ایٹمی بمباری کی یاد

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,143
1,313
Lahore,Pakistan
ایٹمی بمباری کی یاد
115016


عامر بن علی

اگست کا مہینہ جاپان میں مرنے والوں کو یاد کرنے کا مہینہ ہے۔ یہاں ماہ اگست میں جو شخص جس علاقے سے بنیادی تعلق رکھتا ہو، واپس اپنے عزیزوںکی قبروں پر حاضری اور دیکھ بھال کے لئے جاتا ہے۔ جاپانی قبرستانوں کو آپ کنکریٹ کا قبرستان کہہ سکتے ہیں۔کنکریٹ کے فرش پرقدِآدم اونچائی اور ایک مربع میٹر رقبے میں قبر کا پتھر سے تراشیدہ تعویذ ہوتا ہے۔ قبر کو سمادھی کہنا زیادہ مناسب ہوگا،کیونکہ مردے کو جلانے کے بعد اس کی استھیاں اور باقیات ایک چھوٹے مٹکے میں بندکرکے اس میں رکھی جاتی ہیں۔ ہرخاندان کی ایک ہی سمادھی ہوتی ہے، جس میں ہر مرنے والے کا مٹکا رکھا جاتا ہے۔ سکول کے بچوں کو پورا مہینہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ دفاتر میں کیلنڈر کی تو کوئی چھٹی نہیں ہوتی لیکن ہر ادارہ اپنی سہولت کے مطابق چار، چھ دن یا پھر ہفتہ بھرکی چھٹیاں مناتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں میں جانے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ روایتی لباس میں ملبوس علم وطبل بردار نوجوان جلوس نکالتے ہیں، بستی بستی ، نگرنگر نکلنے والے ان جلوسوںکا رنگ تعزیت کی بجائے عرس کا ہوتا ہے۔ اس تفاوت کی وجہ موت اور حیات کا مذہبی تصورہے۔ جنگ عظیم دوم کے آخری دنوںمیں،سن1945میں اسی اگست کی چھ تاریخ تھی،جب ہیروشیماپر ایٹم بم گرایاگیا۔ اندازاً سترہزارلوگ چند سیکنڈمیں اور ایک لاکھ چالیس ہزارانسان چند دن میں اس ایٹم بم سے ہلاک ہو گئے۔تین لاکھ کی آبادی والے اس شہر میںایٹمی تابکاری کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔کئی دہائیوں بعدبھی پیدا ہونے والے کئی بچے اسی وجہ سے معذورپیدا ہوتے رہے۔سارا شہر جل کر زمین بوس ہو گیا۔اس مرگِ انبوہ کی نشانی کے طور پر ایک ادھ جلی عمارت کو محفوظ کرکے وہاں امن میوزیم بنا دیا گیا ہے۔اسے ایٹمی گنبد کہتے ہیں۔تین دن کے وقفے کے بعدامریکی صدر ہیری ٹرومین کے حکم پر صنعتی شہر ناگاساکی میں دوسرا ایٹم بم پھینکاگیا۔چشم زدن میں تقریباً ایک لاکھ شہری جان کی بازی ہار گئے۔ان شہروں کو ایٹمی اسلحے سے نشانہ بنانے،جسے اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے’’سوپرویپن‘‘کا نام دیا تھا،ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہ دو شہر ایسے تھے جن میں کوئی بھی امریکی فوجی جنگی قیدی نہیں تھا۔چھ اگست کوہیرو شیما پر گرائے گئے ایٹم بم کانام’ ’ لٹل بوائے‘‘ رکھا گیا تھا۔جس نے مشروم کی شکل کا ایٹمی بادل پیداکرکے دنیا میں ایٹمی اسلحے کے حصول کی دوڑ کا اعلان کردیا۔ناگا ساکی پر نو اگست کو پھینکے گئے ایٹم بم کو ’’فیٹ مین‘‘یعنی موٹے آدمی کا نام دیا گیا تھا۔ان ناموں سے امریکیوںکی حسِ مزاح اور بذلہ سنجی کے علاوہ بے حسی کابھی اندازہ ہوتا ہے۔ پندرہ اگست 1945کوجاپانی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے،عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اگرایٹم بم کا استعمال نہ بھی کرتا تب بھی جاپان ہتھیار ڈال دیتا،چونکہ یورپ میں اس کا اتحادی جرمنی مئی کے مہینے میںشکست کھا چکا تھا،اور وہاں جنگ اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ایٹمی بمباری سے شائد1941میںامریکی بندرگاہ پرل ہاربرپرجاپانی حملے کابدلہ لینامقصودتھا۔یہ حملہ امریکہ کی جنگ عظیم دوم میں شمولیت کی وجہ بنا۔اس سے پہلے جنگ میںشمولیت کے بارے میں امریکی عوام اوراسٹیبلشمنٹ کی رائے منقسم تھی۔امریکی صدرٹرومین پرتنقید کی جاتی ہے کہ گنجان آباد شہروںپر ایٹم بم گرانااس کی غلطی تھی۔جاپان جزائر پر مشتمل ہے۔اس کی ناکہ بندی ہوسکتی تھی۔اگر ایٹمی ہتھیار کا استعمال ناگزیرتھاتوپھر کسی ویران یا کم آبادی والے علاقے میں استعمال کر لیتے۔تجزیہ کار کہتے ہیںکہ امریکی ایٹمی بمباری کاایک مقصد سوویت یونین کو متنبہ کرنا بھی تھا۔کہ امریکہ عسکری طور پر کتنا آگے جاچکا ہے۔اسٹالن کی حوصلہ شکنی بھی مقصود تھی۔مگر دو ارب ڈالر خرچ کرکے بنائے گئے ان ایٹمی ہتھیاروں کی بمباری سے سوویت یونین اورجوزف اسٹالن کاحوصلہ تو نہ ٹوٹ سکاالبتہ کرّہ ارض پر ریاستوںکے درمیان ایٹمی ہتھیاروںکے حصول کی ایک نہ ختم ہونے والی خطرناک دوڑ ضرورشروع ہوگئی۔ چھ اگست 1945کی صبح آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پرہیروشیماپر گرنے والے ایٹم بم نے دنیا میںہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنگ کا تصورہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ستر سال بعد اسی دن ،اسی وقت پراسی جگہ جاپانی وزیراعظم نے یادگاری تقریب سے خطاب کیا۔ایٹم بم گرنے کی جگہ پرامن پارک قائم ہے۔جہاں اس تقریب میںوزیراعظم کے علاوہ دنیا بھر سے آئے سفارت کاروںاور عام شہریوںنے شرکت کی۔اس مرگِ انبوہ کے عینی شاہدین بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔شرکاء میںجاپان میں امریکی سفیراور سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی بیٹی کیرولین کینیڈی بھی شامل تھی۔ہلاک شدگان کی یادگار پر پھول چڑھائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔یہی عمل تین دن بعدنوتاریخ کو ناگاساکی میں دہرایا گیا۔نو اگست کی تقریب میںوزیراعظم اور دیگر مقررین کے خطاب کا موضوع دنیامیںامن کاحصول اور ایٹمی اسلحے کا خاتمہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم میںکس حکمران کا کتنا قصورتھا؟اور کون سی ریاست کتنی قصوروار تھی؟اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔شائد ناممکن ہی ہوگا۔کیونکہ جنگ میںتو پہلی موت ہی سچائی کی ہوتی ہے۔اس وقت کا جاپان مشرقِ بعید میں جارحیت کا مرتکب تھا۔نوآبادیاں قائم کررہا تھا،دیگر بھی ایسے بہت سے امور میں ملوث تھاجن کی توجیح پیش نہیں کی جاسکتی۔امریکہ کی جانب سے مگرلاکھوںمعصوم لوگوں کو ایٹمی شعلوں میں جلا کر بھسم کردیناایک ایسا عمل ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔مورخ اسے ظلم کے علاوہ کسی دیگر نام سے یادنہیں کرے گا۔میری دعا ہے کہ کسی بستی کے لوگوںکو کبھی ایسا سانحہ نہ دیکھنا پڑے جیسا گزشتہ صدی میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے لوگوں نے دیکھا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?