حکایت سعدیؒ ، بادشاہ اور پہرے دار

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,289
10,627
1,313
Lahore,Pakistan
حکایت سعدیؒ ، بادشاہ اور پہرے دار
117796

ایک بادشاہ سخت سردی کی ایک رات میں کسی پہرے دار کے پاس سے گزرا جو سردی کی وجہ سے بہت زیادہ کپکپا رہا تھا ۔ بادشاہ نے رحم کرتے ہو اپنی پوستین کی قبا اس کو دینے کا ارادہ کیا اور کہا ذرا انتظار کر میں اتار کر بھیجتا ہوں۔ بادشاہ محل میں گھس گیا اور ایسا مگن ہواکہ چوکیداربے چارے کو بھول ہی گیا۔ چوکیدار نے قبائے پوستینی کا ذکر کان سے سن تو لیا مگر بدنصیب کے کندھے پہ قبا نہ آ سکی۔ پہلے صرف سردی کی تکلیف تھی اب ساتھ قبا کے انتظار کا عذاب۔ بادشاہ صبح اٹھا تو ایک درباری نے کہا! اے بادشاہ شاید آپ محل کی رنگینیوں میں مبتلا ہو کر اس بدنصیب چوکیدار کو بھول گئے۔ تیری رات تو خوب گزری ہوگی مگر اس کی رات کیسے گزری یہ وہی جانتا ہے۔ جس قافلہ سالار کو سب کچھ میسر ہو اسے ریگستان کے بھولے ہوئے مسافر کی تکلیف کا کیا اندازہ؟ اے دریا میں کشتی کا کھیل کھیلنے والے ذرا رک جا اور ڈوبنے والوں کو بچا کر لے جا (تاکہ تیرا شوق بھی پورا ہو جائے اور ان بے چاروں کی جان بھی بچ جائے ) اے چست و چالاک جو ان ذرا آہستہ چل کہ قافلے میں سست بوڑھے بھی ہیں۔ توتو قافلے کے اندر آرام فرما ہے اور اونٹ کی مہار تو شتر بان کے ہاتھ میں ہے تجھے کیا؟ جو اپنے گھر میں خوشدلی سے سو رہا ہے وہ اس کا غم کیا جانے جو بے چارہ خالی پیٹ بھوکا رو رہا ہے۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ تنگدست اور کمزوروں کا بھی خیال رکھیں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ اپنی عیش پرستی میں پڑ کر ان کو بھلا دینا انسانیت نہیں۔ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?