فن ِخطاطی

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
فن ِخطاطی
115017


وحید خان

نفیس قلم اور اعلیٰ پایہ کی خوش نویسی کو خطاطی کہتے ہیں۔ تحریر ترسیل خیالات کا ایک اہم ذریعہ ہے جس میں قلم، برش وغیرہ جیسے مناسب آلات سے مسلمہ علامتوں، نشانوں یا اشکال کے ذریعے کاغذ یا اسی قسم کی کسی اور چیز پر اپنے مطلب کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں تحریر میں، تصویر یا خاکہ کی طرح بندھے ٹکے قاعدوں کی پابندی نہیں ہوتی بلکہ آزادی سے کام لیا جا سکتا ہے اور حروف نئے نئے طریقوں سے لکھے جاتے ہیں۔ ایک چابک دست اور حساس خطاط کا قلم ان کے تناسب اور حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ یہ دیکھنے میں انتہائی پُراثر اور دلکش معلوم ہوتے ہیں۔ خطاطی میں، خطاط کا انفرادی اسلوب نگارش، حروف کی ترتیب و تنظیم سے مطابقت رکھتے ہوئے بھی، پوری طرح حاوی رہتا ہے۔ حروف اور پورے لفظ کے مختلف حصوں کی بندش کا تناسب و توازن بگڑنے نہیں پاتا۔ خطوط کا یہی توازن کسی طرزنوشت کو خوبصورتی بخشتا ہے۔ ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح سے پہلے تحریر کے کسی باقاعدہ طریقے کا پتہ نہیں چلتا۔ تاہم ماضی کے ایسے متعدد آثار موجود ہیں جن کا تعلق قدیم حجری دور کے انسان کی ابتدائی تحریری کوششوں سے ہے۔ یہ غاروں کی دیواروں پر کندہ ہیں اور اشکال کی صورت میں ہیں۔ انسان میں چونکہ جمالیاتی احساس فطرتاً موجود ہے، اس لیے اس نے ترقی کی ہر منزل پر اپنی تحریر کو چاہے وہ تہجی ہو یا غیر تہجی، خوبصورت بنانے کی شعوری کوشش کی ہے۔ غیرتہجی رسوم خط میں سمیری، مصری، کریٹی، ہیٹیٹی، مائی اور وادی سندھ کے رسم خط قابل ذکر ہیں۔ یہ سب تحریریں نقشی، تصویری یا رمزی نوعیت کی ہیں۔ لیکن یہ بات پوری طرح تہجی رسمِ خط پر صادق نہیں آتی۔ تہجی رسم خط کو حسن کا رنگ روپ اختیار کرنے سے پہلے ارتقا کے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑا اور کثرت استعمال کے بعد ہی کہیں اسے خوش نما بنانے کی باقاعدہ کوشش شروع ہوئی۔ البتہ چین اور بعض دیگر علاقوں میں ذریعہ اظہار میں اس قدر حسن پیدا کیا گیا کہ اس میں اور خطاطی میں تمیز کرنا دشوار ہے۔ پہلے تہجی رسم خط کی ابتدا غالباً 1200-1800 ق م کے درمیان اس علاقے میں ہوئی جو اب فلسطین اور شام کہلاتا ہے۔ یہ رسم خط اس وقت کے معیار سے انتہائی سہل اور ترقی یافتہ تھا۔ اس لیے تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ وہ کئی تہذیبوں اور زبانوں میں رائج ہو گیا۔ اس رسم خط کو جو ابھی ارتقا کی ابتدائی منزلوں ہی میں تھا شمالی سامی اور جنوبی سامی رسم خط کا نام دیا گیا۔ جنوبی سامی رسم خط نے ترقی کر کے آرامی اور کنعانی جیسے اہم حروف تہجی کی شکل اختیار کر لی۔ پھر انہی سے سامی، ہندوستانی، یونانی، لاطینی، سلافی اور جدید مغربی رسوم خط کے علاوہ متعدد لپیاں، مختلف مراحل طے کرتے ہوئے وجود میں آئیں۔ ان سب میں کلاسیکی یونانی رسم خط نے، جس کی جڑیں چوتھی صدی ق م کے وسط تک کافی مضبوط ہو چکی تھیں، اور باتوں کے علاوہ خوش نمائی اور نزاکت کے لحاظ سے بھی ایک مستقل شکل اختیار کر لی۔ یہی خط قرونِ وسطیٰ میں بھی رائج تھا۔ اس دور میں یورپ کی متعدد خانقاہوں میں مقدس کتابوں کی کتابت کا کام جاری رہا جنہیں کاتب نہایت ہی رسمی، کھڑے خط میں لکھا کرتے تھے۔ ان خانقاہوں کے علاوہ کئی غیر مذہبی اداروں میں بھی کاتبوں کا گزر تھا۔ سرکاری محافظ خانوں میں بھی خصوصی کاتب مامور کیے گئے جو سرکاری دستاویزات کو ایک مخصوص اور واضح انداز میں تحریر کیا کرتے تھے۔ گو یہ تحریریں بہت ہی ستھرے اور باقاعدہ خط میں لکھی جاتی تھیں تاہم وہ فن خطاطی یا خوش نویسی کے زمرہ میں نہیں آتیں۔ فن خطاطی کی ترقی کا سہرا تو بعض مخصوص علاقوں اور قوموں کے سر ہے۔ خطاطی کو چینی، جاپانی، مصری اور عرب جیسی طباع قوموں نے آرائشی آرٹ کے درجہ پر پہنچا دیا۔ اہل چین کی غیر تہجی تحریر کی تاریخ تقریباً چار ہزار سال پرانی ہے۔ ان کے ہاں خوش نویسی کو روایتاً بہت بلند مقام حاصل ہے۔ اسے قدرتی مناظر کی نقاشی سے بھی اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جاپان کی قدیم نقشی تحریر بھی بڑی شہرت رکھتی ہے۔ چینیوں، جاپانیوں اور مصریوں کے علاوہ اس فن میں اہل عرب نے بھی بڑی مہارت حاصل کی۔ خطاطی سے انہیں نہ صرف گہرا شغف ہے بلکہ اس فن کے آرائشی پہلوؤں کو بروئے کار لانے میں انہوں نے کافی محنت کی ہے۔ خطاطی سے ان کی دلچسپی بڑی حد تک اسلام کی دین ہے۔ پیغمبراسلام حضرت محمدؐ نے نہ صرف قرآن مجید کی تلاوت و کتابت کی تلقین فرمائی بلکہ اس سے متعلقہ علوم نیز عام علوم کے حصول پر زور دیا۔ خود قرآن مجید میں کئی موقعوں پر تحریر کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ مسلمانوں نے اس فن کو آرٹ کے درجہ پر پہنچا دیا۔ قرآن مجید، جسے مسلمان تمام علوم کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں، نہایت ہی دیدہ زیب اور خوشنما خطوط میں لکھا جانے لگا۔ اس کی تزئین و جمال آرائی میں وہ کمال دکھایا گیا جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ قرآن مجید کی کتابت کی وجہ سے عربی رسم خط کا جمال نکھر آیا اور خطاطی نے ایک فن کی شکل اختیار کر لی۔ اس طرح عربی رسم خط کو، جو دنیا کے اہم رسوم خط میں سب سے کم عمر ہے، حروف تہجی والی تمام زبانوں میں ایک مخصوص مقام حاصل ہو گیا اور وہ دنیائے اسلام کی ایک امتیازی خصوصیت بن گیا۔ یہی نہیں، مغربی افریقہ سے لے کر انڈونیشیا تک مسلمان جہاں جہاں بھی گئے یہ رسم خط مقامی زبانوں کو متاثر کرتا گیا۔ دراصل عربی رسم خط کا دائرۂ اثر خود عربی زبان سے بھی آگے بڑھ گیا اور اکثر علاقوں میں یونانی یا مقامی رسم خط کی بجائے یہی رسم خط تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ رائج ہو گیا۔ فنکارانہ استعمال نے عربی رسم خط کو نہ صرف خوبصورتی بخشی بلکہ خطاطی کے کئی اسلوب پیدا کیے، جن میں سے اکثر آج تک رائج ہیں۔ ابتدا میں تو صرف دو ہی اسلوب رائج تھے۔ مراسلت اور مخطوطات کے لیے عام طور پر مدوّر یا شکستہ اور رواں خط استعمال ہوتا تھا۔ کتابی یا رسمی خط مذہبی یا سرکاری اغراض یا کسی یادگار کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اسی خط میں پتھر یا دھات پر عبارت کندہ کی جاتی تھی۔ اول الذکر خط کو ’’نسخ‘‘ اور مؤخرالذکر کو ’’کوفی‘‘ اسلوب کا پیش رو کہا جا سکتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ کوفی رسم خط کی ابتدا کوفہ میں ہوئی اور کوفہ کی مناسبت سے اس کا نام کوفی پڑ گیا۔ کوفی رسم خط بالکلیہ زاویہ دار ہوتا ہے اور قلم کی کشش سے اسے استوانی یا عمودی شکل دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس خط نسخ شکستہ اور منحنی ہوتا ہے اور پوری طرح گولائی نہیں رکھتا۔ وہ دو تہائی زاویہ نما اور ایک تہائی خم دار ہوتا ہے۔ عربی یا اسلامی رسم خط نے مختلف ملکوں میں مختلف شکلیں اختیار کیں۔ فن خطاطی کا بہت بڑا استاد ابن مقلہ تھا جس نے نہ صرف خط نسخ کو مکمل شکل دی بلکہ محقق، ریحان، توقیع اور رقاع جیسے کئی اسلوب ایجاد کیے۔ ابن مقلہ نے ابوعبداللہ حسن، محمد بن اسماعیل بغدادی، اسماعیل بن حماد الجواہری وغیرہ جیسے مشہور شاگرد پیدا کیے۔ فن خطاطی کی ایک اور ممتاز شخصیت ابن بوّاب کی تھی۔ اس کے شاگردوں میں ابن بصیص اور ابویوسف وغیرہ کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ایک اور ممتاز خطاط جمال الدین یا قوت ہے جو ثلث اور ریحان میں تمام اساتذہ پر سبقت رکھتا تھا۔ اس کے شاگردوں میں ارغن کابلی، نصراللہ طبیب اور احمد سہروردی جیسے ممتار کاتب شامل ہیں۔ دوسرے ملکوں میں عربی زبان پھیلنے کے بعد کئی نئے اسالیب کا اضافہ ہوا مثلاً بہار، طومار، مغربی وغیرہ۔ سپین میںجو اسلوب رائج ہوا وہ مغربی کہلاتا ہے۔ ایران میں تیرہویں صدی کے دوران ایک نئے اسلوب خط نے رواج پایا جو تعلیق کہلاتا ہے۔ پھر تقریباً ایک صدی بعد ایک اور اسلوب کو فروغ حاصل ہوا جس میں نسخ اور تعلیق دونوں کی خصوصیات موجود تھیں۔ اس اسلوب کو پندرہویں صدی کی ابتدا میں اہل ایران کی حسن کارانہ صلاحیتوں نے جلا بخشی۔ اس نے نستعلیق کا نام پایا اور ایران اور شمالی علاقوں کے علاوہ مشرق میں بھی دور دور تک پھیل گیا۔ کرسیوں کی کثرت اس خط کی خصوصیت گنی جاتی ہے۔ اس خط کے برتنے والوں میں میر علی تبریزی، سلطان علی مشہدی، میر علی ہروی اور میر عماد قزوینی کے نام سرفہرست ہیں۔ برصغیر میں مغلوں اور خاص طور پر بادشاہ اکبر نے فن خطاطی کی بڑی سرپرستی کی اور کئی ہمہ وقتی کاتب مقرر کیے جنہیں سرکاری خزانے سے تنخواہ ملا کرتی تھی۔ ’’آئین اکبری‘‘ میں اس وقت کے تمام ممتاز خوش نویسوں کی فہرست درج ہے۔ عبدالرشید دہلوی اور محمد حسین کشمیری جیسے اساتذہ اکبر ہی کے دربار سے وابستہ تھے۔ مؤخرالذکر کو ’’زرین قلم‘‘ کے لقب سے نوازا گیا تھا۔ شہنشاہ اورنگ زیب کو اس فن سے بڑی دلچسپی تھی۔ اسی طرح بہمنی بادشاہ محمود شاہ بھی ایک اچھا خطاط تھا۔ بہادرشاہ کے دور میں امیر احمد پنجہ کش دہلوی ایک مشہور کاتب گزرا ہے۔ مذکورہ بنیادی اسالیب کے علاوہ خود فنکار کی انفرادی اپچ اور اختراعی صلاحیت نے فن خطاطی کو مالا مال کیا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?