حکایت سعدی دنیا بھی اچھی, عاقبت بھی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,295
7,298
1,313
Lahore,Pakistan
حکایت سعدی دنیا بھی اچھی, عاقبت بھی
116370

بیان کیا جاتا ہے، ایک نیک سیرت شخص اپنے دشمنوں کا ذکر بھی برائی سے نہ کرتا تھا۔ جب بھی کسی کی بات چھڑتی اس کی زبان سے نیک کلمہ ہی نکلتا۔ اس کے مرنے کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا تو سوال کیا، سناؤ میاں! دوسری زندگی میں کیا معاملہ رہا؟ پکڑے گئے کہ بخشے گئے؟ یہ سوال سن کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ بلبل کی طرح شیریں آواز میں بولا، دنیا میں میں اس بات سے بچتا تھا کہ میری زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بری بات نہ نکلے۔ نکیرین نے مجھ سے بھی کوئی سخت سوال نہ کیا اور یوں میرا معاملہ بہت اچھا رہا۔ برائی سے کسی کو یاد کرنا بھی برائی ہے جو عاقل ہیں بروں کو بھی برا کہنے سے ڈرتے ہیں کسے معلوم کس کے واسطے کیا حکم صادر ہو اسی دہشت سے وہ ہر وقت استغفار کرتے ہیں بدگوئی بدکلامی کی طرح نہایت مکروہ فعل ہے۔ ہر شخص کی ذات میں عیب تلاش کرنے والا شخص دراصل حسد کا شکار ہوتا ہے اور دوسروں کی ترقی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے دل کی آگ اس طرح ٹھنڈی کرتا ہے کہ ہر شخص کی ذات میں کوئی برائی ڈھونڈ کر اسے کم درجے کا ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ جس طرح ابھرتے ہوئے سورج کو ناخن کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا، اسی طرح یہ بات ممکن نہیں کہ فردِ واحد سارے زمانے کی ترقی روک دے اور خوش حالی کو بدحالی میں بدل دے۔ لہٰذا ایسا شخص غصے اور رنج کی آگ میں خود جل مرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سب کا بھلا چاہنے والا اور سب کا خیرخواہ ہمیشہ خوش و خرم رہتا ہے۔ سب اس کی عزت کرتے ہیں اور یوں اسے سچی مسرت حاصل ہوتی ہے۔

 
  • Like
Reactions: Angela and maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,629
3,716
213
ماشاءاللہ
بہت عمدہ
سبق آموز حکایت
شیئر کرنے کا شکریہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا
 
  • Like
Reactions: intelligent086

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
2,685
2,780
213
~Dasht e Tanhaayi~
حکایت سعدی دنیا بھی اچھی, عاقبت بھی
View attachment 116370
بیان کیا جاتا ہے، ایک نیک سیرت شخص اپنے دشمنوں کا ذکر بھی برائی سے نہ کرتا تھا۔ جب بھی کسی کی بات چھڑتی اس کی زبان سے نیک کلمہ ہی نکلتا۔ اس کے مرنے کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا تو سوال کیا، سناؤ میاں! دوسری زندگی میں کیا معاملہ رہا؟ پکڑے گئے کہ بخشے گئے؟ یہ سوال سن کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ بلبل کی طرح شیریں آواز میں بولا، دنیا میں میں اس بات سے بچتا تھا کہ میری زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بری بات نہ نکلے۔ نکیرین نے مجھ سے بھی کوئی سخت سوال نہ کیا اور یوں میرا معاملہ بہت اچھا رہا۔ برائی سے کسی کو یاد کرنا بھی برائی ہے جو عاقل ہیں بروں کو بھی برا کہنے سے ڈرتے ہیں کسے معلوم کس کے واسطے کیا حکم صادر ہو اسی دہشت سے وہ ہر وقت استغفار کرتے ہیں بدگوئی بدکلامی کی طرح نہایت مکروہ فعل ہے۔ ہر شخص کی ذات میں عیب تلاش کرنے والا شخص دراصل حسد کا شکار ہوتا ہے اور دوسروں کی ترقی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے دل کی آگ اس طرح ٹھنڈی کرتا ہے کہ ہر شخص کی ذات میں کوئی برائی ڈھونڈ کر اسے کم درجے کا ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ جس طرح ابھرتے ہوئے سورج کو ناخن کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا، اسی طرح یہ بات ممکن نہیں کہ فردِ واحد سارے زمانے کی ترقی روک دے اور خوش حالی کو بدحالی میں بدل دے۔ لہٰذا ایسا شخص غصے اور رنج کی آگ میں خود جل مرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سب کا بھلا چاہنے والا اور سب کا خیرخواہ ہمیشہ خوش و خرم رہتا ہے۔ سب اس کی عزت کرتے ہیں اور یوں اسے سچی مسرت حاصل ہوتی ہے۔


bhtttttttt hi umdaa tehreer..
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?