سکون کی جستجو

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,813
1,313
Lahore,Pakistan
سکون کی جستجو

انصر محمود بابر

ہمارے دور تعلیم میں تو جمع تفریق کے لیے کیلکولیٹر کا میسر ہونا بھی امیری کی علامت ہوتی تھی لیکن دماغ خوب چلتا تھا۔ وقت دیکھنے کے لیے خال خال لوگوں کے پاس گھڑی ہوا کرتی تھی۔ اس کے باوجودایک دوسرے کے لیے کافی وقت مل جایاکرتاتھا۔ محلے میں کسی کسی کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا اور پھر بھی بے حیائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ذاتی سواری کا دور دور تک کوئی تصور نہ تھا۔ پھر بھی سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو ہی جاتے تھے۔ کسی کسی پڑھے لکھے ’’بابو‘‘ یا ’’منشی‘‘ کے ہاں اخبار آیا کرتا تھا جو خبریں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے اور بڑے بوڑھے سر دھنتے جاتے۔ بڑی بیماری بخارکو مانا جاتا تھا جس کی اعلیٰ سے اعلیٰ دوائی کوئی کڑوی کسیلی گولی ہوتی اور یہ گولی بھی سب کو میسر نہیں ہوتی تھی۔ گھر میں 2 کمرے ہوا کرتے تھے۔ کچی دیواروں پر مٹی کا لیپ ہوتا اور ناہموار کچے فرش پر چارپائیاں گھسیٹنے کے نشانات ہوا کرتے۔گھر کے کھلے آنگن میں شام کو جب پانی کا چھڑکائو کرتے تو مٹی کی خوشبو روح تک میں اتر آتی۔ مہینے میں ایک آدھ بار گوشت پکتا تو شوربہ اور آلو بھی سالن کا حصہ ہوتے اور اس سالن میں بھی ہمسایوںکا حصہ ضرور ہوتا۔ بقر عید پہ گڑ والے میٹھے چاول پکتے اور ان نعمتوں پہ بھی خدا کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ روزوں والی عید پہ نئے کپڑے سلواتے اور وہ بھی نیلے رنگ کی اسکول یونیفارم تاکہ عید پہ نئے کپڑوں کا شوق بھی پورا ہوجائے اور اس کے بعد سارا سال سکول میں پہننے کے کام بھی آتی رہے۔ بالکل اسی طرح سیاہ رنگ کے جوتے خریدے جاتے اور یہ جوتے بھی سارا سال اسکول یونیفارم کا حصہ ہوتے۔ہر رشتے کا احترام ہوتا اور ہر جذبہ خالص ہوتا۔ سادہ لوگ، سادہ خوراکیں، سادہ طرز زندگی اور خلوص ان کا طرۂ امتیاز ہوتا۔ ان کی شخصیت میں ٹھہرائو، لہجے میں نرمی اور دل میں سکون کی ندیاں موجزن ہوتیں۔ زندگی اتنی بھر پور اور پرسکون ہوتی کہ کسی الف لیلوی داستان کا گمان ہوتا۔ آج کل کی طرح ہارٹ اٹیک، شوگر، فالج اور دماغی شریان پھٹنے جیسی مہلک بیماریوں کا کسی نے کبھی نام تک بھی نہ سنا ہوگا اور آج ہم ان سب کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ جب کہ آج ہمارے گھروں میںکئی کئی کمرے ہیں۔ ہرکمرے میں پختہ فرش، اس پہ خوبصورت اور قیمتی قالین، اٹیچ باتھ، بڑے سائز کی ایل سی ڈی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، مہنگا موبائل فون، آرام دہ بستر، پرشکوہ بیڈ اور صوفے، جدید ڈائننگ ٹیبل اور روزانہ انواع واقسام کے من و سلویٰ نما کھانوں کی ورائٹی کے علاوہ تقریباً اکثر گھروں میں مائکرو ویو اوون، فریج، اے سی، واشنگ مشینیں، بجلی بند ہونے کی صورت میں متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ سکون پھر بھی نہیں ہے۔ گھر سے باہر کی بات کریں تو شاندار گاڑی، انتہائی ڈیکوریشن والا ٹھنڈا ٹھار دفتر،جما جمایا کاروبار اور اوپر کی آمدنی کے ٹھاٹ باٹھ کے علاوہ شہر کے مہنگے مہنگے کلبوں کی ممبر شپ اور دیگر لوازمات کی بھرمار ہے۔ ہر چیز آپ کی قوت خرید میں ہے۔ آپ کسی ادارے میں چلے جائیں، لوگ ہاتھ باندھے آپ کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں۔ کاروبار، سیاست، معیشت، بیرون ممالک دورے اور اس جیسی ہر چیز آپ کی پہنچ میں ہے۔ آپ پھر بھی بے چین ہیں۔ آپ اپنا معمول بنالیں۔ آپ ہر ماہ کسی غریب رشتے دار کی چپکے سے مدد کردیا کریں۔ کسی پڑھے لکھے بے روزگار کو کام پہ لگوادیں۔ کسی طالب علم کی چپکے سے فیس بھردیا کریں۔ ہر ویک اینڈ پہ اپنے دوستوںکے ساتھ گپ شپ لگائیں۔ اکٹھے واک پہ جائیں۔ چائے کافی کے بہانے دوستوں کو وقت دیں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ بات بات پہ کھل کرہنسیں، قہقہے لگائیں۔ دوستوں اور بچوں کے ساتھ ٹرپ پہ جائیں۔ اپنی فیملی کو انٹرٹین کریں۔ اپنے شہر، گائوں یا محلے میں کوئی رفاہی کام کروادیں۔ میرا یقین ہے کہ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ آپ آرام سے سوسکیں گے۔ آپ کے دل کو قرار آجائے گا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?