روحانی مسائل کا قرآنی آیات سے حل , تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,289
10,627
1,313
Lahore,Pakistan
روحانی مسائل کا قرآنی آیات سے حل , تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

توبہ کی اہمیت



درود شریف تین بار ، سورئہ فاتحہ تین بار ، آیت الکرسی تین بار ، سورئہ اخلاص تین بار ، سورئہ فلق تین بار ، سورئہ ناس تین بار پڑھ کر دم کرنا اور جو پڑھ نہ سکے اس پر دوسرا دم کرے اور پانی پر دم کر کے پلانا ، ہر نماز کے بعد ورنہ صبح و شام رو زانہ ۱۱ مرتبہ پڑھنا بہتر ہے۔

فتنوں سے حفاظت

درود شریف تین بار ، سورئہ فاتحہ تین بار ، آیت الکرسی تین بار ، سورئہ اخلاص تین بار ، سورئہ فلق تین بار ، سورئہ ناس تین بار پڑھ کر دم کرنا اور جو پڑھ نہ سکے اس پر دوسرا دم کرے اور پانی پر دم کر کے پلانا ، ہر نماز کے بعد ورنہ صبح و شام رو زانہ ۱۱ مرتبہ پڑھنا بہتر ہے۔

پرہیزگاروں کی دوستی

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤ منین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’دو ایمان دار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کر تا ہے اور کہتا ہے ، خدایا ! فلاں شخص میرا ولی دوست تھا جو مجھے تیری اور تیرے رسول پاک ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا تھا ، بھلائی کی ہدایت کرتا تھا ، برائی سے روکتا تھا، پس اے باری تعالیٰ ! تو اسے راہِ حق پر ثابت قدم رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی تو اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے ۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی رو حیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوستی کا تعلق بیان کر و۔ پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا‘‘ ۔ (تفسیر ابن کثیر )

کام میں آسانی

’’ یَا سُبُّوْحُ یَا قُدُّوْسُ یَا غَفُوْرُ یَا وَدُوْدُ ‘‘ حاکم کے سامنے یا جس سے کام ہو یا جو پریشان کرتا ہو اس کے سامنے جانے پر اس سے بات چیت پر چپکے چپکے پڑھیں۔ بلا قید تعداد پڑھیں۔



پتھری کے لئے

حضرت ابودردا ء ؓکے پاس ایک آدمی آیا اور یہ کہا کہ اس کے والد کے گردے میں پتھر ی آگئی ہے ۔ انہوں نے در ج ذیل دعا سکھائی جو انہوں نے رسول پاک ﷺ سے حاصل کی تھی ۔

(رَبُّنَا الَّذِیْ فِی السَّمَآ ئِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ اَمْرُکَ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَآئِ فَاجْعَلْ رَحْمَتُکَ فِی الْارْضِ وَاغْفِرْلَنَا حَوْبَنَا وَ خَطَایَانَا اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ فَاَنْزِلْ شِفَآ ئً شِفَآپکَ وَرَحْمَۃً مِّنْ رَّحْمَتِکَ عَلٰی ھٰذَا الْوَجْہِ)

ترجمہ:’’ ہمارا رب جو آسمان میںہے ، مقدس ہے تیرا نام، تیرا حکم زمین وآسمان میںہے جس طرح تیری رحمت آسمان میںہے ، پس ڈال دے اپنی رحمت زمین میں، ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں معاف فرما، تو ہی پاکیزہ ہستیوں کا ربّ ہے ، اپنی شفاء سے شفاء اور اپنی رحمت سے رحمت بیماری پرنازل فرما۔‘‘امام نسانیؒنے بیا ن کیا کہ دو شخص عراق سے اسی طرح کی شکایت لے کر آئے ،لوگوں نے حضرت ابودرداء ؓکی نشان دہی کی تو آپ ؓنے کہا کہ میں نے رسول پاکﷺ سے سناہے کہ جسے یا جس کے بھائی کو یہ شکایت ہوا سے پڑھے۔بیمار اس دعا کو پڑھتا رہے یہ نہ ہوسکے تو کوئی دوسرا شخص پڑھ کر اس پر دم کرے یا کاغذ پر لکھ کر اس کاپانی پلایا جائے ۔ (الدعاء المسنون : ص ۳۳۹)

جنت کے بادشاہ

حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ’’ جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں، غبار آلود اور گرد سے اَٹے ہوئے ،وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی ، بڑے گھر انے ان مسکینوں سے انصاف کا برتائو نہیں برتتے ۔ ان کی حاجتیں اور اُن کی اُمنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے وہ خود فوت ہوجاتے ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ انہیں قیامت کے دن اس قدرنور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیاجائے تو تمام دنیا کو کافی ہوجائے‘‘ ۔ حضرت عبداللہ ؓبن مبارک کے اشعار میںہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاج والے ، ملک ومنال والے ، عزت وجلال والے بنے ہوئے ہوں گے ۔ باغات میں ، نہروں میں ،نعمتوں میں،راحتوں میں مشغول ہوں گے ۔ حضرت رسول کریمﷺ فرماتے ہیں کہ ’’باری تعالیٰ کاارشاد ہے کہ سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو کم مال والا ، کم جانوں والا ، نمازی ، عبادت واطاعت گزار ، پوشید ہ وا علانیہ مطیع ہو ، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو ، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں اور وہ اس پر صابر ہو ۔ پھر حضور پاکﷺ نے چٹکی بجاکر فرمایا : ’’اس کی موت جلدی آجاتی ہے ، اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے ، اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں ‘‘۔ آپ ﷺفرماتے ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیںجو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں ‘‘۔

غم سے نجات

{ لَا ٓ اِ لٰہَ اِلاَّ ٓ اَ نْتَ سُبْحٰنَکَ اِ نِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۰}( پارہ ۱۷، سورئہ انبیاء : ۷ ۸ )

ترجمہ : ’’ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔ ‘‘

خاص ورد

اول و آخر درود شریف گیارہ گیارہ مرتبہ :{ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ}

حفاظت از شر ۳۴۱ مرتبہ

برائے وسعت رزق و ادائے قرض ۳۴۱ مرتبہ

برائے تکمیل خاص کام ۱۱۱مرتبہ

برائے کفالت از مصائب و پریشانی ۱۴۰مرتبہ

چنداہم نصیحتیں

حقیر سے حقیر پیشہ ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔

ہراچھا کام پہلے نا ممکن ہو تا ہے۔

نفس کی تمنا پوری نہ کرو ، ورنہ برباد ہو جاؤ گے۔

جس نعمت کی قدر نہ کی جائے وہ ختم ہوجاتی ہے۔

اس راستے پر چلو جو بندے کو خالق سے ملا دیتا ہے۔

پریشانیاں دور

حضرت جعفر صادق ؓایک مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ ان سے علمی استفاد ہ کے لیے آئے ۔ آپ ؓنے لوگوں سے کہا کہ مجھے تعجب ہے چار قسم کے آدمیوں پر جو چار باتوں سے غافل ہیں :

مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو مصیبت میں پھنساہو اہو اور ’’یٰٓاَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ نہ پڑھتا ہو ، حالانکہ قرآن پاک میں حضرت ایوبؑ کے بارے میں ارشاد ہے:

{وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰ حِمِیْنَ}(سورئہ انبیاء : آیت ۸۳)

ترجمہ:’’ اور ایوب ؑنے جب اپنے رب کو پکارا کہ میں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں آپ ’’یٰٓاَ رْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ ہیں۔‘‘

اس دعا کا فائدہ خود قرآن کریم میںیہ بیان کیاگیا ہے کہ :

{ فَاسْتَجِبْنَا لَہ ٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ } (سورئہ انبیاء : آیت ۸۴)

ترجمہ:’’ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی تکلیف دور فرمائی ۔‘‘

مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو غم میں پھنسا ہو اہو اور وہ دعا نہ پڑھے جو حضرت یونس ؑنے مچھلی کے پیٹ میں پڑھی تھی ۔

حفاظت کرنے والی آیات

وَلَا یَئُوْدُ ہٗ حِفْظُھُمَا وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۰ (سورئہ بقرہ : ۶۵۵)

ترجمہ : ’’ اور ان سب کی حفاظت کرنے میں کبھی تھکتا نہیں ، وہ بہت عالی شان اور عظیم الشان ہے۔ ‘‘

فَا للّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا وَّ ھُوَا اَ رْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۰ (سورئہ یوسف : ۶۴)

ترجمہ : ’’ بہتر حفاظت کرنے والا تو بس اللہ ہی ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ ‘‘

وَ حِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِ دٍ ۰(سورئہ صفٰت : ۷ )

ترجمہ : ’’ اور آسمان کو ہم نے ہر مر دو د شیطان کے شر سے محفوظ کر دیا۔ ‘‘

وَ حِفْظًا ذٰ لِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۰(سورئہ حم السجدہ: ۱۲)

ترجمہ : ’’ اور مکمل حفاظت ہے۔ یہ اندازہ باندھا ہوا ہے غالب علم والے کا۔‘‘

وَ حَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ الرَّ جِیْمٍ ۰(سورئہ حجر : ۱۷)

ترجمہ :’’ اور آسمان کی حفاظت کے لیے ہم نے ہر شیطان مر دود پر انگاروں کا پتھراؤ جاری کردیا۔ ‘‘

غم میں کمی

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں ، حضرت نبی کریمؐ نماز کے بعد دایاں ہاتھ اپنے سر پر پھیرتے اور فرماتے :

’’بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ‘‘

ترجمہ:’’ اللہ کے نام سے (شروع کرتاہوں) جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان اور بہت رحم کرنے والاہے ،اے اللہ ! تو ہر فکر اور غم کو مجھ سے دور فرماد ے۔‘‘

ایک روایت میں یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر پھیرتے اور فرماتے :

’’ اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ‘‘

ترجمہ:’’ اے اللہ ! تو ہر فکر اور غم کو مجھ سے دور فرما دے۔‘‘ (حیاۃ الصحابہ : جلد ۳ صفحہ ۳۸۴، ۳۸۵)
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,176
5,489
213
ماشاءاللہ
بہت عمدہ مضمون
شیئر کرنے کا شکریہ
جزاک اللَّهُ
 
Top
Forgot your password?