روشنی تیرے جنم یگ پر ایک نظم

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,571
7,575
1,313
Lahore,Pakistan


روشنی تیرے جنم یگ پر ایک نظم





تیریاقلیم محبت میں رکا ہے


اک مسافر بے ارادہ، بے مجال


تجھکو چھو کر


اصل ہونے کی تمنا میں نڈھال


خواب کے اندر بکھرتے خواب کا زخمی ملال


راکھ پر آنکھیں بناتی


انگلیوں کا بے بصر اندھا کمال


دم بدم رنگت بدلتے موسموں کے درمیاں


پھول کھلتی، دھول ملتی خواہشوں کا اندمال


بےعبادت بے دعا ارض و سما کے روبرو


ایک تابیدہ تیقن کو مجسم دیکھنے کی جستجو


لاحاصلی، کار زیاں، امر محال


رینگتی صدیوں، تھکی عمروں کے بوجھل بوجھ میں


تلملاتےماہ و سال


گردآلودہ مسافت ہمسفر مفقود ہے


راستہ بے سمت ہے مسدود ہے


اذن سفر کا کیا سوال


اےمرے عکس جمال


آگہی محدود ہے، تیری ارادت لا زوال


توہمیشہ کے لئے ہے، میں ذرا سا لمحہ بھر کااک خیال


٭٭٭

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?