کیا نوبت فاقوں تک آکر دم لے گی؟ کالم ۔ زبیر ا&

Discussion in 'Pakistan Hamari Jaan!!' started by imkanaat, May 16, 2008.

  1. imkanaat

    imkanaat
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    May 15, 2008
    Messages:
    41
    Likes Received:
    37
    کیا نوبت فاقوں تک آکر دم لے گی؟ کالم ۔ زبیر احمد ظہیر

    غر بت میں کمی کیسے ہوگی؟ اس سوال سے ہماری قومی ترقی جڑی ہوئی ہے ۔ قوموں کے خوش حال مستقبل کا بچت سے گہرا تعلق ہوتا ہے ۔پیٹ کاٹ کر یہ دولت جوڑی جاتی ہے اور پھر آڑے وقتوں کا م لائی جاتی ہے،مکان خریدا جاتاہے یا بچوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں ،یہ دونوں کام ایسے ہیں جن کا کرنا ضروری ہے اور ان پر خرچہ بھی زیادہ آتا ہے ۔
    یہ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں ،آج بھی پیدائش سے ہی بچوں کے نام سے پس انداز کرنے والے دور اندیشوں کی کمی نہیں اور پھر وہ بچائی ہوئی رقم ان بچوں کی پڑھائی ،گھر بنانے اور شادی بیا ہ پر خرچ کر لی جاتی ہے پس انداز کرنے کا یہ سلسلہ اس وقت بآسانی انجام پاتا ہے جب آمدنی خاطر خواہ ہو آج ہمیں کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے یہ آج سے بیس تیس سال پہلے شروع ہوئی لہذامجموعی طور پر بچت میں کمی آنا شروع ہوگئی تیس سال پہلے کا وہ دن اور آج کا دن ہماری غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلاگیا اوربچت کے رواج میں کمی آتی گئی اب اسکی شرح میں کئی سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے گرانی اب یہ نوبت لے آئی کہ اخراجات زیادہ ہوگئے ہیں اور آمدن کم ہے لہذا کمانے والی جان قرضوں میں جکڑ گئی ہے دوہری ملازمتوں کے باوجودبھی بجٹ چلانامشکل ہوگیا ہے ،اس صورت حال میں بچت کر نا ناممکن ساہوکر رہ گیا ہے اب دووقت کی روٹی پوری ہوجائے شکر بجالایا جاتا ہے۔
    لہذا آج ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی بن گیا ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ہماری آبادی کی غالب اکثریت متوسط طبقے پر مشتمل ہے اس درمیانے طبقے کو مہنگائی نے سب سے زیادہ متاثر کردیاہے درمیانے درجے کا یہ سفید پوش مسائل سے بھاگ کر کسی فٹ پاتھ بیٹھ سکتا اور نہ ہی یہ راتوں رات امیر بن سکتاہے اس نے بیک وقت اپنی غربت کو بھی چھپانا ہے اور سفید پوشی کے لیے امیروں کی نقالی بھی کر نی ہے یہ فٹ پاتھ پر بے سدھ پڑا کوئی فقیر ہے نہ ایوان صدر کا محلے دار غربت اورمال داری کی ان دومثالوں کے برعکس متوسط آدمی نے اپنی تنگ دستی کو بھی دبانا ہے ، خاندان اورمعاشرے میں اپنی ناک کٹنے سے بھی بچانی ہے لہذا مہنگائی اس متوسط آدمی کے بوجھل کندھوں پر مزید بوجھ بن گئی ہے متوسط طبقہ ہماری مجموعی آبادی کی غالب اکثریت ہے ملکی ترقی میں اس کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔
    دووقت کی روٹی کے محتاج کو اپنی ایک وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے اس سے ملکی ترقی کی امید نہیں باندھی جاسکتی ،ساہوکارانہ زہنیت کے سرمایہ دارگنتی کے ہونگے یہ مٹھی بھر سرمایہ دار ،جاگیردار ملکی ترقی سے زیادہ اپنی دولت دوگنی کرنے کی دھن میں مگن رہتے ہیں لہذاملکی ترقی آبادی کی اس متوسط اکثریت کی مرہوں منت ہوتی ہے غربت ،سرمایہ داری ہویا جاگیرداری ان میں سے کسی ایک کو بھی مکمل ختم نہیں کیا جاسکتا ان زمینی حقائق میں ملکی ترقی کی امید متوسط طبقے کے اجتماعی کا م سے پوری ہوتی ہے آج اس غالب آبادی کو مہنگائی نے بری طرح متاثر کردیا ہے جس کی وجہ سے متوسط آدمی تیزی سے غریبی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔
    ہمارا ملک آج جس مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے اس سے متاثر نہ ہونے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے 16کروڑ آبادی کے اس ملک میں 40 ارب پتی خاندانوںسے وابستہ اہل ثروت کی تعدادکروڑوں میں نہیں لاکھوں میں ہے ان کی تعداد مجموعی آبادی میں 3فیصد سے زیادہ نہیں ۔پیٹرول گیس اوربجلی سے لیکر خوردنی اشیاء تک ان میں کوئی شے ایسی نہیں جنکی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ نہ ہوا ہو یہ اشیاء ہر شہری کی ضرورت کی بنیادی اشیاء ہیںلہذا مہنگائی پوری قوم کامشترکہ مسئلہ ہے متوسط آدمی جسے عرف عام میں عام آدمی بھی کہا جاتا ہے اس مہنگائی کی مسلسل زد میں ہے آٹے کی قلت اور بحران نے اس جلتی پر تیل چھڑکا،آٹے کے منہ بولے دام لگے یوں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ مہنگائی فاقوں تک نوبت پہنچائے یہ ضروری نہیں لیکن آٹے کا بحران ضرور فاقے کرواتا ہے۔ ایک انتہائی غریب آدمی کو اپنی غربت چھپانے کی فکر ہوتی ہے نہ امیر کو مال داری جتلانے کی مجبوری ہوتی ہے مگر متوسط آدمی کو اپنے محدود وسائل سے ڈھیروں مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے اس لیے اسے اپنے وسائل کی کمی کو چھپانا ہوتا ہے اورمعاشرے کے سارے رواجوں پر بھی چلنا ہوتا ہے اس کمر توڑگرانی نے آج متوسط آدمی کو انہی معاشرتی روایات کا ساتھ دیتے دیتے غریب بنانا شروع کردیا ہے ۔
    آج کی تیزرفتار نقالی نے آرائشی فضول خرچی کوضرورت بنا دیا ہے ہر متوسط گھر کی اس ضرورت نے قسطوںکے کاروبار کو رواج دیا جس نے متوسط خاندانوں کو مقروض بنادیاہے ۔کریڈٹ کارڈ سے بنکوں کی مہنگی گاڑیوںکی لیز تک ،ہاوسنگ اسکیموں سے ہاوس بلڈنگ کی نسل در نسل در قسطوں تک عام آدمی قرضوں میں ڈوبتا چلا گیاہے متوسط آدمی کوبہتر مستقبل کی خاطر اپنے بچوںکو معیاری تعلیم دلانی ہوتی ہے معیار کی اس تقسیم نے تعلیم کو مہنگی مجبوری بنادیاہے متوسط آدمی کو اپنے بہن بھائیوںکی ضرورتوںکا بھی خیال رکھنا ہوتاہے مشترکہ خاندانی نظام اوروسیع قریبی رشتہ داروں کی روایات میں ان ضرورتوں کی امید معقول روزگار رکھنے والے سے لگائی جاتی ہے اس امید پر متوسط آدمی کو پورا اترنا پڑتا ہے اس متوسط آدمی پر اپنے بچوںکی شادیوں کی ذمے داری بھی ہے اسے بچیوں کے مناسب رشتوں کا مسئلہ بھی در پیش ہے مناسب رشتوں کامعاملہ تنہا ہماراہی نہیں پورے عالم اسلام کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ہمارے ہاں بچیوں کے مناسب رشتوں کا مسئلہ اتناسنگین نہیں جتنا مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے وسائل کی اس کمی نے منظر نامہ اتنا تبدیل کردیا ہے کہ یوں محسوس ہوتاہے جیسے بچیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیاہے اتنا ضرور ہے کہ پہلے کئی خاندانوں میں خواتین کا قحط ہوا کرتا تھا اب وہ نہیں رہا ۔
    حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری اور مالی وسائل کی کمی نے بچوں کے والدین کی ہمت ہی توڑ دی ہے جس سے مناسب رشتوں کا فقدان محسوس ہونے لگا ہے ملک کی غالب اکثریت کی آمدنی 7 ہزار روپے سے کم ہے اور نت نئی بیماریوں، بڑھتے ہوئے ٹریفک یادیگر حادثات کی صورت میںآنے والے بے حساب اخراجات کی اچانک افتاد ایسی ہے جسکا کوئی وقت مقرر نہیںان مصائب اور کئی خاندانوںکی کفالت کرنے والوں کے لیے50 ہزار سے ایک لاکھ تک کی خاطرخواہ ماہانہ آمد ن بھی ناکافی ہوکر رہ گی ہے ان حالات نے متوسط طبقے کی خوشی تہس نہس کردی ہے ۔
    ہمارے ہاں غربت میں جو اضا فہ ہورہا یہ غربت پل بھر میں جنم نہیں لیتی یہ آج کی مہنگائی میں متوسط آدمی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ادھر غربت میں اضافہ ہوتا ادھر ایک متوسط آدمی کی کمی ہوجاتی اس صورت حال نے متوسط آدمی کو بتدریج غریب بنانا شروع کر دیا ہے ان حالات میں اچھے حال ،بہتر مستقبل کی جستجو میں مگن ایک عام متوسط آدمی جس کا گھریلوبجٹ کنٹرول سے باہر ہوگیا ہے اس کے لیے زمین کی خریداری ، مکان کی تعمیراوربچوں کی شادیوںکے لیے پس انداز کرنا ناممکن ساہوکر رہ گیا ہے بچوںکا بہتر مستقبل والدین کی ایک ایسی مجبوری ہے جس کی آغوش سے جرائم کی درجنوں اقسام جنم لیتی ہیں جرائم کا کہیں نہ کہیں تعلق اپنے پیٹ ،زیر کفالت چھوٹے بہن بھائیوں،والدین اوربچوںکے پیٹ سے ہوتا ہے اولاد کی محبت سے ایک متوسط آدمی کوقطعی طور پر الگ نہیںکیا جاسکتا لہذا بچوںکے بہتر مستقبل اور شادی بیا ہ کے لیے اس مہنگائی میںپس اندازکرنے کے لیے ایک وقت پیٹ کاٹنا آج مجبوری بن گیا ہے اور یوں بچت کرنے والے متوسط آدمی کی نوبت فاقوںتک پہنچ گئی ہے ہم متوسط آدمی کواس پریشانی سے نکالے بغیرغربت کے خاتمے کا کوئی دعوی نہیں کرسکتے اورمتوسط آدمی کو غربت کی قبرکے کنارے سے واپس لائے بغیر اس سے ملکی ترقی میںفعال کردار کی امید نہیں لگاسکتے کسی ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال تشویشناک ہے ۔ملک ترقی یافتہ ہویا ترقی پذیر اس کا دارومدار متوسط آدمی پر ہی ہوتا ہے ۔
     
  2. Waqar Hussain

    Waqar Hussain
    Expand Collapse
    M@In ALbela M@I M@sTana
    VIP

    Joined:
    Aug 12, 2008
    Messages:
    26,932
    Likes Received:
    5,548
    jaab taak humare leader zinda hai aur jaab taak yeh log gareeb logon k barey main nahi sochai gai kuch nahi honay walay gareeb aur gorbaat ka
     
  3. RedRose64

    RedRose64
    Expand Collapse
    Co Admin

    Joined:
    Mar 15, 2007
    Messages:
    42,742
    Likes Received:
    28,180
    {(goodpost)}thxz 4 sharing
     
  4. imkanaat

    imkanaat
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    May 15, 2008
    Messages:
    41
    Likes Received:
    37
    thanks waqar bhai
     
  5. Waqar Hussain

    Waqar Hussain
    Expand Collapse
    M@In ALbela M@I M@sTana
    VIP

    Joined:
    Aug 12, 2008
    Messages:
    26,932
    Likes Received:
    5,548
    its okay janab
     
  6. imkanaat

    imkanaat
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    May 15, 2008
    Messages:
    41
    Likes Received:
    37
    thanks again
     

Share This Page