تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا

Discussion in 'Ghamgheen Shayari' started by zero-knight, Jun 9, 2008.

  1. Dark

    Dark
    Expand Collapse
    Darknes will Fall
    VIP

    Joined:
    Jun 21, 2007
    Messages:
    28,805
    Likes Received:
    12,542
    تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
    بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا

    برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں
    وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا

    تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر
    جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا

    سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
    ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا

    میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی
    کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا

    کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں
    وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا

    بدن میں پھیل گیا شرخ بیل کی مانند
    وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا

    ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے
    کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا

    قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا
    بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا

    پروین شاکر

     
  2. nrbhayo

    nrbhayo
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    Nov 23, 2009
    Messages:
    111,083
    Likes Received:
    9,732
    khoob....
     
  3. Entertainer

    Entertainer
    Expand Collapse
    Senior Member

    Joined:
    Jul 10, 2008
    Messages:
    536
    Likes Received:
    563
    very nice . .. . . .
     

Share This Page