اہم ترین فیصلوں پرعمل کا آغاز, مصباح الحق نے مستقبل کی پلاننگ شروع کردی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,480
5,522
1,313
Lahore,Pakistan
اہم ترین فیصلوں پرعمل کا آغاز, مصباح الحق نے مستقبل کی پلاننگ شروع کردی
115894

ٹیسٹ بیٹسمین اظہرعلی سے طویل میٹنگ میں انہیں ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا مشورہ دے دیا،سابق ایکروزہ کپتان نے سوچ و بچارکیلئے وقت مانگ لیا ہیڈ کوچ کی تجربہ کار کرکٹر سے تینوں فارمیٹس کیلئے کپتانوں کی تقرری سمیت دیگر معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت،چیف سلیکٹر کا اسلام آباد یونائیٹڈ سے معاہدہ موضوع بحث
کراچی(اسپورٹس ڈیسک)اہم ترین فیصلوں پر عمل کا آغاز کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے مستقبل کی پلاننگ شروع کردی، ٹیسٹ بیٹسمین اظہرعلی سے طویل میٹنگ میں انہیں ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا مشورہ دے دیا،سابق ایکروزہ کپتان نے سوچ و بچارکیلئے وقت مانگ لیا،ہیڈ کوچ کی تجربہ کار کرکٹر سے تینوں فارمیٹس کیلئے کپتانوں کی تقرری سمیت دیگر معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی تاہم چیف سلیکٹر کا اسلام آباد یونائیٹڈ سے معاہدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم میں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی اہم ترین ذمہ داریاں سنبھالنے والے سابق قومی کپتان مصباح الحق نے اہم ترین فیصلوں پر عمل کا آغاز کرتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے اپنی منصوبہ بندی شروع کردی ہے اور ذرائع کے مطابق ان کی ٹیسٹ بیٹسمین اظہرعلی سے طویل میٹنگ ہوئی ہے جس میں انہوں نے سابق ون ڈے کرکٹر کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایکروزہ میچوں سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اظہرعلی پچاس اوورز کے فارمیٹ میں ٹیم کیلئے قاتلانہ اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ اظہرعلی نے اس حوالے سے سوچ بچار کیلئے کچھ وقت مانگ لیا ہے جس کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپنے حالیہ بیانات میں اظہرعلی بارہا اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ان کا ون ڈے کرکٹ میں واپسی کا کوئی پلان نہیں ہے اور وہ صرف ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین کارکردگی پر متوجہ رہنا چاہتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران مصباح الحق نے سینئر بیٹسمین اظہرعلی سے قومی ٹیم کے کئی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی ہے جس میں تینوں فارمیٹس کیلئے کپتانی کا اہم ترین معاملہ بھی شامل ہے اور اندازہ یہی ہے کہ اظہرعلی کو آنے والے عرصے میں ٹیسٹ کپتانی دی جاسکتی ہے جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کیلئے بھی علیحدہ کپتانوں کی تقرری پر غور کیا جا رہا ہے جو بابر اعظم اور سرفراز احمد ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ34سالہ اظہرعلی نے جنوری دوہزار اٹھارہ میں نیوزی لینڈ کیخلاف ڈوینڈن میں اپنا آخری ون ڈے کھیل کر اس فارمیٹ سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جس کا مقصد سرخ بال کی کرکٹ کو زیادہ توجہ دینا تھا لیکن اس تاثر کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اظہرعلی کی ایکروزہ کرکٹ سے علیحدگی میں ان کی سست روی کا بھی اہم کردار تھا اور انہیں اس طرز کی کرکٹ کیلئے ناموزوں تصور کیا جانے لگا تھا ۔مصباح الحق خود بھی اپنے کیریئر کے دوران اسی سست روی کے باعث تنقید کا نشانہ بنائے جاتے رہے لیکن انہوں نے مستقبل کی پلاننگ کرتے ہوئے جو پہلا قدم اٹھایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں 80ئکے عشرے کی روایتی کرکٹ کھیلنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کی حکمت عملی سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو گئے ہیں جنہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی بیان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی فائنل میں رسائی کو سراہنے سے گریز نہیں کیا تھا۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مصباح الحق کا اسلام آباد یونائیٹڈ سے معاہدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے حالانکہ ابھی اس بات کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ انہیں فرنچائز میں کیا ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔تین سال تک اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے مصباح الحق نے بطور کپتان فرنچائز کو پہلا پی ایس ایل ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن پھر انہوں نے پشاور زلمی کی جانب سے چوتھا ایڈیشن بطور کھلاڑی اور مینٹورکھیلا مگر اس بار انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے بطور کھلاڑی کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا۔مفادات کے تصادم کے تحت ان کی پی ایس ایل فرنچائز سے رفاقت پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں لیکن مصباح الحق کا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص چاہے تو کسی بھی جگہ بددیانتی کر سکتا ہے لیکن اسی معاملے کو مثبت انداز سے دیکھا جائے تو ان کی پی ایس ایل کی فرنچائز میں موجودگی انہیں بعض کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرے گی جو ان کے ساتھ یا خلاف کھیل رہے ہوں گے ۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?