دنیا کی سب سے گہری جھیلیں

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
دنیا کی سب سے گہری جھیلیں
114809


رضوان عطا

جھیلوں کے ساتھ فرحت کا احساس وابستہ ہے۔ دورِ قدیم کے انسان نے ان کے ساتھ دیومالائی داستانوں کو بھی جوڑا۔ اس لیے ایسی کہانیاں ملتی ہیں جن میں بھوت پریت جھیلوں میں رہتے ہیں۔ جھیلوں کے پانیوں میں بستیاں بھی ڈوبیں اور ان کے کنارے آباد بھی ہوئیں۔ دنیا میں بعض جھیلیں بہت بڑی اور گہری ہیں۔ ذیل میں دنیا کی 9 سب سے گہری جھیلوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ۹۔ جھیل کریٹر: ریاست ہائے متحدہ امریکا کے مغربی علاقے میں واقع یہ جھیل ملک کی سب سے گہری جھیل ہے۔ اس جھیل میں نہ کوئی دریا آتا ہے اور نہ کوئی دریا نکلتا ہے۔ اس میں پانی بارش اور برف باری سے جمع ہوتا ہے۔ تبخیر کے سبب ایک اندازے کے مطابق اس کا پانی 250 برسوں میں بدل جاتا ہے۔ یہ نسبتاً کم عمر جھیل ہے اور تقریباً 7700 برس قبل اس وقت وجود میں آئی جب ماؤنٹ مزاما نامی آتش فشائی پہاڑ پھٹ کر نیست و نابود ہو گیا۔ اس تباہی کی داستان قدیم مقامی امریکی باشندوں کے قصے کہانیوں میں باقی رہ گئی۔ یہ جھیل اپنے انتہائی گہرے نیلے اور صاف شفاف پانی کے باعث شہرت رکھتی ہے۔ جھیل کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 1,943 فٹ کے قریب ہے اور اس اعتبار سے یہ دنیا کی نویں سب سے گہری جھیل ہے۔ اگر اوسط گہرائی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ تیسری سب سے گہری جھیل ہے ۔ ۸۔ جھیل گریٹ سلیو:2,015 فٹ گہری یہ جھیل کینیڈا کے شمال مغربی علاقے میں ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکا کی سب سے گہری اور کینیڈا کی دوسری سب سے گہری جھیل ہے۔ شمالی مغربی علاقے کا دارالحکومت ییلو نائف اس کے شمالی کنارے پر ہے۔ موسم کی شدت کی وجہ سے آبادی کم ہے۔ ییلو نائف شمالی مغربی علاقے کا سب سے بڑا شہر ہے لیکن اس کی آبادی صرف 20 ہزار ہے۔ یہ نومبر سے جون کے وسط تک جمی رہتی ہے۔ نصف برس جھیل کی سطح پر کاریں وغیرہ چلائی جا سکتی ہیں۔ یہاں بہت سے قدیم مقامی قبائل ہزاروں برس قبل آباد ہونا شروع ہوئے۔ یہاں آباد قبیلے سلیوے سے جھیل کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ ۷۔ جھیل سق کول: کرغستان میں واقع یہ جھیل 5,270 فٹ کی بلندی پر ہے۔ گہرائی کے لحاظ سے یہ ساتویں نمبر پر ہے تاہم یہ نمکین پانی کی دوسری سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس جھیل کے کرغز زبان میں معنی ’’گرم جھیل‘‘ ہیں، کیونکہ اس کا پانی کبھی جمتا نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کے اردگرد موسم سرد ہوتا ہے اور سردیوں میں علاقے کا درجہ حرارت منفی 15 تک ہونا عام ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کا سبب زمین میں حدت پیدا کرنے والی سرگرمی اور پانی کا قدرے نمکین ہونا ہے۔ اس جھیل کی اہمیت کی ایک وجہ یہاں دورِ قدیم سے انسانوں کا آباد ہونا ہے۔ کرغستان میں آباد ہونے والے اولین ساکا لوگوں کے آثار یہاں ملے ہیں جن میں برتن اور استعمال کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔ عہد وسطیٰ میں یہ جھیل شاہراہ ریشم کے راستے مشرق بعید سے یورپ کے درمیان سفر کرنے والوں کے رکنے کا ایک اہم مقام تھی۔ جھیل کی گہرائی 2,192 فٹ کے قریب ہے۔ ۶۔ جھیل نیاسا: یورپیوں کو اس جھیل کے بارے میں ایک پرتگالی تاجر کے ذریعے انیسویں صدی کے وسط میں معلوم ہوا۔براعظم افریقہ کی یہ عظیم جھیل 2,316 فٹ گہری ہے۔ یہ لمبی اور پتلی ہے اور 560کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ موزمبیق، تنزانیہ اور ملاوی کی سرحد پر واقع ہے۔ ملاوی میں اسے عموماً جھیل ملاوی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی، گہرائی اور درجہ حرارت کے زمروں کی وجہ سے اس کے ماحول میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ یہاں پائی جانے والی حیات میں حد درجہ تنوع ہے۔ یہاں مچھلیوں کی ایک ہزار انواع پائی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین پر تازہ پانی کی مچھلیوں کی انواع کا 15 فیصد اس میں پایا جاتا ہے۔ یہ تازہ پانی کی چوتھی بڑی جھیل ہے۔ ۵۔ جھیل او ہیگنز/ سان مارٹن:جھیل 2,742 فٹ گہری ہے۔ چلی میں اسے او ہیگنز اور ارجنٹائن میں سان مارٹن کہا جاتا ہے، یہ ان دونوں ملکوں کی سرحد پر ہے۔ اسے او ہیگنز گلیشیئر سے پانی ملتا ہے جو مغرب سے اس میں آتا ہے۔ جھیل کا پانی دریائے پاسکوا سے ہوتا ہوا سمندر میں گرتا ہے۔ ۴۔ جھیل ووسٹوک: اس جھیل کی گہرائی 2,950 فٹ ہے۔ یہ انٹارکٹیکا میں ہے اور اس لحاظ سے منفرد ہے کہ برف کی چار کلومیٹر تہ کے نیچے ہے۔ سائنس دانوں کو 1970ء کی دہائی سے شک تھا کہ تازہ پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ برف میں مقید ہے۔ 1996ء میں برطانوی اور روسی محققین جدید آلات کی مدد سے اس کی درست پیمائش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 2012ء میں محققین اس برف میں جھیل تک سوراخ کرنے اور نمونے اکٹھے کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہیں یہاں بیکٹیریا کی نئی قسمیں ملیں۔ ۳۔بحیرہ کیسپین:بحیرہ کیسپین قفقازی پہاڑوں اور وسطی ایشیا کے گھاس کے میدانوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ خشکی میں گھرا پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور نمکین پانی کی دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ شمال سے جنوب تک یہ 12 سو کلومیٹر کے قریب پھیلی ہوئی ہے اور اس کی اوسط چوڑائی 320 کلومیٹر ہے۔ اس کا بہت سا علاقہ زیادہ گہرا نہیں۔ ۲۔ جھیل ٹانگانائیکا: اس کی گہرائی 4,710 فٹ ہے۔ یہ تازہ پانی کی دوسری سب سے قدیم اور دوسری سب سے گہری جھیل ہے۔ یہ زیمبیا، برونڈی، تنزانیہ اور جمہوریہ کانگو کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ نسبتاً لمبی ہے اور اس کی چوڑائی کم ہے۔ حجری دور سے انسانی آبادی اس کے کناروں پر موجود ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں مچھلی کا بہت زیادہ شکار مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ ۱۔ جھیل بیکال: دنیا میں زمین کی سطح پر پائے جانے والے تازہ پانی کا 22 سے 23 فیصد اسی جھیل میں ہے۔ سائبیریا کی یہ جھیل 5,315 فٹ گہری ہے۔ یہ دنیا کی سب سے گہری جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔یہ دنیا میں تازہ پانی کی قدیم ترین جھیل ہے اور تقریباً دو سے اڑھائی کروڑ برس قبل معرضِ وجود میں آئی۔ یہاں جانوروں اور پودوں کی بہت زیادہ انواع پائی جاتی ہیں، جن میں سے بہت سی کہیں اور موجود نہیں۔ ان میں ایک بیکال سِیل ہے، جو سِیلوں کی واحد نوع ہے جو صرف تازہ پانی میں رہتی ہے۔ 1996ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,921
1,884
213
واہ
کتنا ان جھیلوں نے جھمیلوں میں ڈالا سوائے کرغستان کے سب جمی ہوئی پڑھی
بہت عمدہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?