بندہ تیرا دراصل گناہ گار بہت ہے

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,141
1,313
Lahore,Pakistan
نسیم بنارسی

بندہ تیرا دراصل گناہ گار بہت ہے
یہ بھی تو حقیقت ہے تو غفار بہت ہے

سبقت تیری رحمت کو ہے جب تیرے غضب پر
تو ڈھانپ لے رحمت میں تو ستار بہت ہے

تو مجھ پر کرم کر تو جہنم سے بچا لے
اس بندہ پہ ہلکی سی بھی اک مار بہت ہے

ہے دل سے یہ اقرار کہ تو رب ہے حقیقی
سب جھوٹے خداؤں کا تو دربار بہت ہے

تو خالق کونین ہے تو مالک کونین
یہ سچ ہے کہ تو واقفِ اسرار بہت ہے

تو نے مجھے ہر طرح کی نعمت سے نوازا
بندہ ترے احساں سے گرانبار بہت ہے

تا عمر رہا میں تری توحید کا قائل
دل شرک سے اور کفر سے بیزار بہت ہے
.
جنت میں نگاہوں کو تو دے طاقتِ بیدار
ہر لمحہ یہاں حسرتِ دیدار بہت ہے

شیطان کے ہر اک مکر سے تو مجھ کو بچا لے
دھوکہ دیا آدم کو وہ مکار بہت ہے

انعام بہت ہے ترا، ہو کیسے ترا شکر
یہ ایک. زباں کے لئے دشوار بہت ہے

کرتا ہے مناجات نسیم اپنے خدا سے
ہے دل کی صدا اس کے جو بیمار بہت ہے
 
Top
Forgot your password?