حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان اف&#15

Discussion in 'Islam' started by طارق راحیل, Aug 17, 2008.

  1. طارق راحیل

    طارق راحیل
    Expand Collapse
    Active Member

    Joined:
    Apr 9, 2008
    Messages:
    246
    Likes Received:
    189
    شہر بخارا دریائے جیحون کی زیریں گزرگاہ پر واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 722فٹ بلند ایک بڑے نخلستان کا حصہ ہے اس مردم خیز علاقے سے علم وفن کی تاریخی شخصیات وابستہ ہیں۔ ماوراء النہر کے سر سبز شہروں میں بخارا کی شادابی بے نظیر اور فقید المثال ہے۔ قلعہ کی چھت سے اس کا نظارہ کریں تو وہ مرغزاروں اور ہریالی کی مسحور کن تصویر اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ درمیان میں بنے محلات پھولوں کے گھیرے میں حسنِ قدرت کا عظیم شاہکار دکھائی دیتے ہیں۔
    یہ ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ کی بات ہے جب بعد از نمازِ جمعہ اسماعیل نامی شخص کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رکھا گیا، بعد میں یہی بچہ چمنستانِ اسلام کا مہکتا ہوا پھول بنا اور امیر المؤمنین فی الحدیث کے عظیم لقب سے ملقّب ہوا۔ اس کا بچپن عجیب تھا، آغاز ہی میں والد نے داغِ جدائی دے کر یتیمی کا تاج اس کے سر پر سجایا اور چند دن بعد ہی بینائی نے تاریکی کا روپ دھار لیا۔ یہ حالت دیکھ کر ماں کا کلیجہ منہ کو آگیا اسے اپنے لختِ جگر کی یتیمی اور نابینا پن کے غم نے ہلکان کر دیا۔ وہ بے اختیار سجدے میں گری، مالکِ کونین کے سامنے دامن پھیلایا اور دعا کےلئے ہاتھ اٹھا دیئے دیکھتے ہی دیکھتے اﷲ رب العزت نے اس بچے کو بینائی عطا کر دی۔
    زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی وہ علمِ حدیث کا تڑپتا ہوا سیماب بن چکا تھا۔ وہ مکتب سے نکلا، محدثین کی جماعت پر طائرانہ نظر دوڑائی اور محدث داخلیؒ کے درس میں شریک ہو گیا۔
    امام داخلی ؒ مسندِ حدیث پر جلوہ افروز تھے، طلبہ کا جم غفیر سامنے تھا، امام صاحبؒ نے فرمایا:'' سفیان عن ابی الزبیر عن ابراھیم''اچانک ایک گوشے سے آواز بلند ہوئی ''ابو الزبیر لم یرو عن ابراہیم'' (ابو زیبر نے ابراہیم سے کوئی روایت نہیں فرمائی) استاد نے چہرہ اٹھایا، غور سے اس کی طرف دیکھااور طفلِ مکتب سمجھ کر ڈانٹ دیا۔'' آپ کے پاس اصل ہو تو مراجعت فرمالیں، میری بات معقول ہے'' دوبارہ کونے سے آواز ابھری، وہ سنجیدہ ہو گیا۔ امام ؒ گھر گئے اصل کو ملاحظہ فرمایا اور آکر گویا ہوئے : لڑکے اصل سند کیا ہے؟ اس نے عرض کیا''ھو الزبیر وھو ابن عدی عن ابراہیم''امام صاحب نے قلم سے اصلاح فرمائی اور ''صَدَقْتَ'' کا تمغہئ امتیاز جاری فرما دیا۔ اس وقت اس بچے کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔
    اس دور میں جب بغداد علم وفن کا گہوارہ تھا۔ وہاں محدثین کو معلوم ہوا کہ ایک ماہر فن انکے درمیان موجود ہے انہوں نے اس کا امتحان لینے کے لئے منصوبہ تیار کیا۔ دس ماہرین علمِ حدیث کا تقرر کیا گیا، انہوں نے اس کے سامنے دس دس احادیث پیش کیں۔ اس نے ہر حدیث کے جواب میں فرمایا: ''لاَ اَدْرِیْ'' (میں اس کو نہیں جانتا)۔ عوام الناس کو یہ خیال ہوا کہ وہ اس فن سے ناواقف ہے، مگر اہل فن سمجھ گئے کہ حقیقت کیا ہے؟ اچانک اس نے اپنا رخ ممتحن حضرات میں سے ہر ایک کی طرف پھیرا اور کہا:'' آپ نے پہلی روایت یوں بیان کی تھی جو کہ غلط ہے اور صحیح یوں ہے''۔ اسی طرح وہ دس دس احادیث کی اصلاح کرتا چلا گیا۔ لوگوں کی عقلیں دنگ رہ گئیں۔ اور اہل فن کو اس کے کمال علمی کا معترف ہونا پڑا۔ دنیا اس بچے کو امام بخاری ؒ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ جو علمِ حدیث کے ماہر اور آسمانِ ذہانت کے درخشندہ ستارے ہیں یہ واقعہ سنتے ہی بے ساختہ پکار اٹھے تھے''تعجب اس بات پر نہیں کہ انہوں نے غلطی پہچان لی تھی کیونکہ وہ تو حافظ الحدیث تھے۔ ان کا کام ہی یہ تھا۔ حقیقت میں تعجب اس پر ہے کہ انہوں نے غلط احادیث ایک ہی بار ترتیب وار یاد کرلیں اور اسی ترتیب سے ان کو بیان فرما کر اصلاح بھی فرما دی''۔
    امام بخاریؒ سولہ سال کی عمر میں مشائخ بخارا سے استفادہ کے بعد والدہ اور بھائی کے ساتھ حجاز روانہ ہوگئے۔ وہاں دونوں کے ساتھ حج ادا فرمایا، اور انہیں واپس بھیجا اور خود حصولِ علم کی خاطر مکہ میں مقیم ہو گئے۔ مکہ مکرمہ میں ابو الولید احمد بن محمد ازرقی ، امام حمیدی، حسان ابن حسان بصری، خلاد یحی، اور ابو عبدالرحمن مقری رحمھم اﷲ سے دو سال تک علم حاصل کیا۔ اس کے بعد مدینہ منورہ میں عبد العزیز اویسی، ایوب بن سلیمان بن بلال اور اسماعیل بن ابی اویس رحمھم اﷲ سے خوب استفادہ کیا، اسی دوران قضایا الصحابہ والتابعین اور التاریخ الکبیر جیسی جلیل القدر اور عظیم پایہ کتب تصانیف کیں۔
    چند سال حجاز مقدس میں گزارنے کے باوجود آپ کی علمی پیاس ٹھنڈی نہ ہوئی تو بصرہ، کوفہ، بغداد، شام، مصر، بلخ، ہرات، الجزیرہ اور نیشا پور کو اپنی جولان گاہ بنا لیا۔ اس دوران آپ کو فاقے بھی برداشت کرنے پڑے، چالیس سال تک آپ سالن کا استعمال نہیں فرما سکے تھے۔ اسّی ہزار مشائخِ وقت اور جبالِ علم سے سماعِ حدیث کا عظیم تر فریضہ انجام دیا۔ ترک معاصی ومنکرات کے اہتمام کی وجہ سے اﷲ تعالی نے آپ کو بے نظیر قوتِ حافظہ عطا فرمائی تھی۔ آپ کی شخصیت میں علم کی پختگی، دین کی بیداری، حافظہ میں غیر معمولی قوت، سخت جانفشانی، طلب وجستجو، ذوق وشوق، ہمت کی بلندی، فقرودرویشی، وسعتِ معلومات، دقتِ نظر، اخلاص وتقوی، شب بیداری، آہِ سحر گاہی، حلیم طبع، اعراض عن الدنیا، سخا ودریا دلی اور تقدس وطہارت جیسی صفات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔
    آپ کے عظیم کارناموں میں سے'' صحیح البخاری'' کی تصنیف سب سے عظیم کارنامہ شمار کیا جاتا ہے جس کو اﷲ تعالی نے شرف قبولیت سے نوازا جو محض ان کے تقوی واخلاص وللہیت کی بنا پر ہے۔ آج علماء اس کا درس دینے کو اور طلباء اس کا درس سننے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ باتفاق علماء بخاری شریف ''اصح الکتب بعد کتاب اﷲ'' (قرآن پاک کے بعد سب سے صحیح کتاب) ہے۔
    حکماء کا قول ہے ''بوئے گل کا باغ سے، روشنی کا آفتاب سے، اور انسان کا اس دنیا سے رخصت ہونا لازمی ہے''۔ اسی اصول کے پیش نظر آپ بھی علمِ حدیث کا خزانہ شرق وغرب میں بکھیر کر یکم شوال ۲۵۶ھ؁کو ملاقی ہو گئے۔
    دفن کے بعد آپ کی قبر سے خوشبونکلنا شروع ہوئی اور قبر کی سیدھ میں آسمان تک ایک روشن خط نظر آرہا تھا۔ لوگ ان کی قبر پر اندھا دھند ٹوٹ پڑے اور مخالفین نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ بھی آبدیدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ حاکمِ وقت نے جب یہ مناظر دیکھے تو قبر مبارک کے قریب حفاظتی انتظامات کر دیئے۔

    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    جان کہ منجملہء میخانہ مجھے

    مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے​
     
  2. nrbhayo

    nrbhayo
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    Nov 23, 2009
    Messages:
    111,083
    Likes Received:
    9,732
    nice..
     

Share This Page