اے چاند یہاں نہ نکلا کر تحریر : سعد فاروق

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,905
1,829
1,313
Lahore,Pakistan
اے چاند یہاں نہ نکلا کر تحریر : سعد فاروق


پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مخالفت میں تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ دنیا بھر میں حکومتوں، جماعتوں اور گروہوں پر تنقید اور مخالفت ہونا عام بات ہے لیکن اس تنقید کو بھی ایک حد تک رکھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے قبل اخبارات، ٹیلی ویژن اور عوامی جلسوں کے ذریعے تنقید کی جاتی رہی ہے مگر سوشل میڈیا کے متعارف ہوتے ہی مخالفت اور تنقید نے زور پکڑ لیا۔

ایک منٹ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی ہر اہم سرگرمی فوری طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کی افادیت سے یقینا انکار نہیں مگر پاکستان میں اکثر سوشل میڈیا کا منفی استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا کام اسی کو سانجھے کے محاورے کے برعکس ہر فرد اپنے کام، ذمے داری اور فرض کو چھوڑ کر دوسروں پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے لوگ اکثر سستی شہرت کے لیے منفی اقدامات کو فروغ دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے ذریعے جہاں سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے وہیں مذہب جیسے حساس اور اہم موضوع کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر مکروہ عناصر نے عام افراد کی برین واشنگ کرکے ان کو دہشت گردی کے بدترین واقعات میں استعمال کیا۔ سوشل میڈیا کا استعمال عام ہوا تو فتنہ فساد پھیلانے والوں کی ایک طرح سے لاٹری نکل آئی۔

پاکستان میں دہشت، انتہا پسندی، انتشار، فساد پھیلانے کے لیے دشمن نے اس کا بھرپور استعمال کیا دنیا کے باقی ملکوں کی نسبت پاکستان میں سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کا معقول انتظام نہ ہونے کے باعث دشمن کو اپنے مذموم مقاصد میں بڑی کامیابیاں ملیں اور رہی سہی کسر پاکستان میں بیٹھے ان کے ایجنٹ عناصر نے پوری کر دی۔

دشمن کو بخوبی اندازہ تھا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے برعکس مذہب جیسے حساس مسئلے پر فوری رد عمل سامنے آئے گا چنانچہ ملک میں کئی ایسے واقعات آپ کے سامنے ہوں گے جہاں جھوٹی افواہ پر لوگ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے، کسی جگہ پر لوگوں نے جھوٹی افواہ پر مشتعل ہوکر بے گناہ افراد کو مار ڈالا یا زخمی کر دیا اور کئی سچے واقعات کو سوشل میڈیا کے ذریعے غلط رنگ دے کر مجرموں کو بچا لیا گیا۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد وزیرستان میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کیے تو دشمن نے بیرون ملک میں بیٹھے زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے آپریشن کو غلط رنگ دے کر دنیا میں امریکی دہشتگردی کی تصاویر پھیلا کر پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا اور آج تک دشمن پاکستان کے محافظوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی ناکام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ایک بلاگر کی موت پر حبیب جالب کا شعر یاد آگیا

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر گزشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ سیاسی مخالفین اینکر، کالم نگار یا اخبار خرید کر اپنے موقف کو پھیلانے کی کوششوں میں اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ خرید کر اپنے موقف کو پھیلا رہے ہیں، وہی دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اپنے ملک میں بیٹھا ففتھ جنریشن وار تیز کر رہا ہے۔ اس جنگ میں اپنی مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈے کے منہ توڑ جواب دیجیے۔ ملک مخالف سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر محب وطن افراد کے ساتھ شئیر کیجیے۔ تنقید کیجیے۔ والدین کو اپنے بچوں پر بہت نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا بچہ کن موضوعات پر بحث کر رہا ہے، کن کوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہا ہے۔ خدارا اپنے عزیزوں کو غلط ہاتھوں میں استعمال ہونے سے بچائیے۔


 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
721
627
93
اے چاند یہاں نہ نکلا کر تحریر : سعد فاروق


پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مخالفت میں تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ دنیا بھر میں حکومتوں، جماعتوں اور گروہوں پر تنقید اور مخالفت ہونا عام بات ہے لیکن اس تنقید کو بھی ایک حد تک رکھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے قبل اخبارات، ٹیلی ویژن اور عوامی جلسوں کے ذریعے تنقید کی جاتی رہی ہے مگر سوشل میڈیا کے متعارف ہوتے ہی مخالفت اور تنقید نے زور پکڑ لیا۔

ایک منٹ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی ہر اہم سرگرمی فوری طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کی افادیت سے یقینا انکار نہیں مگر پاکستان میں اکثر سوشل میڈیا کا منفی استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا کام اسی کو سانجھے کے محاورے کے برعکس ہر فرد اپنے کام، ذمے داری اور فرض کو چھوڑ کر دوسروں پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے لوگ اکثر سستی شہرت کے لیے منفی اقدامات کو فروغ دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے ذریعے جہاں سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے وہیں مذہب جیسے حساس اور اہم موضوع کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر مکروہ عناصر نے عام افراد کی برین واشنگ کرکے ان کو دہشت گردی کے بدترین واقعات میں استعمال کیا۔ سوشل میڈیا کا استعمال عام ہوا تو فتنہ فساد پھیلانے والوں کی ایک طرح سے لاٹری نکل آئی۔

پاکستان میں دہشت، انتہا پسندی، انتشار، فساد پھیلانے کے لیے دشمن نے اس کا بھرپور استعمال کیا دنیا کے باقی ملکوں کی نسبت پاکستان میں سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کا معقول انتظام نہ ہونے کے باعث دشمن کو اپنے مذموم مقاصد میں بڑی کامیابیاں ملیں اور رہی سہی کسر پاکستان میں بیٹھے ان کے ایجنٹ عناصر نے پوری کر دی۔

دشمن کو بخوبی اندازہ تھا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے برعکس مذہب جیسے حساس مسئلے پر فوری رد عمل سامنے آئے گا چنانچہ ملک میں کئی ایسے واقعات آپ کے سامنے ہوں گے جہاں جھوٹی افواہ پر لوگ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے، کسی جگہ پر لوگوں نے جھوٹی افواہ پر مشتعل ہوکر بے گناہ افراد کو مار ڈالا یا زخمی کر دیا اور کئی سچے واقعات کو سوشل میڈیا کے ذریعے غلط رنگ دے کر مجرموں کو بچا لیا گیا۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد وزیرستان میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کیے تو دشمن نے بیرون ملک میں بیٹھے زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے آپریشن کو غلط رنگ دے کر دنیا میں امریکی دہشتگردی کی تصاویر پھیلا کر پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا اور آج تک دشمن پاکستان کے محافظوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی ناکام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ایک بلاگر کی موت پر حبیب جالب کا شعر یاد آگیا

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر گزشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ سیاسی مخالفین اینکر، کالم نگار یا اخبار خرید کر اپنے موقف کو پھیلانے کی کوششوں میں اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ خرید کر اپنے موقف کو پھیلا رہے ہیں، وہی دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اپنے ملک میں بیٹھا ففتھ جنریشن وار تیز کر رہا ہے۔ اس جنگ میں اپنی مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈے کے منہ توڑ جواب دیجیے۔ ملک مخالف سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر محب وطن افراد کے ساتھ شئیر کیجیے۔ تنقید کیجیے۔ والدین کو اپنے بچوں پر بہت نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا بچہ کن موضوعات پر بحث کر رہا ہے، کن کوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہا ہے۔ خدارا اپنے عزیزوں کو غلط ہاتھوں میں استعمال ہونے سے بچائیے۔



Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?