امیر خسرو کی اسیری

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,905
1,829
1,313
Lahore,Pakistan
امیر خسرو کی اسیری
114565


معین الدین عقیل

امیر خسرو کے ساتھ اسیری کا حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ شہزادہ سلطان محمد کی سرپرستی میں تھے اور اس کے ساتھ مغلوں کے خلاف ایک مہم میں شریک تھے۔ اس مہم میں شہزادہ سلطان محمد جاں بحق ہو گیا لیکن خسرو دیگر شرکائے لشکر کے ساتھ قیدی بنا لیے گئے۔ خسرو شہزادہ سلطان محمد کے ساتھ 1279ء میں وابستہ ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ وابستگی سے قبل وہ بغرا خاں کے ساتھ ’’سامانہ‘‘ میں اس کے ندیم خاص کی حیثیت سے رہتے تھے۔ اسی سال بغرا خاں اپنے والد بلبن کے ساتھ طغرل کی بغاوت کو دبانے کے لیے لکھنوتی گیا تو خسرو بھی اس کے لشکر میں موجود تھا۔ جب لکھنوتی پہنچے تو یہ جگہ ان کو پسند نہ آئی۔ بغرا خاں نے بعد میں ان کو روکنا چاہا لیکن انہوں نے وہاں رکنا پسند نہ کیا اور بلبن کے ساتھ دہلی واپس چلے آئے۔ لکھنوتی کی مہم میں بلبن کو جو فتح و کامرانی حاصل ہوئی، اس کا جشن دہلی میں دھوم دھام سے منایا گیا۔ اس موقع پر باپ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرنے کے لیے شہزادہ سلطان محمد بھی، جو اس وقت ملتان کے اقطاع میں متمکن تھا، قیمتی تحائف لے کر ملتان سے دہلی آیا۔ شہزادہ سلطان محمد، سلطان غیاث الدین بلبن کا بڑا بیٹا تھا۔ بلبن کو اپنے بیٹوں کی دینی اور دنیاوی تعلیم کا بڑا خیال رہا۔ اس کی توجہ سے اس کے بڑے بیٹے سلطان محمد میں گونا گوں اوصاف پیدا ہو گئے۔ وہ نہ صرف اپنی شجاعت، نبردآزمائی، تدبر اور بصیرت کے لیے سب کی نظروں میں مقبول تھا، بلکہ اپنے عادات و اطوار کے لحاظ سے بھی خاص و عام اور مشائخ و علما سب کی نظروں میں محبوب تھا۔ سلطان بلبن بھی اس کو اس کے پسندیدہ خصائل کی وجہ سے بہت ہی عزیز رکھتا تھا۔ خود خسرو کے خیال میں سخن فہمی، باریک بینی، ذوق صحیح اور متقدمین اور متاخرین کے اشعار کے حافظے میں رکھنے میں شہزادے سلطان محمد جیسا انہوں نے کسی اور کو نہ پایا۔ شہزادے کا علمی دربار ملتان میں لگتا تھا اور دہلی میں بلبن کے دربار میں علما و فضلا کا بڑا اجتماع ہوتا تھا۔ لیکن ان میں سے بعض اہل علم شہزادہ سلطان محمد کی فیاضی اور علم دوستی کا سن کر دہلی سے ملتان منتقل ہو گئے۔ یہ علم پرور اور عالم شناس شہزادہ خسرو کا کلام پہلے ہی سن چکا تھا۔ دہلی کے قیام کے دوران خسرو کا تازہ کلام سن کر وہ بے حد محظوظ ہوا۔ چنانچہ خسرو کو خلعت و انعام اور اکرام سے نوازا اور پھر اپنا ندیم خاص بنا لیا۔ جب ملتان واپس جانے لگا تو ان کو ساتھ بھی لیتا گیا۔ امیر حسن سجزی بھی، جو خسرو کے قریبی دوست بھی تھے، شہزادے کے ساتھ گئے۔ خسرو شہزادے کے مصحف دار اور حسن سجزی دواتِ دار مقرر ہوئے۔ پانچ سال تک ان دونوں جلیل القدر شاعروں نے شہزادے کی بزم کو اپنی شاعری سے بہت بارونق بنائے رکھا۔ شہزادہ محمد کی عنایتوں کے طفیل خسرو کی زندگی کا یہ دور مسرتوں سے معمور رہا۔ لیکن خسرو کو شہزادہ محمد کی سرپرستی سے جلد ہی محروم ہونا پڑا۔ 1284ء میں چنگیز خانی مغلوں نے التمیز خاں کی قیادت میں حملہ کیا اور دیپال پور اور لاہور کو تاراج کرتے ہوئے ملتان کی جانب بڑھے۔ شہزادہ محمد نے ملتان سے نکل کر لاہور کے قریب دریا کے کنارے مقابلہ کیا، شکست دی اور تعاقب میں آگے بھی بڑھا۔ ایک مقام پر شہزادہ محمد دریا کے کنارے پانچ سو لشکریوں کے ساتھ ٹھہرا کہ یکایک دو ہزار مغل کمین گاہوں سے نکل کر لشکر پر حملہ آور ہوئے، جس کے نتیجے میں شہزادہ محمد جاں بحق ہو گیا۔ اس لشکر میں خسرو اور حسن سجزی بھی اس کے ہم رکاب تھے۔ حملہ آور ان دونوں کو قید کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ خسرو نے اس واقعے کا ذکر اپنے ’’دیوان غرۃ الکمال‘‘ کے دیباچے میں اور اپنی اس گرفتاری کا حال اپنے قصیدے ’’حکم الحکم‘‘ میں بہت ہی پُردرد انداز میں تحریر کیا ہے۔
 
Top
Forgot your password?