اطمینان

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
4,164
4,141
1,313
Lahore,Pakistan
اطمینان


شہروں میں 83فیصد اور دیہات میں 86فیصد مرد اپنی زندگی سے کسی حد تک مطمئن ہیں۔ اگر ہم پنجاب کے غریب ترین خاندانوں کا جائزہ لیں تو وہاں بھی 77فیصد لوگ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں اللہ کا بڑا کرم ہے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی ہمت ، کوشش اور بساط سے بڑھ کر دیا ہے۔ ان لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جس کی دونوں ٹانگیں ایک فیکٹری میں برباد ہوگئیں۔ فیکٹری مالک نے رول نمبر 110کو فیکٹری سے اٹھا کر باہر پھنکوا دیا۔ مذکورہ فیکٹری میں نام نہیں رول نمبر چلتے تھے تاکہ کسی ادارے کو کسی شخص کی ملازمت کا کچھ پتہ نہ چلے۔ زخمی شخص سڑک پر کچھ دیر تڑپتا رہا پھر کسی اللہ کے بندے نے اسے ہسپتال پہنچا دیا۔ بہت خون بہہ چکا تھا۔ لہٰذا دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔

مجھ پریہ راز اس وقت کھلا جب میں ایک رکشہ میں بیٹھنے کیلئے بھائو تائو کر رہا تھا۔ رکشہ ڈرائیور نے ایک جملے پر بات ختم کردی کہ اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے آپ جو دیں گے مجھے منظور ہوگا۔ وہ بہت مطمئن تھا۔ میں قدرے حیران ہوا کہ یہاں تو اربوں روپے کمانے والے کھربوں روپے کمانے کی دوڑ میں لگے ہیں ۔وہ مطمئن نہیں۔ اس ماحول میں یہ ایک رکشہ ڈرائیور کس طرح سے مطمئن ہے۔ میں رکشہ میں بیٹھ گیا۔

پھر اس سے پوچھا کہ وہ اتنا مطمئن اور خوش کیوں ہے۔ کہنے لگا یہ سامنے دیکھیں کیا ہے؟۔ میں نے دیکھا ،دو بیساکھیاں پڑی تھیں۔ پھر اس نے اپنا وہ واقعہ سنایا جو میں اوپر بیان کرچکا ہوں۔ کہنے لگا کہ فیکٹری مالکان نے مجھے باہر پھنکوا دیا مگر اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔

ہسپتال میں جب میری آنکھ کھلی تو مجھے جسم کے نچلے حصے میں تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو دونوں ٹانگیں گھٹنے کے نیچے سے غائب تھیں۔ سامنے نرس اور ڈاکٹر کھڑے تھے۔ ایک اور آدمی بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ بے ہوش تھے ، ہمیں مجبوراً دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں کیونکہ کچھ زہر جسم میں پھیلنے لگا تھا۔ پھر انہوں نے پاس ہی کھڑے تیسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا کہ آپ کے علاج معالجے کا خرچہ انہو ںنے ادا کیا ہے۔ اس آدمی نے مجھ سے پوچھا کہ اب آپ کیا کریں گے ؟میں نے کہا کہ ڈرائیونگ جانتا ہوں رکشہ چلا سکتا ہوں۔

یہ بیساکھیاں اور رکشہ اسی شخص نے لے کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے مجھ سے جو کچھ چھینا دوسرے آدمی نے وہ سب کچھ واپس کر دیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر خوش کر دیا یہ اللہ کا انصاف ہے ۔

اس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ غریب ترین آدمی بھی اگر اپنے سے نیچے کی طرف دیکھے تو ساری خوشیاں خود بخود اس کی جھولی میں آن گرتی ہیں، اسے رات کو میٹھی نیند آتی ہے اور صبح دماغ روشن رہتا ہے۔ اسی لیے غریب ترین طبقے کے بھی 6فیصد لوگ انتہائی خوش اور 77فیصد لوگ مطمئن اور کسی حد تک خوش ہیں۔ اب ہم اگر ان غریب ترین 20فیصد سے اوپر کے 20فیصد کا جائزہ لیں تو ان میں انتہائی خوش مردوں کا تناسب 6.5فیصد ہے یہ مڈل کلاس سے 0.2فیصد کم ہے۔ مڈل کلاس کے 87فیصد اور 20فیصد غریب ترین طبقے کے بعد اس کے اوپر کے 20فیصد غریب خوش ہیں۔ امراء میں یہ تناسب 7.3فیصد ہے۔ البتہ 9.5فیصد مرد بہت مطمئن ہیں۔
 
Top
Forgot your password?