توبہ و استغفار اسوۂ حسنہ کی روشنی میں، تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,973
9,050
1,313
Lahore,Pakistan
توبہ و استغفار اسوۂ حسنہ کی روشنی میں، تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا’’ خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ اور استغفار کرتا ہوں۔‘‘(رواہ البخاری)

آپﷺ نے فرمایا’’ استغفار کئے جا ؤ یہاں تک کہ شیطان تھک جائے ‘‘

’’اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی اُمید ہے‘‘:حدیث پاک ﷺ

اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی، جلال و جبروت کے بارے میں جس بندے کو جس طرح کا شعور و احساس ہو گا وہ اپنے آپ کو اس درجہ ادائے حقوق عبدیت میں قصور وار سمجھے گا۔ آپ ﷺ بار بار اور مسلسل توبہ و استغفار کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اس کا اظہار فرما کر دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کرتے اور تلقین فرماتے تھے جیسے کہ ایک دوسری روایت میں اغرالمزنیؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :’’اے لوگو! اللہ کے حضور میں توبہ کرو میں خود دن میں سو سو دفعہ اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں‘‘۔ یہ ستر اور سو کی تعداد دراصل کثرت کو بیان کرنے کے لیے ہے اور قدیم عربی زبان کا عام محاورہ ہے ورنہ حضور ﷺکے توبہ و استغفار کی تعداد یقینا اس سے بہت زیادہ ہوتی تھی۔ یہ تو اس ذات کا حال ہے جس کے کوئی گناہ ہیں ہی نہیں۔ دراصل اس طرح کی روایات سے امت کو تعلیم دینا مقصود ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ و استغفار کرنا چاہیے کیونکہ توبہ و استغفار نہ کرنے کی صورت میں گناہوں کی سیاہی رفتہ رفتہ انسان کے دل پر چھا جاتی ہے اسی بناء پر ایک حدیث میں فرمایا گیا مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر اگر اس نے اس گناہ سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں معافی و بخشش کی التجاء اور استدعاء کی تو وہ سیاہ نقطہ زائل ہو کر قلب صاف ہو جاتا ہے اور اگر اس نے گناہ کے بعد توبہ و استغفار کے بجائے مزید گناہ کیے اور گناہوں کی وادی میں قدم بڑھائے تو دل کی وہ سیاہی اور بڑھ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

{کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون}

ترجمہ ’’کہ ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ اور سیاہی آگئی ہے۔‘‘

اور کسی مسلمان کے لیے بلاشبہ یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے کہ گناہوں کی ظلمت اس کے دل پر چھا جائے اور اس کے قلب میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس سے حفاظت فرمائے (آمین) دراصل خطاء اور لغزش آدمی کی فطرت میں داخل ہے کوئی ابن آدمؑ اس سے مستثنیٰ نہیں ہے لیکن وہ بندے بڑے اچھے اور خوش نصیب ہیں جو خطاء و قصور اور گناہ کے بعد نادم ہو کر اپنے مالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توبہ و استغفار کے ذریعہ اس کی رضاء و رحمت حاصل کرتے ہیں اسی کو سرکار دو عالم ﷺنے ایک حدیث میں یوں فرمایا کہ ہر آدمی خطا کار ہے اور خطاکاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو مخلصانہ توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں۔ اس بناء پر ہم سب کو چاہیے کہ خود بھی توبہ و استغفار کریں اور دوسروں کو بھی توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کریں تاکہ ہمارے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے آج امت مسلمہ جن پریشانیوں اور تکلیفوں سے دوچار ہے وہ چاہے مہنگائی کی صورت میں ہوں، چاہے بے رحم حکمرانوں کی صورت میں ہوں یا بہت سے علاقوں میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کے عذاب کی صورت میں ہوں یا یہود و نصاریٰ کے ہم پر تسلط کی صورت میں ہوں، اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کی برکت سے اس طرح کی سب پریشانیوں اور تکلیفوں سے ہماری خلاصی کروا دیں گے پھر استغفار کے لیے یہ مسنون الفاظ بہت مناسب ہیں جس کے بارے میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا جس بندے نے ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کیا

{استغفراللہ الذی لا الہ الا ہوالحی القیوم واتوب الیہ}

تو اس بندہ کو ضرور بخش دیا جائے گا اگرچہ اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا گناہ کیا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کرنے والا بنا دے۔ آمین

{اسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہ عَمَدًا اَوْخَطَائً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَ اَتُوْبُ اِلیِْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}

’’میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں ہر اس گناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے۔ چھپ کر کیا ہو یا ظاہر کر کے۔ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں اس گناہ سے جو میں نہیں جانتا۔ اے اللہ بے شک تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے اور تو ہی عیبوں کو چھپانے والا ہے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد کی وجہ سے ہوتی ہے جو بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے۔‘‘یہ کلمہ استغفار اور اس کا ترجمہ اس لیے ذکر کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی الستار کے مفہوم کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ نبی کریمﷺنے اسی حدیث کے آخر میں چار چیزوں کی طرف خاص طور سے متوجہ فرمایا اور اس مہینہ میں ان کی کثرت کا حکم فرمایا۔ کلمہ طیبہ اور استغفار اور جنت کے حصول اور دوزخ سے بچنے کی دعا۔ اس لیے جتنا وقت بھی مل سکے ان چیزوں میں صرف کرنا سعاد ت سمجھے اور یہی نبی کریم ﷺ کے ارشاد مبارک کی قدر ہے۔ کیا دقت ہے کہ اپنے دنیوی کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے زبان سے درود شریف یا کلمہ طیبہ کا بھی ورد رہے۔استغفار سے متعلق کچھ احادیث پڑھ لیجئے :

مسند احمد میں بہ روایت حضرت ابو ہریرہؓمروی ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر خدا کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہو گیا تو معاف فرما، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گوگناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے ۔ میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا اس سے پھر گناہ ہو تا ہے ، پھر توبہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ پھر معاف فرماتا ہے ، پھر تیسری مرتبہ اس سے گناہ ہو جاتا ہے یہ پھر توبہ کر تا ہے ، اللہ تعالیٰ بخشتا ہے ۔ چو تھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے ، پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے ۔(مسند احمد)یہ حدیث صحیحین میں بھی ہے ۔

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں ، ہم نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے کہا، یارسول اللہﷺ ! جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دِلو ں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی ، عورتوں ، بچوں میں پھنس جاتے ہیں ، گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا ، سنو جو کیفیت تمہارے دلوں کی میرے سامنے ہوتی ہے اگر یہی کیفیت ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھروں پر آتے ۔ سنو ! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوموں کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے ، اور خدا اُنہیں بخشے۔ ہم نے کہا ، حضور ! یہ تو فرمایئے کہ جنت کی بنا کیا ہے ؟ آپﷺ ، اور خدا اُنہیں بخشے ۔ ہم نے کہا ، حضور ! یہ تو فرمائیے کہ جنت کی بنا کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا ،’’ ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی ، اس کا گارہ مشک خالص ہے،اس کے کنکر لؤ لؤ اور یا قوت ہیں ، اس کی مٹی زعفران ہے ، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ، ان کی زندگی ہمیشگی والی ہوگی ، ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ، ان کی جوانی فنا نہ ہو گی ، تین شخصوں کی دُعا رد نہیں ہوتی : عادل باد شاہ ، روزے دار اور مظلوم ۔ان کی دُعا بادلوں میں اُٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور جناب ِ باری ارشاد فرماتا ہے، مجھے میری عزت کی قسم ! میں تیری ضرور مدد کروں گا ، اگر چہ کچھ وقت کے بعد ہو‘‘ ۔ (مسند احمد )

امیر المؤ منین حضرت ابو بکر صدیق ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ،’’ جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کرکے دورکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘ ۔ (مسند احمد )

صحیح مسلم میں بروایت امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓمروی ہے ، رسول اللہﷺ فرماتے ہیں ، ’’تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے اَشْھَدُ اَنْ لاَّ ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں در وازے کھل جاتے ہیں ، جس سے چاہے اندر چلا جائے ‘‘۔

امیر المؤ منین حضرت عثمان بن عفان ؓسنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں، ’’میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ، آپﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دِل سے باتیںنہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم )

پس یہ حدیث تو حضرت عثمان ؓسے ، اس سے اگلی روایت حضرت عمر ؓسے ، اس سے اگلی روایت حضرت ابو بکرؓسے اور اس تیسری روایت کو حضرت ابو بکرؓسے حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں۔ تو الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت ارو اس کی بے انتہا مہربانی کی خبر سید الا ولین والآخرین کی زبانی آپؐ کے چاروں بر حق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی۔ آؤ! اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اُٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں۔ خدایا ! اے ماں باپ سے زیادہ مہربان ! اے عفو و در گزر کرنے والے او رکسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے! توہم خطا کاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی در گزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرمادے ۔

مسند ابو یعلی میں ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں’’ لَا ٓ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کر و، ابلیس گناہوں سے لو گوں کوہلاک کر نا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور استغفار سے ہے ، یہ حالت دیکھ کر ابلیس نے لو گوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا ۔ پس وہ اپنے تیئں راہ راست پر جانتے ہیں ، حالانکہ ہوتے ہیں ہلاکت پر‘‘ ۔

مسند بزار میں ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ سے کہا ، مجھ سے گناہ ہو گیا ۔ آپﷺ نے فرمایا تو بہ کر لے ۔ اُس نے کہا ، میں نے توبہ کی پھر گناہ ہو گیا ۔ فرمایا ، پھر توبہ کر لے ۔ اس نے کہا ، مجھ سے پھر گناہ ہو گیا ۔ آپﷺ نے فرمایا ، پھر استغفار کر ۔ اس نے کہا ، مجھ سے اور گناہ ہوا ۔ فرمایا : استغفار کئے جا ؤ ۔ یہاں تک کہ شیطان تھک جائے ۔ پھر فرمایا ، گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔

مسند احمد میںہے رسول اللہﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا ، یا اللہ ! میں تیری طرف توبہ کر تا ہوں ، محمدﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا ( یعنی خدایا تیری ہی بخشش چاہتا ہوں ) ۔ آپﷺ نے فرمایا ، اس نے حق حقدار کو پہنچایا ۔

ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو یا تین مرتبہ کہا ، ہائے میرے گناہ ! ہائے میرے گناہ !حضورﷺ نے فرمایا ، یہ کہو : { اَ للّٰھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَ وْ سَعُ مِنْ ذُ نُوْبِیْ وَ رَ حْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ}

ترجمہ : ’’ اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی اُمید ہے ۔ ‘‘

اس نے یہ کہا ۔ حضورﷺ نے کہا ، دوبارہ کہو ۔ اس نے دوبارہ کہا ۔ حضورﷺ نے کہا ، پھر کہو ۔ اس نے پھر کہا ۔ حضورﷺ نے کہا، اُٹھ جا ، اللہ نے تیری مغفرت کر دی ہے۔ (حیاۃ الصحابہ ، جلد ۳ ، صفحہ ۳۵۰ )
 
  • Like
Reactions: Angela and maria_1

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
3,353
3,547
213
~Dasht e Tanhaayi~
ا
توبہ و استغفار اسوۂ حسنہ کی روشنی میں، تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا’’ خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ اور استغفار کرتا ہوں۔‘‘(رواہ البخاری)

آپﷺ نے فرمایا’’ استغفار کئے جا ؤ یہاں تک کہ شیطان تھک جائے ‘‘

’’اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی اُمید ہے‘‘:حدیث پاک ﷺ

اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی، جلال و جبروت کے بارے میں جس بندے کو جس طرح کا شعور و احساس ہو گا وہ اپنے آپ کو اس درجہ ادائے حقوق عبدیت میں قصور وار سمجھے گا۔ آپ ﷺ بار بار اور مسلسل توبہ و استغفار کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اس کا اظہار فرما کر دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کرتے اور تلقین فرماتے تھے جیسے کہ ایک دوسری روایت میں اغرالمزنیؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :’’اے لوگو! اللہ کے حضور میں توبہ کرو میں خود دن میں سو سو دفعہ اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں‘‘۔ یہ ستر اور سو کی تعداد دراصل کثرت کو بیان کرنے کے لیے ہے اور قدیم عربی زبان کا عام محاورہ ہے ورنہ حضور ﷺکے توبہ و استغفار کی تعداد یقینا اس سے بہت زیادہ ہوتی تھی۔ یہ تو اس ذات کا حال ہے جس کے کوئی گناہ ہیں ہی نہیں۔ دراصل اس طرح کی روایات سے امت کو تعلیم دینا مقصود ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ و استغفار کرنا چاہیے کیونکہ توبہ و استغفار نہ کرنے کی صورت میں گناہوں کی سیاہی رفتہ رفتہ انسان کے دل پر چھا جاتی ہے اسی بناء پر ایک حدیث میں فرمایا گیا مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر اگر اس نے اس گناہ سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں معافی و بخشش کی التجاء اور استدعاء کی تو وہ سیاہ نقطہ زائل ہو کر قلب صاف ہو جاتا ہے اور اگر اس نے گناہ کے بعد توبہ و استغفار کے بجائے مزید گناہ کیے اور گناہوں کی وادی میں قدم بڑھائے تو دل کی وہ سیاہی اور بڑھ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

{کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون}

ترجمہ ’’کہ ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ اور سیاہی آگئی ہے۔‘‘

اور کسی مسلمان کے لیے بلاشبہ یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے کہ گناہوں کی ظلمت اس کے دل پر چھا جائے اور اس کے قلب میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس سے حفاظت فرمائے (آمین) دراصل خطاء اور لغزش آدمی کی فطرت میں داخل ہے کوئی ابن آدمؑ اس سے مستثنیٰ نہیں ہے لیکن وہ بندے بڑے اچھے اور خوش نصیب ہیں جو خطاء و قصور اور گناہ کے بعد نادم ہو کر اپنے مالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توبہ و استغفار کے ذریعہ اس کی رضاء و رحمت حاصل کرتے ہیں اسی کو سرکار دو عالم ﷺنے ایک حدیث میں یوں فرمایا کہ ہر آدمی خطا کار ہے اور خطاکاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو مخلصانہ توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں۔ اس بناء پر ہم سب کو چاہیے کہ خود بھی توبہ و استغفار کریں اور دوسروں کو بھی توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کریں تاکہ ہمارے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے آج امت مسلمہ جن پریشانیوں اور تکلیفوں سے دوچار ہے وہ چاہے مہنگائی کی صورت میں ہوں، چاہے بے رحم حکمرانوں کی صورت میں ہوں یا بہت سے علاقوں میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کے عذاب کی صورت میں ہوں یا یہود و نصاریٰ کے ہم پر تسلط کی صورت میں ہوں، اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کی برکت سے اس طرح کی سب پریشانیوں اور تکلیفوں سے ہماری خلاصی کروا دیں گے پھر استغفار کے لیے یہ مسنون الفاظ بہت مناسب ہیں جس کے بارے میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا جس بندے نے ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کیا

{استغفراللہ الذی لا الہ الا ہوالحی القیوم واتوب الیہ}

تو اس بندہ کو ضرور بخش دیا جائے گا اگرچہ اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا گناہ کیا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کرنے والا بنا دے۔ آمین

{اسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہ عَمَدًا اَوْخَطَائً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَ اَتُوْبُ اِلیِْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}

’’میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں ہر اس گناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے۔ چھپ کر کیا ہو یا ظاہر کر کے۔ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں اس گناہ سے جو میں نہیں جانتا۔ اے اللہ بے شک تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے اور تو ہی عیبوں کو چھپانے والا ہے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد کی وجہ سے ہوتی ہے جو بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے۔‘‘یہ کلمہ استغفار اور اس کا ترجمہ اس لیے ذکر کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی الستار کے مفہوم کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ نبی کریمﷺنے اسی حدیث کے آخر میں چار چیزوں کی طرف خاص طور سے متوجہ فرمایا اور اس مہینہ میں ان کی کثرت کا حکم فرمایا۔ کلمہ طیبہ اور استغفار اور جنت کے حصول اور دوزخ سے بچنے کی دعا۔ اس لیے جتنا وقت بھی مل سکے ان چیزوں میں صرف کرنا سعاد ت سمجھے اور یہی نبی کریم ﷺ کے ارشاد مبارک کی قدر ہے۔ کیا دقت ہے کہ اپنے دنیوی کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے زبان سے درود شریف یا کلمہ طیبہ کا بھی ورد رہے۔استغفار سے متعلق کچھ احادیث پڑھ لیجئے :

مسند احمد میں بہ روایت حضرت ابو ہریرہؓمروی ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر خدا کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہو گیا تو معاف فرما، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گوگناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے ۔ میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا اس سے پھر گناہ ہو تا ہے ، پھر توبہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ پھر معاف فرماتا ہے ، پھر تیسری مرتبہ اس سے گناہ ہو جاتا ہے یہ پھر توبہ کر تا ہے ، اللہ تعالیٰ بخشتا ہے ۔ چو تھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے ، پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے ۔(مسند احمد)یہ حدیث صحیحین میں بھی ہے ۔

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں ، ہم نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے کہا، یارسول اللہﷺ ! جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دِلو ں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی ، عورتوں ، بچوں میں پھنس جاتے ہیں ، گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا ، سنو جو کیفیت تمہارے دلوں کی میرے سامنے ہوتی ہے اگر یہی کیفیت ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھروں پر آتے ۔ سنو ! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوموں کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے ، اور خدا اُنہیں بخشے۔ ہم نے کہا ، حضور ! یہ تو فرمایئے کہ جنت کی بنا کیا ہے ؟ آپﷺ ، اور خدا اُنہیں بخشے ۔ ہم نے کہا ، حضور ! یہ تو فرمائیے کہ جنت کی بنا کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا ،’’ ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی ، اس کا گارہ مشک خالص ہے،اس کے کنکر لؤ لؤ اور یا قوت ہیں ، اس کی مٹی زعفران ہے ، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ، ان کی زندگی ہمیشگی والی ہوگی ، ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ، ان کی جوانی فنا نہ ہو گی ، تین شخصوں کی دُعا رد نہیں ہوتی : عادل باد شاہ ، روزے دار اور مظلوم ۔ان کی دُعا بادلوں میں اُٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور جناب ِ باری ارشاد فرماتا ہے، مجھے میری عزت کی قسم ! میں تیری ضرور مدد کروں گا ، اگر چہ کچھ وقت کے بعد ہو‘‘ ۔ (مسند احمد )

امیر المؤ منین حضرت ابو بکر صدیق ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ،’’ جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کرکے دورکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘ ۔ (مسند احمد )

صحیح مسلم میں بروایت امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓمروی ہے ، رسول اللہﷺ فرماتے ہیں ، ’’تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے اَشْھَدُ اَنْ لاَّ ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں در وازے کھل جاتے ہیں ، جس سے چاہے اندر چلا جائے ‘‘۔

امیر المؤ منین حضرت عثمان بن عفان ؓسنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں، ’’میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ، آپﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دِل سے باتیںنہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم )

پس یہ حدیث تو حضرت عثمان ؓسے ، اس سے اگلی روایت حضرت عمر ؓسے ، اس سے اگلی روایت حضرت ابو بکرؓسے اور اس تیسری روایت کو حضرت ابو بکرؓسے حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں۔ تو الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت ارو اس کی بے انتہا مہربانی کی خبر سید الا ولین والآخرین کی زبانی آپؐ کے چاروں بر حق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی۔ آؤ! اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اُٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں۔ خدایا ! اے ماں باپ سے زیادہ مہربان ! اے عفو و در گزر کرنے والے او رکسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے! توہم خطا کاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی در گزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرمادے ۔

مسند ابو یعلی میں ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں’’ لَا ٓ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کر و، ابلیس گناہوں سے لو گوں کوہلاک کر نا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور استغفار سے ہے ، یہ حالت دیکھ کر ابلیس نے لو گوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا ۔ پس وہ اپنے تیئں راہ راست پر جانتے ہیں ، حالانکہ ہوتے ہیں ہلاکت پر‘‘ ۔

مسند بزار میں ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ سے کہا ، مجھ سے گناہ ہو گیا ۔ آپﷺ نے فرمایا تو بہ کر لے ۔ اُس نے کہا ، میں نے توبہ کی پھر گناہ ہو گیا ۔ فرمایا ، پھر توبہ کر لے ۔ اس نے کہا ، مجھ سے پھر گناہ ہو گیا ۔ آپﷺ نے فرمایا ، پھر استغفار کر ۔ اس نے کہا ، مجھ سے اور گناہ ہوا ۔ فرمایا : استغفار کئے جا ؤ ۔ یہاں تک کہ شیطان تھک جائے ۔ پھر فرمایا ، گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔

مسند احمد میںہے رسول اللہﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا ، یا اللہ ! میں تیری طرف توبہ کر تا ہوں ، محمدﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا ( یعنی خدایا تیری ہی بخشش چاہتا ہوں ) ۔ آپﷺ نے فرمایا ، اس نے حق حقدار کو پہنچایا ۔

ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو یا تین مرتبہ کہا ، ہائے میرے گناہ ! ہائے میرے گناہ !حضورﷺ نے فرمایا ، یہ کہو : { اَ للّٰھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَ وْ سَعُ مِنْ ذُ نُوْبِیْ وَ رَ حْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ}

ترجمہ : ’’ اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی اُمید ہے ۔ ‘‘

اس نے یہ کہا ۔ حضورﷺ نے کہا ، دوبارہ کہو ۔ اس نے دوبارہ کہا ۔ حضورﷺ نے کہا ، پھر کہو ۔ اس نے پھر کہا ۔ حضورﷺ نے کہا، اُٹھ جا ، اللہ نے تیری مغفرت کر دی ہے۔ (حیاۃ الصحابہ ، جلد ۳ ، صفحہ ۳۵۰ )
سبحان اللہ کثیرا
بے شک وہ ذات غفور الرحیم ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?